🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
747. باب لكل داء دواء واستحباب التداوي
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1426
1426 صحيح حديث رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْحُمَّى مِنْ فَوْحِ جَهَنَّمَ، فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے، پس اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 28 باب الحمى من فيح جهنم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
748. باب كراهة التداوي باللدود
باب: مریض کے منہ میں زبردستی دوا ڈالنا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1427
1427 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَدَدْنَاهُ فِي مَرَضِهِ، فَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ لاَ تَلُدُّونِي فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلدُّونِي قُلْنَا: كَرَاهِيَةَ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ فَقَالَ لاَ يَبْقَى أَحَدٌ فِي الْبَيْتِ إِلاَّ لُدَّ وَأَنَا أَنْظرُ، إِلاَّ الْعَبَّاسَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں ہم آپ کے منہ میں دوا ڈالنے لگے تو آپ نے اشارے سے دوا دینے سے منع فرمایا۔ ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا پینے سے (بعض اوقات) جو ناگواری ہوتی ہے یہ بھی اسی کا نتیجہ ہے (اس لیے ہم نے اصرار کیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر میں جتنے آدمی ہیں سب کے منہ میں میرے سامنے دوا ڈالی جائے۔ صرف سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس سے الگ ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ اس کام میں شریک نہیں تھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 83 باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
749. باب التداوي بالعود الهندي وهو الكست
باب: عود ہندی (کست) کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1428
1428 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
سیدنا ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئی جو کھانا نہیں کھاتا تھا (یعنی شیر خوار تھا)، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اس بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1428]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 59 باب بول الصبيان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1429
1429 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: عَلَيْكمْ بِهذا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ
سیدنا ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس «الْعُودِ الْهِنْدِيِّ» ”عود ہندی“ (کست) کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے، پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 10 باب السعوط بالقسط الهندي البحري وهو الكست»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
750. باب التداوي بالحبة السوداء
باب: کالے دانے کے ساتھ علاج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1430
1430 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّه سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلاَّ السَّامَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ دانوں (کلونجی) میں ہر بیماری سے شفا ہے سوائے موت کے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 7 باب الحبة السوداء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
751. باب التلبينة مجمة لفؤاد المريض
باب: تلبینہ دل کے مریض کے لیے فائدہ مند ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1431
1431 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ، إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلاَّ أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ ثمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کا یہ معمول تھا کہ) جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں، صرف گھر والے اور خاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ رضی اللہ عنہا ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں، وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا، پھر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ» ”تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1431]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 24 باب التلبينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
752. باب التداوي بسقي العسل
باب: شہد سے علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1432
1432 صحيح حديث أَبِي سَعِيدِ، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلاً ثُمَّ أَتى الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلاً ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلاً ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: فَعَلْتُ فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلاً فَسَقَاهُ، فَبَرَأَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے شہد پلا۔“ پھر دوسری مرتبہ وہی صحابی حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لیے کہا۔ وہ پھر تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ (حکم کے مطابق) میں نے عمل کیا (لیکن شفا نہیں ہوئی)۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلا۔“ چنانچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے وہ تندرست ہو گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1432]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 4 باب الدواء بالعسل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
753. باب الطاعون والطيرة والكهانة وغيرها
باب: طاعون، بری فال اور کہانت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1433
1433 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعُونُ رِجْسٌ، أُرْسِلَ عَلَى ظَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ (وَفِي رِوَايَةٍ) لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارًا مِنْهُ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون ایک عذاب ہے جو پہلے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا گیا تھا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ایک گزشتہ امت پر بھیجا گیا تھا۔ اس لیے جب کسی جگہ کے متعلق تم سنو (کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے) تو وہاں نہ جاؤ، لیکن اگر کسی ایسی جگہ یہ وبا پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔“ اور ایک روایت میں ہے، یعنی بھاگنے کے سوا اور کوئی غرض نہ ہو تو: ”مت نکلو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
وضاحت: معلوم ہوا کہ تجارت، جہاد یا دوسری اغراض (سوائے فرارکے) کے لیے طاعون زدہ مقامات سے نکلنا جائز ہے۔ حضرت عمر شام کو جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہاں طاعون ہے، واپس لوٹ آئے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1434
1434 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ، لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ، أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ عُمَرُ: ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ فَدَعَاهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضهُمْ: قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ، وَلاَ نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هذَا الْوَبَاءِ فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا لِي الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ، وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلاَفِهِمْ فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ ههُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ مِنْهُمْ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ فَقَالُوا: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تقْدِمَهُمْ عَلَى هذَا الْوَبَاءِ فَنَادَى عُمَرُ، فِي النَّاسِ: إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبَحُوا عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعَمْ، نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلَى قَدَرِ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ هَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ، إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصِبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ، وَاِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللهِ قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي فِي هذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بَأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے جا رہے تھے، جب آپ مقامِ سرغ پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی۔ ان لوگوں نے امیر المومنین کو بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس مہاجرینِ اولین کو بلا لاؤ۔ آپ انہیں بلا لائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ مہاجرینِ اولین کی رائیں مختلف ہو گئیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ساتھیوں کی باقی ماندہ جماعت آپ کے ساتھ ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ انہیں اس وبا میں ڈال دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا اب آپ لوگ تشریف لے جائیں، پھر فرمایا کہ انصار کو بلاؤ۔ میں انصار کو بلا کر لایا، آپ نے ان سے بھی مشورہ کیا اور انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا، کوئی کہنے لگا چلو، کوئی کہنے لگا لوٹ جاؤ۔ امیر المومنین نے فرمایا کہ اب آپ لوگ بھی تشریف لے جائیں، پھر فرمایا کہ یہاں پر جو قریش کے بڑے بوڑھے ہیں جو فتحِ مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے انہیں بلا لاؤ، میں انہیں بلا کر لایا۔ ان لوگوں میں کوئی اختلافِ رائے پیدا نہیں ہوا، سب نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی ملک میں لوگوں کو لے جا کر نہ ڈالیں۔ یہ سنتے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر واپس مدینہ منورہ لوٹ جاؤں گا، تم لوگ بھی واپس چلو۔ صبح کو ایسا ہی ہوا تو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کیا جائے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش! یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی، ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں، لیکن اللہ ہی کی تقدیر کی طرف۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم انہیں لے کر کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں، ایک سر سبز و شاداب اور دوسرا خشک؛ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر تم سر سبز کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا اور خشک کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا؟ بیان کیا کہ پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے، وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس وقت موجود نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے پاس مسئلہ سے متعلق ایک علم ہے۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی سرزمین میں (وبا کے متعلق) سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔“ راوی نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر واپس ہو گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1434]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 30 باب ما يذكر في الطاعون»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بنو زہرہ خاندان سے تعلق تھا کنیت ابو محمد تھی ان آٹھ صحابہ میں سے ہیں جو اسلام کے قبول کرنے میں سبقت رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے جنت کی خوشخبری دی غزوہ بدر اور بیعت رضوان میںبھی شامل تھے۔ ایک دفعہ صبح کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اقتدا میں ادا کی۔ بڑے سخی اور صدقہ کرنے والے تھے۔ لمبے قد کے خوبصورت چہرے، نرم جلد والے، سرخی مائل سفید رنگ کے تھے۔ متعدد احادیث کے راوی ہیں۔ ۳۱ ہجری کو یا بقول بعض ۳۲ ہجری کو وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
754. باب لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر ولا نوء ولا غول ولا يورد ممرض على مصح
باب: بیماری لگ جانا، اور بد شگونی، ہامہ اور صفراء و نواء اور غولی یہ سب لغو ہیں اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1435
1435 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُول اللهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الأَوَّلَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امراض میں چھوت چھات، صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں۔“ اس پر ایک اعرابی بولا: یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں، پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے؟ تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 25 باب لا صفر وهو داء يأخذ البطن»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں