🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
453. باب زواج زينب بنت جحش ونزول الحجاب وإِثبات وليمة العرس
باب: ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کا نکاح اور نزول حجاب اور ولیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 904
904 صحيح حديث أَنَسٍ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ؛ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ؛ أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ، بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشى وَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ؛ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ؛ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا؛ فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا موقع تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا، دن چڑھنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت تک دوسرے لوگ (کھانے سے فارغ ہو کر) جا چکے تھے، آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے، میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے، پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ (بھی جو کھانے کے بعد گھر میں بیٹھے رہ گئے تھے) جا چکے ہوں گے (اس لیے آپ واپس تشریف لائے)۔ میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ پھر واپس آ گئے، میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا، آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے، پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا، اب وہ لوگ جا چکے تھے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 904]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 59 باب قول الله تعالى (فإذا طعمتم فانتشروا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 905
905 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا مَرَّ بِجَنَبَاتِ أُمِّ سُلَيْمٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَرُوسًا بِزَيْنَبَ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ: لَوْ أَهْدَيْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَدِيَّةً فَقُلْتُ لَهَا: افْعَلِي فَعَمَدَتْ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ، [ص:98] فَاتَّخَذَتْ حَيْسَةً فِي بُرْمَةٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا مَعِي إِلَيْهِ؛ فَانْطَلَقْتُ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لِي: ضَعْهَا ثُمَّ أَمَرَنِي، فَقَالَ: ادْعُ لِي رِجَالاً سَمَّاهُمْ وَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ قَالَ: فَفَعَلْتُ الَّذِي أَمَرَنِي، فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ، وَتَكَلَّمَ بِهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُ لَهُمُ: اذْكُرُوا اسْمَ اللهِ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ قَالَ: حَتَّى تَصَدَّعُوا كُلُّهُمْ عَنْهَا فَخَرَجَ مِنْهُمْ مَنْ خَرَجَ، وَبَقِيَ نَفَرٌ يَتَحَدَّثُونَ قَالَ: وَجَعَلْتُ أَغْتَمُّ ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْحُجُرَاتِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَقُلْت: إِنَّهُمْ قَدْ ذَهَبُوا؛ فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْبَيْتَ، وَأَرْخَى السِّتْرَ، وَإِنِّي لَفِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ يَقُولُ: (يأَيُّهَا الَّذِينَءَامَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلكِنْ إِذَا دُعِيتمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلاَ مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِ مِنْكُمْ وَاللهُ لاَ يَسْتَحْيِ مِنَ الْحَقِّ) قَالَ أَنَسٌ: إِنَّهُ خَدَمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا، آپ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف سے گزرتے تو ان کے پاس جاتے، ان کو سلام کرتے (وہ آپ کی رضاعی خالہ ہوتی تھیں)۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، آپ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا، تو ام سلیم رضی اللہ عنہا (میری ماں) مجھ سے کہنے لگیں: اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی تحفہ بھیجیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا: مناسب ہے۔ انہوں نے کھجور اور گھی اور پنیر ملا کر ایک ہانڈی میں حلوہ بنایا اور میرے ہاتھ میں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھجوایا۔ میں لے کر آپ کے پاس چلا، جب پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”رکھ دے اور جا کر فلاں فلاں لوگوں کو بلا لا“ آپ نے ان کا نام لیا ”اور جو کوئی بھی تجھ کو راستے میں ملے اس کو بلا لے“۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے موافق لوگوں کو دعوت دینے گیا، لوٹ کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس حلوے پر رکھے اور جو اللہ کو منظور تھا وہ زبان سے کہا (برکت کی دعا فرمائی)، پھر دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلانا شروع کیا۔ آپ ان سے فرماتے جاتے تھے: ” «سَمِّ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام لو“ اور ہر ایک آدمی اپنے آگے سے کھائے“ (رکابی کے بیچ میں ہاتھ نہ ڈالے) یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر گھر کے باہر چل دیے۔ تین آدمی گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے اور مجھ کو ان کے نہ جانے سے رنج پیدا ہوا (اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہو گی)۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دوسری بیویوں کے حجروں پر گئے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا، پھر راستے میں میں نے آپ سے کہا کہ وہ تین آدمی بھی چلے گئے ہیں۔ اس وقت آپ لوٹے اور (سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں) آئے، میں بھی حجرے ہی میں تھا لیکن آپ نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال لیا، آپ سورہ احزاب کی یہ آیت پڑھ رہے تھے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ ۖ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر جب کھانے کے لیے تم کو اندر آنے کی اجازت دی جائے، اس وقت جاؤ۔ وہ بھی ایسا ٹھیک وقت دیکھ کر کہ کھانا پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ البتہ جب بلائے جاؤ تو اندر جاؤ اور کھانے سے فارغ ہوتے ہی چل دو۔ باتوں میں لگ کر وہاں بیٹھے نہ رہا کرو۔ ایسا کرنے سے پیغمبر کو تکلیف ہوتی تھی، اس کو تم سے شرم آتی تھی (کہ تم سے کہے کہ چلے جاؤ) اور اللہ تعالیٰ حق بات میں نہیں شرماتا۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دس برس تک متواتر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 905]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 64 باب الهدية للعروس»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
454. باب الأمر بإِجابة الداعي إِلى دعوة
باب: دعوت قبول کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 906
906 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا دُعِي أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو دعوتِ ولیمہ پر بلایا جائے تو اسے آنا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 906]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 71 باب حق إجابة الوليمة والدعوة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 907
907 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: ”ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو خصوصی دعوت دی جائے اور محتاجوں کو نہ کھلایا جائے، اور جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 72 باب من ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
455. باب لا تحل المطلقة ثلاثا لمطلقها حتى تنكح زوجا غيره ويطأها ثم يفارقها وتنقضى عدتها
باب: طلاق ثلاثہ کے بعد عورت دوسرے نکاح کے بغیر پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی اور دوسرا شوہر اس سے جماع کرے اور طلاق کے بعد وہ عورت عدت پوری کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 908
908 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي، فَأَبَتَّ طَلاَقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ الزَّبِيرِ، إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَأَبُو بَكْرِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤذَنَ لَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكَرٍ أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى هذِهِ، مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی، پھر مجھے انہوں نے طلاق دے دی، قطعی طلاق دے دی، پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی، لیکن ان کے پاس تو (شرمگاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے؟ لیکن تو اس وقت تک اس سے شادی نہیں کر سکتی جب تک تو عبدالرحمن بن زبیر کا مزا نہ چکھ لے اور وہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔“ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خدمتِ نبوی میں موجود تھے اور سیدنا خالد بن سعید بن عاص دروازے پر اپنے لیے (اندر آنے کی) اجازت کا انتظار کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ابوبکر! کیا اس عورت کو نہیں دیکھتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح کی باتیں زور زور سے کہہ رہی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 908]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 52 كتاب الشهادات: 3 باب شهادة المختبى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 909
909 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا، فَتَزَوَّجَتْ، فَطَلَّقَ؛ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ قَالَ: لاَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھیں، ان کی بیوی نے دوسری شادی کر لی، پھر دوسرے شوہر نے بھی (ہم بستری سے پہلے) انہیں طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلا شوہر اب ان کے لیے حلال ہے (کہ ان سے دوبارہ شادی کر لیں)؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ وہ یعنی شوہرِ ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 909]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 68 كتاب الطلاق: 4 باب من أجاز طلاق الثلاث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
456. باب ما يستحب أن يقوله عند الجماع
باب: جماع کے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 910
910 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأْتِي أَهْلَهُ بِاسْمِ اللهِ، اللهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَان مَا رَزَقْتَنَا؛ ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذلِكَ، أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہم بستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو (اولاد) ہمیں تو عطا کرے“، پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 910]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 66 باب ما يقول الرجل إذا أتى أهله»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
457. باب جواز جماعه امرأته في قبلها من قدامها ومن ورائها من غير تعرض للدبر
باب: دبر سے بچتے ہوئے آگے اور پیچھے سے قبل جماع کرنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 911
911 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ: إِذَا جَامَعَهَا مِنْ وَرَائِهَا جَاءَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ (نِسَاؤكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہم بستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة: 39 باب (نساؤكم حرث لكم) الآية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
458. باب تحريم امتناعها من فراش زوجها
باب: بیوی کے لیے جائز نہیں کہ شوہر کو جماع سے روکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 912
912 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلاَئِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عورت اپنے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے اس کے بستر سے الگ تھلگ رات گزارے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک وہ اپنی اس حرکت سے باز نہ آ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 85 باب إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
459. باب حكم العزل
باب: عزل کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 913
913 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْىِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ؛ وَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ؛ فَقَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ وَهِيَ كَائِنَةٌ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی المصطلق کے لیے نکلے، اس غزوہ میں ہمیں کچھ عرب کے قیدی ملے (جن میں عورتیں بھی تھیں)، پھر اس سفر میں ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور بے عورت رہنا ہم پر مشکل ہو گیا، دوسری طرف ہم عزل کرنا چاہتے تھے (اس خوف سے کہ بچہ نہ پیدا ہو)، ہمارا ارادہ یہی تھا کہ عزل کر لیں، لیکن پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، آپ سے پوچھے بغیر عزل کرنا مناسب نہ ہو گا، چنانچہ ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم عزل نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ قیامت تک جو جان پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 32 باب غزوة بني المصطلق»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں