اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
520. باب بيع البعير واستثناء ركوبه
باب: اونٹ کا بیچنا اور سواری کی شرط طے کر لینا
حدیث نمبر: 1029
1029 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَهُ، فَدَعَالَهُ، فَسَارَ بِسَيْرٍ لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ قُلْتُ: لاَ ثُمَّ قَالَ: بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ فَبِعْتُهُ، فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلاَنَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى إِثْرِى، قَالَ: مَا كُنْتُ لآخُذَ جَمَلَكَ، فَخُذْ جَمَلَكَ ذلِكَ فَهُوَ مَالُكَ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک غزوہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے، اونٹ تھک گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو۔“ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ کے ہاتھ پر بیچ دیا، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا۔ پھر جب ہم مدینہ پہنچ گئے تو میں نے اونٹ آپ کو پیش کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا۔ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا، اپنا اونٹ لے جاؤ، یہ تمہارا ہی مال ہے۔“ اور قیمت واپس نہیں لی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 54 كتاب الشروط: 4 باب إذا اشترط البائع ظهر الدابة إلى مكان مسمى جاز»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1030
1030 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَلاَحَقَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحِ لَنَا قَدْ أَعْيَا فَلاَ يَكَادُ يَسِيرُ، فَقَالَ لِي: مَا لِبَعِيرِكَ قَالَ: قُلْتُ: عَيِيَ قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ، فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِير، فَقَالَ لِي: كَيْفَ تَرَى بَعِيرَكَ قَالَ قُلْتُ: بِخَيْرٍ، قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ: أَفَتَبِيعُنِيهِ قَالَ: فَاسْتَحْيَيْتُ، وَلَمْ يَكُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ، قَالَ فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَبِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ، قَالَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلاَمَنِي قَالَ: وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ: هَلْ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا فَقَالَ: هَلاَّ تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ قلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي، أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ فَلاَ تُؤَدِّبُهُنَّ وَلاَ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبُهُنَّ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ، فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (جنگ تبوک) میں شریک تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آ کر میرے پاس تشریف لائے۔ میں اپنے پانی لادنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا۔ چونکہ وہ تھک چکا تھا، اس لیے دھیرے دھیرے چل رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”جابر! تمہارے اونٹ کو کیا ہو گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ تھک گیا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی، پھر تو وہ برابر دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اپنے اونٹ کے متعلق کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا کہ اب اچھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے ایسا ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا اسے بیچو گے؟“ انہوں نے بیان کیا کہ میں شرمندہ ہو گیا، کیونکہ ہمارے پاس پانی لانے کو اس کے سوا اور کوئی اونٹ نہیں رہا تھا۔ مگر میں نے عرض کیا، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بیچ دے۔“ چنانچہ میں نے وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا اور یہ طے پایا کہ مدینہ تک میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (آگے بڑھ کر اپنے گھر جانے کی) اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عنایت فرما دی۔ اس لیے میں سب سے پہلے مدینہ پہنچ آیا۔ جب ماموں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے متعلق پوچھا۔ جو معاملہ میں کر چکا تھا اس کی انہیں اطلاع دی تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا۔ (ایک اونٹ تھا تیرے پاس وہ بھی بیچ ڈالا اب پانی کس پر لائے گا) جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا تھا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ میں نے عرض کیا تھا بیوہ سے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”باکرہ سے کیوں نہ کی، وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے۔“ (کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بھی ابھی کنوارے تھے) میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے باپ کی وفات ہو گئی ہے یا (یہ کہا کہ) وہ (احد میں) شہید ہو چکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں۔ اس لیے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے نہ ان کی نگرانی کر سکے۔ اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ انہوں نے بیان کیا، کہا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو صبح کے وقت میں اسی اونٹ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس اونٹ کی قیمت عطا فرمائی اور پھر وہ اونٹ بھی واپس کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 113 باب استئذان الرجل الإمام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1031
1031 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: اشْتَرَى مِنِّي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوَقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ، فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اونٹ خریدا تھا، دو اوقیہ اور ایک درہم یا (راوی کو شبہ ہے کہ دو اوقیہ) دو درہم میں؛ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام صرار پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور گائے ذبح کی گئی اور لوگوں نے اس کا گوشت کھایا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو مجھے حکم دیا کہ ”پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو،“ اس کے بعد مجھے میرے اونٹ کی قیمت وزن کر کے عنایت فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 199 باب الطعام عند القدوم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
521. باب من استسلف شيئًا فقضى خيرًا منه وخيركم أحسنكم قضاء
باب: جانوروں کا قرض لے کر اس سے بہتر دینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1032
1032 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ فَأَغْلَظَ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ثمَّ قَالَ: أَعْطُوهُ سِنًّا مِثْلَ سِنِّهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِلاَّ أَمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ فَقَالَ: أَعْطُوهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنے قرض کا) تقاضا کرنے آیا اور سخت سست کہنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غصہ ہو کر اس کی طرف بڑھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ جس کا کسی پر حق ہو تو وہ کہنے سننے کا بھی حق رکھتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے قرض والے جانور کی عمر کا ایک جانور اسے دے دو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس سے زیادہ عمر کا جانور تو موجود ہے (لیکن اس عمر کا نہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو، کیونکہ سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو دوسروں کا حق پوری طرح ادا کر دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 40 كتاب الوكالة: 6 باب الوكالة في قضاء الديون»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
522. باب الرهن وجوازه في الحضر كالسفر
باب: گروی رکھنا سفر اور حضر دونوں میں جائز ہے
حدیث نمبر: 1033
1033 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھار خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 14 باب شراء النبي صلی اللہ علیہ وسلم بالنسيئة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
523. باب السلم
باب: بیع سلم کا بیان
حدیث نمبر: 1034
1034 صحيح حديث ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ، فَقَالَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، تو لوگ کھجور میں دو اور تین سال تک کے لیے بیعِ سلم کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ”جسے کسی چیز کی بیعِ سلم کرنی ہے، اسے مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے ٹھہرا کر کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 35 كتاب السلم: 2 باب السلم في وزن معلوم»
وضاحت: مثلاً ۱۰۰ روپے کا اتنے وزن کا غلہ آج سے پورے تین ماہ بعد تم سے وصول کروں گا۔یہ طے کر کے خریدار نے سو روپیہ اسی وقت ادا کر دیا۔ یہ بیع سلم ہے جو جائز ہے۔ اب مدت پوری ہونے پر وزن مقررہ کا غلہ اسے خریدار کو ادا کرنا ہو گا۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
524. باب النهي عن الحلف في البيع
باب: بیع میں قسم کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1035
1035 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”(سامان بیچتے وقت دکان دار کے) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے، لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 26 باب يمحق الله الربا ويربى الصدقات والله لا يحب كل كفار أثيم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
525. باب الشفعة
باب: شفعہ کا بیان
حدیث نمبر: 1036
1036 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَضى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 36 كتاب الشفعة: 1 باب الشفعة في ما لم يقسم فإذا وقعت الحدود فلا شفعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
526. باب غرز الخشب في جدار الجار
باب: ہمسایہ کی دیوار میں لکڑی گاڑنا
حدیث نمبر: 1037
1037 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَالِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے نہ روکے“، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (کہا کرتے تھے) یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرنے والا پاتا ہوں؟ قسم اللہ کی! میں تو اس حدیث کا تمہارے سامنے برابر اعلان کرتا ہی رہوں گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 20 باب لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبه في جداره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
527. باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها
باب: ظلم کرنا اور دوسرے کی زمین چھیننا حرام ہے
حدیث نمبر: 1038
1038 صحيح حديث سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نفَيْلٍ، أَنَّهُ خَاصَمَتْه أَرْوى فِي حَقِّ، زَعَمَتْ أَنَّهُ انْتَقَصَهُ لَهَا، إِلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقولُ: مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کا ارویٰ بنت ابی اوس سے ایک (زمین کے) بارے میں جھگڑا ہوا، جس کے متعلق ارویٰ کہتی تھی کہ سعید نے میری زمین چھین لی ہے۔ یہ مقدمہ مروان خلیفہ کے یہاں فیصلے کے لیے گیا جو مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلا کیا میں ان کا حق دبا لوں گا؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساقاة/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 2 باب ما جاء في سبع أرضين»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ ابتداء میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں شام بھیجا تھا، البتہ مال غنیمت میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے مسلمان ہوئے۔ یرموک اور دمشق کی فتح میں شامل تھے۔ ۴۸ احادیث کے راوی ہیں۔جن میں سے دو متفق علیہ ہیں۔ ۷۳ سال کی عمر میں عتیق مقام پر وفات پائی اور مدینہ میں دفن ہوئے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جنازہ پڑھایا تھا۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے ارویٰ کے لیے اپنے حق کو چھوڑ دیا تھا اور بد دعا کی تھی کہ یا اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے آنکھوں سے نابینا کر دے اور اس کے گھر کو اس کی قبر بنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کی۔ وہ نابینا ہوئی اور اپنے گھر میں موجود کنویں کے پاس سے گزرنے لگی تو اس میں گر گئی۔ اس طرح وہ کنواں اس کی قبر بنا۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»