🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
245. باب في الساعة التي في يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن کی قیمتی گھڑی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 495
495 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: فيهِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا: ”اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے۔“ ہاتھ کے اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 495]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 37 باب الساعة التي في يوم الجمعة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
246. باب هداية هذه الأمة ليوم الجمعة
باب: جمعہ کا دن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ میں آنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 496
496 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ كُلُّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتينَا مِنْ بَعْدِهِمْ؛ فَهذَا الْيَوْمُ الَّذي اخْتَلَفُوا فِيهِ؛ فَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم (دنیا میں) تمام امتوں کے آخر میں آئے لیکن (قیامت کے دن) تمام امتوں سے آگے ہوں گے، صرف اتنا فرق ہے کہ انہیں کتاب پہلے دی گئی اور ہمیں بعد میں ملی، اور یہی وہ (جمعہ کا) دن ہے جس کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا، یہودیوں نے تو اسے اس کے دوسرے دن کر لیا اور نصاریٰ نے تیسرے دن (اتوار کو)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 496]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
247. باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس
باب: نمازجمعہ کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 497
497 صحيح حديث سَهْلٍ، قَالَ: مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلاَ نَتَغَدَّى إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم دوپہر کا سونا اور دوپہر کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد رکھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 497]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 40 باب قول الله تعالى: (فإِذا قضيت الصلاة فانتشروا في الأرض»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 498
498 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ فِيهِ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ ابھی اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 498]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 35 باب غزوة الحديبية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
248. باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيهما من الجلسة
باب: نماز سے پہلے دونوں خطبوں اور ان کے درمیان بیٹھنے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 499
499 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ، كَمَا تَفْعَلُونَ الآنَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہوتے، جیسے تم لوگ بھی آج کل کرتے ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 499]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 27 باب الخطبة قائما»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
249. باب فی قولہ تعالی: ﴿وإذا رأوا تجارۃ أو لہوا انفضوا إلیہا وترکوک قائما﴾
باب: ارشاد باری تعالیٰ واذا راوا تجارۃ الخ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 500
500 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ عيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا، حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، فَنَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائمًا)
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں غلہ لادے ہوئے ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا، لوگ خطبہ چھوڑ کر ادھر چل دیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کل بارہ آدمی رہ گئے، اس وقت سورہ جمعہ کی یہ آیت اتری: ﴿اور جب یہ لوگ تجارت اور کھیل دیکھتے ہیں تو اس طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں﴾ [سورة الجمعة: 11] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 500]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 38 باب إذا نفر الناس عن الإمام في صلاة الجمعة فصلاة الإمام ومن بقى جائزة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
250. باب تخفيف الصلاة والخطبة
نماز اور خطبہ کو مختصر ہلکا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 501
501 صحيح حديث يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ (وَنَادَوْا يَا مَالِكُ)
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر (اس آیت کی) تلاوت فرما رہے تھے: ﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ [سورة الزخرف: 77] ”اور وہ دوزخی پکاریں گے: اے مالک! اپنے رب سے کہو کہ وہ ہم کو موت دے دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة في السماء»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا یعلیٰ بن امیہ مکی قریش کے حلیف تھے۔ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے اور طائف اور حنین کے غزوات میں شامل ہوئے۔ مکہ میں فتوٰی دیا کرتے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں یمن کے والی رہے۔ بڑے سخی اور مالدار صحابی تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے تاریخ کا آغاز کیا جب کہ یہ یمن میں تھے۔ تقریباً بیس احادیث کے راوی ہیں۔ امام ذہبی فرماتے ہیں کہ ساٹھ ہجری کے وقت تک زندہ رہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سیّدنا معاویہ سے پہلے وفات پائی یا بعد میں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
251. باب التحية والإمام يخطب
باب: خطبہ کے وقت تحیۃ المسجد پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 502
502 صحيح حديث جَابِرٍ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ قَالَ: لاَ، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے، آپ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے (تحیتہ المسجد کی) نماز پڑھ لی ہے؟“ آنے والے نے جواب دیا کہ نہیں، آپ نے فرمایا: ”اٹھو اور دو رکعت نماز (تحیتہ المسجد) پڑھ لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 502]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 33 باب من جاء والإمام يخطب صلى ركعتين خفيفتين»
وضاحت: حجتہ الہند سیّدنا شاہ ولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی نمازی ایسے حال میں مسجد میں داخل ہو کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت ہلکی خفیف پڑھ لے تاکہ سنت راتبہ اور ادب خطبہ ہر دو کی رعایت ہو سکے۔ اور اس مسئلہ کے بارے میں تمہارے شہر کے لوگ جو شور کرتے ہیں (روکتے ہیں) ان کے دھوکے میں نہ آنا کیونکہ اس مسئلہ کے حق میں حدیث صحیح وارد ہے جس کی اتباع واجب ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ: ج ۲ ص ۱۰۱)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 503
503 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ أَوْ قَدْ خَرَجَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”جو شخص بھی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز (تحیتہ المسجد کی) پڑھ لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 25 باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
252. باب ما يقرأ في يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن قراء ت قرآن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
504 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ، فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ، آلَم تَنْزيلُ، السَّجْدَةَ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں ﴿الم تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] اور ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجمعة/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في، 11 كتاب الجمعة: 10 باب ما يقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12