🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
341. باب جواز الصوم والفطر في شهر رمضان للمسافر في غير معصية إِذا كان سفره مرحلتين فأكثر
باب: رمضان میں مسافر کو افطار کی رخصت ہے بشرطیکہ اس کا سفر دو یا دو سے زیادہ مرحلوں پر مشتمل ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 682
682 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائمِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے) لیکن روزہ دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزہ دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري: 30 كتاب الصوم: 37 باب لم يعب أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعضاً في الصوم والإفطار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
342. باب أجر المفطر في السفر إِذا تولى العمل
باب: سفر میں روزہ افطار کرنے کا اجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 683
683 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكْثَرُنَا ظِلاً الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِكِسَائِهِ؛ وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّكَابَ وامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک سفر میں) تھے، کچھ صحابہ روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا، موسم گرمی کا تھا، ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا وہ اپنا کمبل تان لیتا، خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کر سکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا، تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا (پانی پلایا) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی اور (دوسرے تمام) کام کیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کر لے گئے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 683]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 18 باب فضل الخدمة في الغزو»
وضاحت: معلوم ہوا کہ جہاد میں مجاہدین کی خدمت کرنا روزے سے زیادہ اجر رکھتا ہے۔ روزہ ایک انفرادی نیکی ہے۔ مگرمجاہدین کی خدمت پوری ملت کی خدمت ہے، اس لیے اس کو بہر حال فوقیت حاصل ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
343. باب التخيير في الصوم والفطر في السفر
باب: سفر میں روزہ رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 684
684 صحيح حديث عَائِشَةَ، زوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَأَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میں سفر میں روزہ رکھوں؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے تو افطار کر۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 684]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 33 باب الصوم في السفر والإفطار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 685
685 صحيح حديث أَبِي الدَّرْداءِ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فِي يَوْمٍ حَارٍّ، حَتَّى يضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائمٌ، إِلاَّ مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنِ رَوَاحَةَ
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے، دن انتہائی گرم تھا، گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ پکڑ لیتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی شخص روزے سے نہیں تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 685]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 35 باب حدثنا عبد الله بن يوسف»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
344. باب استحباب الفطر للحاج بعرفات يوم عرفة
باب: عرفہ کے دن حاجی کے لیے روزہ نہ رکھنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 686
686 صحيح حديث أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا، يَوْمَ عَرَفَةَ، فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائمٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ، فَشَرِبَهُ
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ان کے یہاں لوگوں کا عرفات کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سے متعلق کچھ اختلاف ہو گیا، بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عرفہ کے دن) روزے سے ہیں اور بعض نے کہا کہ نہیں، اس لیے انہوں نے (ام فضل رضی اللہ عنہا نے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹ پر سوار ہو کر عرفات میں وقوف فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 686]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 88 باب الوقوف على الدابة بعرفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 687
687 صحيح حديث مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِحِلاَبٍ، وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا، اس لیے انہوں نے (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا) آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا، آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے، آپ نے وہ دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 687]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 65 باب صوم عرفة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
345. باب صوم يوم عاشوراء
باب: عاشورہ کے روزے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 688
688 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس کا جی چاہے یوم عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 688]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 1 باب وجوب صوم رمضان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 689
689 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ: مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جاہلیت میں عاشوراء کے دن ہم روزہ رکھتے تھے لیکن جب رمضان کے روزے نازل ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 689]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة: 24 باب (يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
690 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ دَخَلَ عَلَيْهِ الأَشْعَثُ وَهُوَ يَطْعَمُ، فَقَالَ: الْيَوْمُ عَاشُورَاء، فَقَالَ: كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَادْنُ فَكُلْ
سیدنا اشعث رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، اشعث نے کہا کہ آج تو عاشوراء کا دن ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دنوں میں عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا، لیکن جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا، آؤ تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 690]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة 24: باب (يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
691 صحيح حديث مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَحْمنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ، عَامَ حَجَّ، عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَة أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ
حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے حج کے موقع پر عاشوراء کے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے، لیکن میں روزے سے ہوں، اب جس کا جی چاہے روزہ رکھے (اور میری سنت پر عمل کرے) اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 30 كتاب الصوم: 69 باب صيام يوم عاشوراء»
وضاحت: شاید سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی ہو کہ مدینہ والے عاشوراء کا روزہ مکروہ جانتے ہیں یا اس کا اہتمام نہیں کرتے یا اس کو فرض سمجھتے ہیں تو آپ نے منبر پر یہ تقریر کی۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں