اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. باب بطلان بيع المبيع قبل القبض
باب: قبضہ سے پہلے دوسرے کے ہاتھ بیچنا درست نہیں ہے
حدیث نمبر: 975
975 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَمَّا الَّذِي نَهى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلاَ أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلاَّ مِثْلَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع فرمایا تھا وہ اس غلہ کی بیع تھی جس پر ابھی قبضہ نہ کیا گیا ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تو تمام چیزوں کو اسی کے حکم میں سمجھتا ہوں۔ (یعنی کہ کوئی بھی چیز جب خریدی جائے تو قبضہ کرنے سے پہلے اسے نہ بیچا جائے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 55 باب بيع الطعام قبل أن يقبض وبيع ما ليس عندك»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 976
976 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی قسم کا غلہ خریدے تو جب تک اس پر پوری طرح قبضہ نہ کر لے اسے نہ بیچے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 51 باب الكيل على البائع والمعطي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 977
977 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعْلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهِمْ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ بازار کی بلند جانب جا کر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ”غلہ وہاں نہ بیچیں جب تک اس کو اٹھوا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 977]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 72 باب منتهى التلقي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
493. باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين
باب: بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے جب تک مجلس برخواست نہ ہو
حدیث نمبر: 978
978 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں مگر بیعِ خیار میں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 44 باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا»
وضاحت: یعنی جب بائع بیع کے بعد مشتری کو اختیار دے اور وہ کہے میں بیع کو نافذ کرتا ہوں۔ اور وہ بیع اس سے الگ ہے جس میں اختیار کی شرط پہلے ہی سے لگا دی گئی ہو۔(راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 979
979 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا؛ أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو افراد نے خرید و فروخت کی، تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں انہیں (بیع کو توڑ دینے کا) اختیار باقی رہتا ہے، یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی، اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 45 باب إذا خير أحدهما صاحبه بعد البيع فقد وجب البيع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
494. باب الصدق في البيع والبيان
باب: خرید و فروخت میں سچ بولنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 980
980 صحيح حديث حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ قَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت اختیار (بیع ختم کر دینے کا) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ نے فرمایا حتی کہ دونوں جدا نہ ہو جائیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی بات چھپا کر رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 980]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 19 باب إذا بين البيعان ولم يكتما ونصحا»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
495. باب من يخدع في البيع
باب: جو شخص بیع میں دھوکہ کھائے
حدیث نمبر: 981
981 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص (حبان بن منقد) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب تم کسی چیز کی خرید و فروخت کرو تو یوں کہہ دیا کرو کہ بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 981]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 48 باب ما يكره من الخداع في البيع»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
496. باب النهى عن الثمار قبل بدوّ صلاحها بغير شرط القطع
باب: میوہ جب تک اس کے پکنے کا یقین نہ ہو درخت پر بیچنا درست نہیں جب کاٹنے کی شرط نہ ہوئی ہو
حدیث نمبر: 982
982 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ نَهى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، نَهى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے لیے تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 85 باب بيع الثمار قبل أن يبدو صلاحها»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 983
983 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ، وَلاَ يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهُ إِلاَّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلاَّ الْعَرَايَا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینار کے سوا کسی اور چیز (سوکھے پھل) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 83 باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب والفضة»
وضاحت: اس کی تفسیر میں اختلاف ہے بعض علماء کی رائے یہ ہے جب مزابنہ یعنی درخت پر موجود تر پھلوں کو خشک پھلوں کے عوض بیچنے سے منع کیا گیا تو اس عموم سے العرایا کو متشنیٰ کیا ہے کہ جس ضروت مند کے پاس کھجور کے درخت نہیں ہیں کہ تر کھجوریں حاصل کر سکے اور نہ نقدی موجود ہے کہ بچوں کے لیے تر کھجوریں خرید سکے جب کہ خوراک سے زائد خشک کھجوریں موجود ہیں تو وہ باغ کے مالک کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ مجھے خشک کھجوروں کے اندازے کے ساتھ ایک یا دو تر کھجوروں کے درخت بیچ دو تاکہ وہ اہل عیال کے لیے تر کھجوریں حاصل کر سکے تو اس صورت کی رخصت دی ہے بشرطیکہ وہ پانچ وسق سے کم ہو۔(ابن اثیر، مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 984
984 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ أَوْ يُؤْكَلَ وَحَتَّى يُوزَنَ قِيلَ لَهُ: وَمَا يُوزَنُ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْرَزَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کو درخت پر بیچنے سے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح جب تک وہ وزن کرنے کے قابل نہ ہو جائے“ منع فرمایا ہے۔ پوچھا گیا کہ وزن کیے جانے کا کیا مطلب ہے؟ تو ایک صاحب نے جو ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ اندازہ کی جا سکے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 35 كتاب السلم: 4 باب السلم في النخل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»