🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
745. باب استحباب الرقية من العين والنملة والحمة والنظرة
باب: نظر اور غلہ اور زہر کے لیے دم کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1416
1416 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ فَقَالَتْ: رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّقْيَةَ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زہریلے جانور کے کاٹنے میں دم کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہر زہریلے جانور کے کاٹنے میں دم کرنے کی اجازت دی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 37 باب رقية الحية والعقرب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
1417 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ: بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے لیے (کلمے کی انگلی زمین پر لگا کر) یہ دعا پڑھتے تھے: «بِسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام کی مدد سے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ تا کہ ہمارا مریض شفا پا جائے ہمارے رب کے حکم سے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 38 باب رقية النبي صلي الله عليه وسلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1418
1418 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى منَ الْعَيْنِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا یا (آپ نے اس طرح بیان کیا کہ) آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”نظر بد لگ جانے پر معوذتین سے دم کر لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 35 باب رقية العين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1419
1419 صحيح حديث أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً، فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ: اسْتَرْقُوا لَهَا، فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر (نظر بد لگنے کی وجہ سے) کالے دھبے پڑ گئے تھے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسْتَرْقُوا لَهَا؛ فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ» ”اس پر دم کرا دو کیونکہ اسے نظر بد لگ گئی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 کتاب الطب: 35 باب رقیۃ العین»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
746. باب جواز أخذ الأجرة على الرقية بالقرآن والأذكار
باب: قرآن یا دعا سے دم کر کے اس پر اجرت لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1420
1420 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه، قَالَ: انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَلُدِغَ سَيِّدُ ذلِكَ الْحَيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ شَيْءٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِين نَزَلُوا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ، وَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لاَ يَنْفَعُهُ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ وَاللهِ إِنِّي لأَرْقِي، وَلكِنْ وَاللهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَمَا أَنَا بَرَاقٍ لَكمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعِ مِنَ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ (الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ: فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَى لاَ تَفْعَلُوا، حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ، فَنَنْظرَ مَا يَأْمُرُنَا فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمُ، اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنهم سفر میں تھے، دورانِ سفر وہ عرب کے ایک قبیلے پر اترے۔ صحابہ رضی اللہ عنهم نے چاہا کہ قبیلے والے انہیں اپنا مہمان بنا لیں، لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی، بلکہ صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے اسی قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، قبیلے والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی، لیکن ان کا سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا کہ چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آ کر اترے ہیں، ممکن ہے کوئی دم جھاڑ کی چیز ان کے پاس ہو۔ چنانچہ قبیلے والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ اے بھائیو! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے، اس کے لیے ہم نے ہر قسم کی کوشش کر ڈالی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا، کیا تمہارے پاس کوئی چیز دم کرنے کی ہے؟ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اسے جھاڑ دوں گا، لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کر دیا، اس لیے میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا، آخر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہوا۔ وہ صحابی رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] پڑھ پڑھ کر دم کیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو، وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا اور تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ رضی اللہ عنهم کو ادا کر دی۔ کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کر لو، لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا، وہ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر لیں، اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ سب حضرات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورت فاتحہ بھی ایک رقیہ ہے؟“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔ اسے تقسیم کر لو اور ایک میرا حصہ بھی لگاؤ۔“ یہ فرما کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1420]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 16 باب ما يعطَى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
747. باب لكل داء دواء واستحباب التداوي
باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1421
1421 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنهما، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ، أَوْ يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ، خَيْرٌ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ تُوَافِقُ الدَّاءَ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری (ان) دواؤں میں بھلائی ہے تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1421]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 4 باب الدواء بالعسل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1422
1422 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما، قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ (اگر پچھنا لگوانا ناجائز ہوتا تو آپ نہ پچھنا لگواتے نہ اجرت دیتے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1422]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 18 باب خراج الحجام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1423
1423 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْتَجِمُ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِم أَحَدًا أَجْرَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1423]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 37 كتاب الإجارة: 18 باب خراج الحجام»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1424
1424 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ کے اثر سے ہوتا ہے، اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1424]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 10 باب صفة النار وأنها مخلوقة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1425
1425 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، كَانَتْ، إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ قَدْ حُمَّتْ تَدْعُو لَهَا، أَخَذَتِ الْمَاءَ فَصَبَّتْهُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَبْرُدَهَا بِالْمَاءِ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں، وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ: ”بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1425]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 27 باب الحمى من فيح جهنم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں