🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
448. باب الوفاء بالشروط في النكاح
باب: نکاح کی شرائط پوری کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 894
894 صحيح حديث عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، پوری کیے جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 54 كتاب الشروط: 6 باب الشروط في المهر عند عقدة النكاح»
وضاحت: جن میں ایجاب و قبول اور مہر کی شرائط بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ کوئی شخص مہر مقرر کرتے وقت دل میں نہ ادا کرنے کا خیال رکھتا ہو تو عنداللہ اس کا نکاح حلال نہ ہو گا۔(راز) راوي حدیث: سیّدنا عقبہ بن عامرالجھنی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبس تھی۔ آپ عالم، مقری، فصیح اللسان، فقیہ اور علم فرائض کے ماہر اور بڑی شان والے تھے۔ دمشق کی فتح کے موقع پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام اور ڈاک یہی لاتے تھے۔ اصحاب صفہ میں سے تھے۔ ۵۸ ہجری کو وفات پائی۔ قاہرہ میں مقطم پہاڑ کے دامن میں دفن ہوئے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
449. باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق والبكر بالسكوت
باب: ثیبہ (بیوہ، مطلقہ) کا نکاح کے لیے زبان سے اجازت دینا ضروری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 895
895 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اجازت کیسے دے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔“ (یہ خاموشی اس کی رضا مندی سمجھی جائے گی)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 41 باب لا يُنْكِح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 896
896 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ فَتَسْتَحِي فَتَسْكُتُ، قَالَ: سُكَاتُهَا إِذْنُهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلے میں اجازت لی جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: لیکن کنواری لڑکی سے اگر اجازت لی جائے تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 89 كتاب الإكراه: 3 باب لا يجوز نكاح المكره»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
450. باب تزويج الأب البكر الصغيرة
باب: والد کے لیے جائز ہے کہ نابالغ کنواری لڑکی کا نکاح کر دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 897
897 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحارِثِ بْنِ خَزْرَجٍ، فَوُعِكْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِي، فَوَفَى جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمِّي، أُمُّ رُومَانَ، وَإنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ، وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا لاَ أَدْرِي مَا تُرِيد بِي؛ فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى أَوْقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ، وَإِنِّي لأَنْهِجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفَسِى، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي، ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ؛ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح جب ہوا تو میری عمر چھ سال تھی، پھر ہم مدینہ (ہجرت کر کے) آئے اور بنی حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا، یہاں آ کر مجھے بخار چڑھا اور اس وجہ سے میرے بال گرنے لگے، پھر مونڈھوں تک خوب بال ہو گئے، پھر ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی، انہوں نے مجھے پکارا تو میں حاضر ہو گئی، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ ان کا کیا ارادہ ہے، آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازے کے پاس کھڑا کر دیا اور میرا سانس پھولا جا رہا تھا، تھوڑی دیر میں جب مجھے کچھ سکون ہوا تو انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے منہ اور سر پر پھیرا، پھر گھر کے اندر مجھے لے گئیں، وہاں انصار کی چند عورتیں موجود تھیں جنہوں نے مجھے دیکھ کر دعا دی: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» ”خیر و برکت اور اچھا نصیب لے کر آئی ہو“، میری ماں نے مجھے انہیں کے حوالے کر دیا اور انہوں نے میری آرائش کی، اس کے بعد دن چڑھے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے سلام کیا، میری عمر اس وقت نو سال تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 44 باب تزويج النبي صلی اللہ علیہ وسلم عائشة»
وضاحت: حجاز چونکہ گرم ملک ہے۔ اس لیے وہاں قدرتی طور پر لڑکے اور کڑکیاں بہت کم عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکی رخصتی کے وقت صرف ۹ سال کی عمر تعجب خیز نہیں ہے۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
451. باب الصداق وجواز كونه تعليم قرآن وخاتم حديد وغير ذلك من قليل وكثير واستحباب كونه خمسمائة درهم لمن لا يجحف به
باب: مہر کا بیان اور قرآن کی تعلیم اور لوہے وغیرہ کا چھلا مہر ٹھہرانے کا بیان اور صاحب استطاعت کے لیے پانچ سو درہم مہر مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 898
898 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ؛ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ؛ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ: لاَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ؛ فَقَالَ؛ لاَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَالَ: انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: لاَ، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلكِنْ هذَا إِزَارِي (قَالَ سَهْلٌ مَالَهُ رِدَاءٌ) فَلَهَا نِصْفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَيْءٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَة كَذَا؛ عَدَّهَا، قَالَ: أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لیے لائی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کر لی اور سر جھکا لیا، جب ان خاتون نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارے پاس (مہر کے لیے) کچھ بھی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے۔“ وہ صاحب گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دیکھ لو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔“ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ گئے اور عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی، البتہ یہ ایک تہمد میرے پاس ہے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی (اوڑھنے کے لیے) نہیں تھی۔ ان صحابی نے کہا: خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دے دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اس تہمد کا وہ کیا کرے گی؟ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے پاس کچھ نہیں رہے گا، اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے پاس کچھ نہیں رہے گا۔“ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے، کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ اٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا اور انہیں بلوایا، جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟“ انہوں نے بتلایا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، انہوں نے ان کے نام گنائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، قرآن مجید کی جو سورتیں تمہیں یاد ہیں، ان کے بدلہ میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 22 باب القراءة عن ظهر قلب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899
899 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ: مَا هذَا قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، دعوتِ ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 56 باب كيف يدعى للمتزوج»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
452. باب فضيلة إِعتاقه أمته ثم يتزوجها
باب: اپنی لونڈی کوآزاد کر کے نکاح کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 900
900 صحيح حديث أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزَا خَيْبَرَ، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاَةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقٍ خَيْبَرَ، وَأَنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَسَرَ الإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ حَتَّى إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ: وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ (يَعْنِي الْجَيْش) قَالَ: فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً، فَجُمِعَ السَّبْىُ، فَجَاءَ دِحْيَةُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ، قَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ قَالَ: ادْعُوهُ بِهَا فَجَاءَ بِهَا؛ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا قَالَ: فَأَعْتَقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَزَوَّجَهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں تشریف لے گئے، ہم نے وہاں فجر کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے، میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کا رخ خیبر کی گلیوں کی طرف کر دیا، میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو جاتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے تہبند ہٹایا یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاف اور سفید رانوں کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا، جب آپ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خیبر کے یہودی اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر پہنچ گئے۔ پس ہم نے خیبر لڑ کر فتح کر لیا اور قیدی جمع کیے گئے، پھر دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! قیدیوں میں سے کوئی باندی مجھے عنایت کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ کوئی باندی لے لو“، انہوں نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا۔ پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! صفیہ جو قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی ہیں، انہیں آپ نے دحیہ کو دے دیا، وہ تو صرف آپ ہی کے لیے مناسب تھیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ“، وہ لائے گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو“۔ راوی نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور انہیں اپنے نکاح میں لے لیا۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابو حمزہ! ان کا مہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رکھا تھا؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خود ان کی آزادی ہی ان کا مہر تھا اور اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا۔ پھر راستے ہی میں ام سلیم (رضی اللہ عنہا، سیدنا انس کی والدہ) نے انہیں دلہن بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کے وقت بھیجا، اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو تو یہاں لائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھایا، بعض صحابہ کھجور لائے بعض گھی (راوی نے کہا کہ میرا خیال ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیا)، پھر لوگوں نے ان کا حلوا بنا لیا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 12 باب ما يذكر في الفخذ»
وضاحت: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ران شرم گاہ میں داخل ہے۔ اس لیے اس کا چھپانا واجب ہے۔ اور ابن ابی ذئب رحمہ اللہ اور امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک ران شرم گاہ میں داخل نہیں ہے۔ المحلیٰ میں امام ابن حزم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اگر ران شرم گاہ میں داخل ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو معصوم اور پاک تھے ران نہ کھولتا، نہ کوئی اس کو دیکھتا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے۔ اورآپ کا فیصلہ احتیاطاً ران ڈھانکنے کا ہے وجوباً نہیں۔(راز) جو کھجور، پنیر اور گھی یا پنیر کی بجائے آٹا ملا کر پکایا جاتا ہے۔(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 901
901 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَعَالَهَا فَأَحْسَنَ إِلَيْهَا، ثَمَّ أَعْتَقَهَا، وَتَزَوَّجَهَا، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی پرورش کرے اور اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 901]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 14 باب فضل من أدب جاريته وعلمها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
453. باب زواج زينب بنت جحش ونزول الحجاب وإِثبات وليمة العرس
باب: ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کا نکاح اور نزول حجاب اور ولیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 902
902 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: ما أَوْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، أَوْلَمَ بِشَاةٍ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جیسا ولیمہ اپنی بیویوں میں سے کسی کا نہیں کیا، ان کا ولیمہ آپ نے ایک بکری کا کیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 902]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 68 باب الوليمة ولو بشاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 903
903 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ، دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، وَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ؛ فَلَمَّا قَامَ، قَامَ مَنْ قَامَ، وَقَعَدَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ؛ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا، فَانْطَلَقْتُ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا؛ فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِى وَبَيْنَهُ؛ فَأَنْزَلَ اللهُ (يأَيُّهَا الَّذِينَءَامَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ) الآية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوتِ ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ (گھر کے اندر ہی) بیٹھے (دیر تک) باتیں کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں (تا کہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھا تو آپ کھڑے ہو گئے، جب آپ کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں، تو آپ اندر تشریف لائے، میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازے کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت مبارکہ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] نازل ہوئی کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (بغیر اجازت) مت جایا کرو“ آخر آیت تک۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 33 سورة الأحزاب: 8 باب قوله (لا تدخلوا بيوت النبي) الآية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں