اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
345. باب صوم يوم عاشوراء
باب: عاشورہ کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 692
692 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَدِينَة، فَرَأَى الْيَهُودَ تصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا هذَا قَالُوا: هذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هذَا يَوْمُ نَجَّى اللهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسى، قَالَ: فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوسى مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے (دوسرے سال)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اچھا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دلائی تھی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر موسیٰ علیہ السلام کے (شریک مسرت ہونے میں) ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کا حکم دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 693
693 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَعُدُّهُ الْيَهُودُ عِيدًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصُومُوهُ أَنْتُمْ
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن کو یہودی عید کا دن سمجھتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس دن روزہ رکھا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 694
694 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْم فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلاَّ هذَا الْيَوْمَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ؛ وَهذَا الشَّهْرَ، يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے عاشوراء کے دن کے اور اس رمضان کے مہینے کے اور کسی دن کو دوسرے دنوں سے افضل جان کر خاص طور پر قصد کر کے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
346. باب من أكل في عاشوراء فليكفّ بقية يومه
باب: جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھا لیا وہ باقی دن کھانے سے پرہیز کرے
حدیث نمبر: 695
695 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوعِ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلاً يُنَادِي فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ: أَنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ أَوْ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ لَمْ يأْكُلْ فَلاَ يَأْكُلْ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ ”جس نے کھانا کھا لیا ہے وہ اب (دن ڈوبنے تک روزہ کی حالت میں) پورا کرے یا (یہ فرمایا کہ) روزہ رکھے اور جس نے نہ کھایا ہو (تو وہ روزہ رکھے) کھانا نہ کھائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 21 باب إذا نوى بالنهار صوما»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 696
696 صحيح حديث الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قرَى الأَنْصَارِ مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ صَائمًا فَلْيَصُمْ قَالَتْ: فَكنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الإِفْطَارِ
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عاشوراء کی صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے محلوں میں کہلا بھیجا کہ: ”جس نے صبح کھا پی لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ (روزہ دار کی طرح) پورا کرے اور جس نے کچھ نہ کھایا پیا ہو وہ روزے سے رہے۔“ ربیع نے کہا: پھر بعد میں بھی (رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد) ہم اس دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے، انہیں ہم اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے، جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جاتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 47 باب صوم الصبيان»
وضاحت: راوي حدیث: سیدہ الربیع بنت معوذ بن عفراء انصاریہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ بنو نجار قبیلہ سے تعلق تھا۔ بڑی قدرو منزلت والی خاتون تھیں۔ بیعت رضوان میں انہوں نے بھی درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ فرماتی ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتی تھیں۔ اور زخمیوں کی مرہم کرتی تھی۔ اور زخمیوں اور شہداء کو مدینہ کی طرف پہنچاتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ وضو کرتے نماز پڑھتے اور کھانا کھایا کرتے تھے۔ ان کے والد معوذ بدری صحابہ میں سے بڑے مرتبے والے ہیں۔ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ابو جہل کو قتل کیا تھا۔ سیدہ الربیع نے ستر ہجری کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
347. باب النهى عن صوم يوم الفطر ويوم الأضحى
باب: یوم الفطر اور یوم الاضحی کو روزہ رکھنا حرام ہے
حدیث نمبر: 697
697 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، قَالَ: هذَانِ يَوْمَانِ نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے: (رمضان کے) روزوں کے بعد افطار کا دن (عیدالفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔ (یعنی عیدالاضحی کا دن)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 66 باب صوم يوم الفطر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 698
698 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلاَ صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ: الْفِطْرِ وَالأَضْحى
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر اور عید الاضحی دونوں دن روزے نہ رکھے جائیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 20 كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 6 باب مسجد بيت المقدس»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 699
699 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ زِيَادِ ابْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: رَجُلٌ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، قَالَ: أَظُنُّهُ، قَالَ: الاثْنَيْنِ، فَوَافَقَ يَوْمَ عِيدٍ؛ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَرَ اللهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هذَا الْيَوْمِ
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک شخص سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کی نذر مانی، پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس دن روزہ رکھنے سے“ (اللہ کے حکم سے) منع فرمایا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 67 باب الصوم يوم النحر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
348. باب كراهة صيام الجمعة منفردا
باب: اکیلے جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہت
حدیث نمبر: 700
700 صحيح حديث جَابِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا رضي الله عنه: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: نَعَمْ
محمد بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 63 باب صوم يوم الجمعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 701
701 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لاَ يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد روزہ نہ رکھتا ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 63 باب صوم يوم الجمعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»