اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
459. باب حكم العزل
باب: عزل کا حکم
حدیث نمبر: 914
914 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَصَبْنَا سَبْيًا فَكُنَّا نَعْزِلُ؛ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَوَ إِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ قَالَهَا ثَلاَثًا مَا مِنْ نَسْمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک غزوہ میں) ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم نے ان سے عزل کیا، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو؟“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا (پھر فرمایا): ”قیامت تک جو روح بھی پیدا ہونے والی ہے وہ (اپنے وقت پر) پیدا ہو کر رہے گی (پس تمہارا عزل کرنا ایک عبث حرکت ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 914]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 96 باب العزل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 915
915 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا ہم عزل کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 96 باب العزل»
وضاحت: اس حدیث سے ثابت ہو اکہ عزل کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض صحابہ کا شیوہ تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا تھا۔ اور نہ قرآن مجید میں کوئی حکم اس کے بارے میں نازل ہوا۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»