🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
497. باب تحريم بيع الرطب بالتمر إِلاَّ في العرايا
باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 985
985 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبِ عریہ کو اس کی اجازت دی کہ ”اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 82 باب بيع المزابنة وهي بيع الثمر بالتمر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 986
986 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”درخت پر لگی ہوئی کھجور کو اتری ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا“ البتہ «عَرِیَّہ» کی آپ نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 986]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 83 باب الثمر على رؤوس النخل بالذهب والفضة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 987
987 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلاَّ أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ
سیدنا رافع بن خدیج اور سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَيْعُ الْمُزَابَنَةِ» ”بیعِ مزابنہ“ یعنی درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، «الْعَرِيَّةِ» ”عریہ“ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 17 باب الرجل يكون له ممر أو شِرْب في حائط أو في نخل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
988 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 988]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 83 باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب والفضة»
وضاحت: اوسق وسق کی جمع ہے وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 989
989 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهى عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلاً
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور، خشک کھجور کے بدلے ماپ کر بیچی جائے، اسی طرح بیل پر موجود انگور کو منقیٰ کے بدلے بیچا جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 989]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 75 باب بيع الزبيب بالزبيب والطعام بالطعام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 990
990 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ المُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً، أَوْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامِ، وَنَهى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا، یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے بیچا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 990]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 91 باب بيع الزرع بالطعام كيلا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
498. باب من باع نخلا عليها ثمر
باب: جو شخص کھجور کا درخت بیچے اور اس پر کھجور لگی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 991
991 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے، البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو (کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 90 باب من باع نخلا قد أبرت أو أرضا مزروعة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
499. باب النهى عن المحاقلة والمزابنة وعن المخابرة وبيع الثمرة قبل بدوّ صلاحها، وعن بيع المعاومة وهو بيع السنين
باب: محاقلہ اور مزابنہ اور مخابرہ کی ممانعت اور پھل کی بیع قبل تیاری کے اور معاومہ کا منع ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 992
992 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَأَنْ لاَ تُبَاعَ إِلاَّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلاَّ الْعَرَايَا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُخَابَرَةِ» ”مخابرہ“، «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“ اور «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا تھا، اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا تھا اور یہ کہ میوہ یا غلہ جو درخت پر لگا ہو دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے، البتہ «الْعَرَايَا» ”عرایا“ کی اجازت دی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 17 باب الرجل يكون له ممرّ أو شرْب في حائط أو في نخل»
وضاحت: عقد مزارعت کو کہتے ہیں جب کہ بیج کاشتکار اور عامل کی طرف سے ہو۔ ایک رائے یہ ہے کہ ایسی مزارعت جو مقرر اور معین حصے پر ہو جیسے تہائی یا چوتھائی وغیرہ پر۔ کھڑی کھیتی کو خشک غلہ کے عوض بیچنا۔ ایک رائے یہ ہے کہ گندم کے عوض زمین کا کرائے(ٹھیکے) پر دینا جسے مزارع لوگ محارثہ کہتے ہیں۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ معین اور مقرر حصے پر مزارعت کرنا جیسے تہائی یا چوتھائی حصہ پر۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ بالیوں میں موجود غلے کو خشک گندم کے عوض بیچنا۔ ایک چوتھی رائے یہ ہے کہ پکنے سے پہلے کھیتی کا بیچنا۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
500. باب كراء الأرض
باب: زمین کو کرایہ پر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 993
993 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ، فَقَالُوا: نُؤَاجِرُهَا بِالثُّلثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَو لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم میں سے بہت سے اصحاب کے پاس فالتو زمین بھی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ تہائی یا چوتھائی یا نصف کی بٹائی پر ہم کیوں نہ اسے دے دیا کریں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بونی چاہیے یا پھر کسی اپنے بھائی کو ہدیہ کر دینی چاہیے، اور اگر ایسا نہیں کر سکتا تو پھر زمین اپنے پاس ہی رکھے رہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 35 باب فضل المنيحة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 994
994 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَو لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو وہ خود بوئے، ورنہ اپنے کسی (مسلمان بھائی) کو بخش دے اور اگر یہ نہیں کر سکتا تو اسے یوں ہی خالی چھوڑ دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 994]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 18 باب ما كان من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم يواسي بعضهم بعضًا في الزراعة والثمرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں