🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
510. باب تحريم بيع فضل الماء
باب: جو پانی زیادہ ہو، اس کا بیچنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1009
1009 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے ہوئے پانی سے کسی کو اس لیے نہ روکا جائے کہ اس طرح جو ضرورت سے زیادہ گھاس ہو، وہ بھی رکی رہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 2 باب من قال إن صاحب الماء أحق بالماء»
وضاحت: حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس شخص کی زمین میں صحراکے اندر پانی جمع ہو یا چشمہ پھوٹ نکلے اور اس کے ارد گرد گھاس ہو۔ اب اس گھاس پر مویشی تب ہی چرنے کے لیے آسکتے ہیں جب کہ پانی والا پانی پینے سے نہ روکے۔ اس لیے پانی والے کو شریعت نے منع کیا ہے کہ وہ اپنے سے فاضل اور زائد پانی کے استعمال سے نہ روکے کیونکہ پانی کے روکنے سے وہ گھاس سے منع کر رہا ہے جب کہ گھاس سے روکنے میں لوگوں کو تکلیف اور نقصان دینا پایا جاتا ہے۔ (مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
511. تحريم ثمن الكلب وحلوان الكاهن ومهر البغيّ
باب: کتے کی قیمت، نجومی کی مٹھائی اور زنا کی اُجرت حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1010
1010 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی اجرت“ سے منع فرمایا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 113 باب ثمن الكلب»
وضاحت: کاہن سے مراد وہ شخص ہے جو علم غیب کا دعویٰ کرتا ہے اور لوگوں کو مستقبل کے اُمور سے متعلق خبریں دیتا ہے۔ عرب میں کاھن لوگ یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ وہ بہت سے اُمور کو جانتے ہیں۔ کوئی تو کہتا کہ اس کے کنٹرول میں جن ہیں جو اسے خبریں دیتے ہیں، کوئی یہ دعویٰ کرتا کہ وہ اپنے فہم و فراست سے معاملات کا ادراک کرتا ہے۔ کوئی کہتا کہ وہ مقدمات کو دیکھ کر اُمور پر استدلال کرتا ہے، جیسے چوری شدہ چیز کا بتانا وغیرہ۔ بعض لوگ ستاروں کا علم رکھنے والوں اور نجومیوں کو کاھن کہہ دیتے ہیں۔ ـ(مرتبؒ)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
512. باب الأمر بقتل الكلاب
باب: کتے ہلاک کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1011
1011 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتوں کو مارنے کا حکم فرمایا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 17 باب إذا وقع الذباب في شراب أحدكم»
وضاحت: شکار کے لیے یا گھر بار کی رکھوالی کے لیے کتے پالنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پاگل کتے یا جو کتنے انسانوں کے دشمن ہوں اور کاٹنے کے لیے دوڑتے ہوں، انھیں مارنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1012
1012 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ ضَارٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کتا پالا جو نہ مویشی کی حفاظت کے لیے ہے اور نہ شکار کرنے کے لیے، تو روزانہ اس کی نیکیوں میں سے دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 72 كتاب الذبائح والصيد: 6 باب من اقتنى كلبًا ليس بكلب صيد أو ماشية»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
1013 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَمْسَك كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ، إِلاَّ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کوئی کتا رکھا، اس نے روزانہ اپنے عمل سے ایک قیراط کی کمی کر لی۔ البتہ کھیتی یا مویشی (کی حفاظت کے لیے) کتے اس سے الگ ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 3 باب اقتناء الكلب للحرث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
1014 صحيح حديث سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا، نَقَصَ كلَّ يَوْمٍ مِنْ عَمَلِهِ قِيرَاطٌ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ ”جس نے کتا پالا، جو نہ کھیتی کے لیے ہے اور نہ مویشی کے لیے تو اس کی نیکیوں سے روزانہ ایک قیراط کم ہو جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 3 باب اقتناء الكلب للحرث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
513. باب حل أجرة الحجامة
باب: پچھنے لگانے کی اُجرت حلال ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1015
1015 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَجْرِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفوا عَنْهُ وَقَالَ: إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پچھنا لگانے والے کی مزدوری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طیبہ (نافع یا میسرہ) نے پچھنا لگایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو صاع کھجور مزدوری میں دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مالکوں (بنو حارثہ) سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے وصول کیے جانے والے لگان میں کمی کر دی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(خون کے دباؤ کا) بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے اور عمدہ دوا عودِ ہندی کا استعمال کرنا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 13 باب الحجامة من الداء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1016
1016 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوا ڈلوائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 9 باب السعوط»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
514. باب تحريم بيع الخمر
باب: شراب بیچنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
1017 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُنْزِلَ الآيَاتُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَرَّمَ تِجَارَةَ الْخَمْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب سورہ بقرہ کی سود سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے اور ان آیات کی لوگوں کے سامنے تلاوت فرمائی، پھر فرمایا: ”شراب کی تجارت حرام ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 73 باب تحريم تجارة الخمر في المسجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
515. باب تحريم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام
باب: شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1018
1018 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، عَامَ الْفَتْحِ، وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالأَصْنَامِ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ: لاَ، هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَ ذلِكَ: قَاتَلَ اللهُ الْيهُودَ، إِنَّ اللهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے سال، جبکہ آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا، سنا کہ ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دیا ہے“۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں، کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے“۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہودیوں کو برباد کرے! اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 112 باب بيع الميتة والأصنام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں