🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
736. باب تحريم إِقامة الإنسان من موضعه المباح الذي سبق إِليه
باب: پہلے بیٹھے ہوئے کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1406
1406 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 31 باب لا يقيم الرجل الرجل من مجلسه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
737. باب منع المخنث من الدخول على النساء الأجانب
باب: ہیجڑا اجنبی عورتوں کے پاس نہ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1407
1407 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلاَنَ، فَإِنَّهَا تَقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتدْبِرُ بِثَمَانٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَدْخُلَنَّ هؤُلاَءِ عَلَيْكُنَّ
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا، پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عنایت فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی (بادیہ نامی) کو لے لینا، وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں (یعنی بہت موٹی تازی عورت ہے)، اس لیے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اب تمہارے گھر میں نہ آیا کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 56 باب غزوة الطائف في شوال سنة ثمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
738. باب جواز إِرداف المرأة الأجنبية إِذا أعيت في الطريق
باب: اگر اجنبی عورت راہ میں تھک گئی ہو تو اس کو اپنے ساتھ سوار کر لینا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1408
1408 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلوكٍ وَلاَ شَيْءٍ، غَيْرَ نَاضِجٍ وَغَيْرَ فَرَسِهِ فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ، وَأَعجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلثَيْ فَرْسَخٍ فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ: إِخْ إِخْ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ فَاسَتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي اسْتَحْيَيْتُ، فَمَضى فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لأَرْكَبَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ، وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ: وَاللهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ، بَعْدَ ذَلِكَ، بِخَادِمٍ يَكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی تھی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا: «إِخْ إِخْ» ”إِخْ إِخْ“۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی با غیرت تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔ پھر میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی، میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلی، اگر تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی (کیونکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں) اس کے بعد میرے والد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا، وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بے فکر ہو گئی، گویا والد ماجد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (غلام بھیج کر) مجھ کو آزاد کر دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 67 كتاب النكاح: 107 باب الغيرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
739. باب مناجاة الاثنين دون الثالث بغير رضاه
باب: تین آدمی ہوں تو ان میں سے دو تیسرے کی رضا مندی کے بغیر سرگوشی نہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1409
1409 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ، قَالَ: إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر، دو آپس میں کانا پھوسی نہ کریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 45 باب لا يتناجى اثنان دون الثالث»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1410
1410 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً، فَلاَ يَتَنَاجى رَجُلاَنٍ دُونَ الآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی نہ کیا کرو، اس لیے کہ اس سے لوگوں کو رنج ہوگا، البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 47 باب إذا كانوا أكثر من ثلاثة فلا بأس بالمسارة والمناجاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
740. باب الطب والمرض والرقي
باب: علاج اور بیماری اور منتر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1411
1411 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَيْنُ حَقٌّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْعَيْنُ حَقٌّ» ”نظر لگنا حق ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 36 باب العين حق»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
741. باب السحر
باب: جادو کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1412
1412 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحِرَ، حَتَّى كَانَ يَرَى أَنَّهُ يَأْتِي النِّسَاءَ وَلاَ يَأْتِيهِنَّ قَالَ سُفْيَانُ (أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) وَهذَا أَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ السِّحْرِ إِذَا كَانَ كَذَا فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ أَتَانِي رَجُلاَنِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي، وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلآخَرِ: مَا بَالُ الرَّجُلِ قَالَ: مَطْبُوبٌ قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ: لُبَيْدُ ابْنُ أَعْصَمَ، رَجُلٌ مِنْ زُرَيْقٍ، حَلِيفٌ لِيَهُودَ، كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: وَفِيمَ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ قَالَ: وَأَيْنَ قَالَ: فِي جُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ، فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ قَالَتْ: فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِئْرَ حَتَّى اسْتَخْرَجَهُ فَقَالَ: هذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَكَأَنَّ [ص:60] مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكأَنَّ نخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينِ قَالَ: فَاسْتُخْرِجَ قَالَتْ: فَقُلْتُ أَفَلاَ، أَي، تَنَشَّرْتَ فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ شَرًّا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا اور اس کا آپ پر یہ اثر ہوا تھا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کے ساتھ ہم بستری کی ہے، حالانکہ آپ نے کی نہیں ہوتی تھی۔ سفیان ثوری (سند کے ایک راوی) نے بیان کیا کہ یہ جادو کی سب سے سخت قسم ہے جب اس کا یہ اثر ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ تعالیٰ سے جو بات میں نے پوچھی تھی اس کا جواب اس نے کب کا دے دیا ہے۔ میرے پاس دو فرشتے آئے، ایک میرے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ جو فرشتہ میرے سر کی طرف کھڑا تھا اس نے دوسرے سے کہا: ان صاحب کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا کہ کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے، یہ یہودیوں کے حلیف بنی زریق کا ایک شخص تھا اور منافق تھا۔ سوال کیا کہ کس چیز میں ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ کنگھے اور بال میں۔ پوچھا کہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشے میں جو ذروان کے کنویں کے اندر رکھے ہوئے پتھر کے نیچے دفن ہے۔“ بیان کیا کہ پھر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جادو اندر سے نکالا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا رنگین تھا اور اس کے کھجور کے درختوں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے۔“ بیان کیا کہ پھر وہ جادو کنویں میں سے نکالا گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ آپ نے اس جادو کا توڑ کیوں نہیں کرایا؟ فرمایا: ”ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی، اب میں لوگوں میں ایک شور ہونا پسند نہیں کرتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1412]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 49 باب هل يستخرج السحر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
742. باب السم
باب: زہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1413
1413 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ يَهُودِيَّة أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ: أَلاَ تَقْتُلُهَا قَالَ: لاَ قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا (لیکن فوراً ہی فرمایا کہ ”اس میں زہر پڑا ہوا ہے“) پھر جب اس عورت کو لایا گیا اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا تو کہا گیا: کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”نہیں۔“ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1413]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 51 كتاب الهبة: 28 باب قبول الهدية من المشركين»
وضاحت: اثر سے مراد اس زہر کا رنگ ہے یا اور کوئی تغیر جو آپ کے تالوئے مبارک میں ہوا ہو گا۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
743. باب استحباب رقية المريض
باب: بیمار پر دم کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1414
1414 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا، أَوْ أُتِيَ بِهِ قَالَ: أَذْهِبِ الْبَاسَ، رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا فرماتے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے پروردگار! بیماری دور کر دے، اے انسانوں کے پالنے والے! شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا اور کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 75 كتاب المرضى: 20 باب دعاء العائد للمريض»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
744. باب رقية المريض بالمعوّذات والنفث
باب: بیمار پر معوذات پڑھ کر پھونکنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1415
1415 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ، إِذَا اشْتَكَى، يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمَعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ، وَأَمَسَحُ بِيَدِهِ، رَجَاءَ بَرَكَتِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے (اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا)، پھر جب (مرض الموت میں) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر برکت کی امید میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 66 كتاب فضائل القرآن: 14 باب المعوذات»
وضاحت: معوذات سے آخری تین سورتیں سورہ اخلاص، فلق اور ناس مراد ہیں۔ دم پڑھنے کے لیے ان سورتوں کی تاثیر فی الواقع اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ تعجب ہے ان نام نہاد احمق عالموں پر جو بناوٹی اور مہمل لفظوں میں چھو منتر کرتے اور قرآن کی اکسیر سورتوں سے منہ موڑتے ہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں