🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
334. باب بيان أن الدخول في الصوم يحصل بطلوع الفجر، وأن له الأكل وغيره حتى يطلع الفجر وبيان صفة الفجر الذي تتعلق به الأحكام من الدخول في الصوم، ودخول وقت صلاة الصبح وغير ذلك
باب: روزہ طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اس سے پہلے آدمی کھا پی سکتا ہے اور اس فجر کا بیان جس سے روزہ کے احکام متعلق ہیں اور صبح کی نماز کے وقت کا آغاز وغیرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 662
662 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ تو رات رہے اذان دیتے ہیں، اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 662]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 11 باب أذان الأعمى إذا كان له من يخبره»
وضاحت: عہد رسالت ہی میں یہ دستور تھا کہ سحری کی اذان سیّدنا بلال دیا کرتے تھے اور نماز فجر کی اذان سیّدنا عبداللہ بن ام مکتوم۔ عہد خلافت میں بھی یہی طریقہ رہا اور مدینہ منورہ میں آج تک یہی دستور چلا آرہا ہے۔ جو لوگ اذان سحری کی مخالفت کرتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اس اذان سے نہ صرف سحری کے لیے بلکہ نماز تہجد کے لیے جگانا بھی مقصود ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 663
663 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ بِلاَلاً كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ لاَ يُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو، کیونکہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 17 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لا يمنعكم من سحوركم أذان بلال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 664
664 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ مِنْ سَحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائمَكُمْ وَلِيُنَبِّهَ نَائمَكُمْ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَقُولَ الْفَجْرُ أَوِ الصُّبْحُ وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ وَرَفَعَهَا إِلَى فَوْقُ وَطَأْطأَ إِلَى أَسْفَلُ حَتَّى يَقولَ هكَذَا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روک دے کیونکہ وہ رات رہے سے اذان دیتے ہیں یا (یہ کہا کہ) پکارتے ہیں تاکہ جو لوگ عبادت کے لیے جاگے ہیں وہ آرام کرنے کے لیے لوٹ جائیں اور جو ابھی سوئے ہوئے ہیں وہ ہوشیار ہو جائیں، کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ فجر یا صبح صادق ہو گئی“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے (طلوع صبح کی کیفیت) بتائی، انگلیوں کو اوپر کی طرف اٹھایا اور پھر آہستہ سے انہیں نیچے لائے اور پھر فرمایا: ”اس طرح (فجر ہوتی ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 664]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 13 باب الأذان قبل الفجر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
335. باب فضل السحور وتأكيد استحبابه، واستحباب تأخيره وتعجيل الفطر
باب: سحری کی فضیلت اور کی تاکید، سحری دیر سے کھانے اور روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
665 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 665]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 10 باب بركة السحور من غير إيجاب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666
666 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَه أَنَّهُمْ تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلاَةِ، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ، يَعْنِي آيَةً
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ان لوگوں نے (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں کے درمیان کس قدر فاصلہ رہا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ جتنا پچاس یا ساٹھ آیت پڑھنے میں صرف ہوتا ہے، اتنا فاصلہ تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 9 كتاب مواقيت الصلاة: 27 باب وقت الفجر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 667
667 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَزالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک لوگ افطار جلدی کریں گے اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 45 باب تعجيل الإفطار»
وضاحت: حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ان لوگوں کا رد ہے جو روزہ کھولنے میں تاخیر کرتے ہیں اور ستاروں کے ظاہر ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں جویہودو نصاریٰ کا طریقہ ہے جس کے بارے میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سخت ناراضگی کااظہار فرمایا ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
336. باب بيان وقت انقضاء الصوم وخروج النهار
باب: روزہ کا وقت تمام ہونے کا اور دن کے ختم ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 668
668 صحيح حديث عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ ههُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ ههُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائمُ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات اس طرف (مشرق) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت آ گیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 43 باب متى يحل فطر الصائم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 669
669 صحيح حديث ابْنِ أَبِي أَوْفَى رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَه، فَشَرِبَ؛ ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ ههُنَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ ههُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائمُ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے (روزہ کی حالت میں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: ”اتر کر میرے لیے ستو گھول لو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابھی تو سورج باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اتر کر ستو گھول لو۔“ اب کی مرتبہ بھی انہوں نے وہی عرض کی: یا رسول اللہ! ابھی سورج باقی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اب بھی یہی تھا: ”اتر کر میرے لیے ستو گھول لو۔“ چنانچہ وہ اترے اور ستو گھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے، تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 669]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 33 باب الصوم في السفر والإفطار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
337. باب النهى عن الوصال في الصوم
باب: پے در پے روزہ رکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 670
670 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صومِ وصال سے منع فرمایا، صحابہ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 48 باب الوصال ومن قال ليس في الليل صيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 671
671 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَجلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقَينِ فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ؛ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا، اس پر مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔“ لوگ اس پر بھی جب صومِ وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا، پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا۔“ گویا جب صومِ وصال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 49 باب التنكيل لمن أكثر الوصال»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں