اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
781. باب رحمته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصبيان والعيال وتواضعه وفضل ذلك
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا بیان جو بچوں اور گھر والوں پر تھی اور اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 1498
1498 صحيح حديث جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لاَ يَرْحَمُ لاَ يُرْحَمُ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 27 باب رحمة الناس والبهائم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
782. باب كثرة حيائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاء اور شرم کا بیان
حدیث نمبر: 1499
1499 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنْ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1500
1500 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنٍ عَمْرِو، قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا [ص:104] وَلاَ مُتَفَحِّشًا وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلاَقًا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بد زبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں فرماتے ہیں اس حدیث میں حسن خلق پر رغبت دلائی گئی ہے اور اچھے اخلاق والوں کی فضیلت کا بیان ہے کہ حسن خلق انبیاء اور اولیاء کی صفت ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اچھے اخلاق کی حقیقت یہ ہے کہ نیکی کو عام کرنا، تکلیف دینے سے اجتناب کرنا، کشادہ پیشانی سے پیش آنا۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں اچھا اخلاق لوگوں سے خوبصورتی اور خوشی سے تعلقات رکھنا ان سے محبت کرنا، ان پر شفقت کرنا، ان کو برداشت کرنا، ان سے بردباری سے پیش آنا، ان کی مکروہ باتوں پر صبر کرنا، تکبر اور عیب کو چھوڑ دینا، سنگ دلی، غیض و غضب اور انتقام لینے سے پہلو تہی کرنا ہے۔ (مرتب)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
783. باب في رحمة النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للنساء، وأمر السواق مطاياهن بالرفق بهن
باب: عورتوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کا بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی سواریاں چلانے والوں کو ان پر نرمی کرنے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1501
1501 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلاَمٌ لَهُ أَسْوَدُ، يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، يَحْدُو فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا، اس کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی)، رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَيْحَكَ» ”افسوس“ اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔“ (شیشوں سے آپ نے عورتوں کو مراد لیا کیونکہ وہ بھی شیشے کی طرح نازک اندام ہوتی ہیں)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 95 باب ما جاء في قول الرجل ويلك»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
784. باب مباعدته صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للآثام واختياره من المباح أسهله وانتقامه لله عند انتهاك حرماته
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہ کے کاموں سے دور رہنا اور آسان مباح کام کو اختیار کرنا اور اپنی ذات کے لیے انتقام نہ لینا مگر جب اللہ کی حرمت پامال ہوتی ہو
حدیث نمبر: 1502
1502 صحيح حديث عَائِشَة، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلاَّ أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِنَفْسِهِ، إِلاَّ أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ فَيَنْتَقِمَ للهِ بِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ کو زیادہ آسانی معلوم ہوئی، بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو، کیونکہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا، لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ضرور بدلہ لیتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
785. باب طيب رائحة النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ولين مسه والتبرّك بمسحه
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر کی خوشبو اور جلد کی نرمی کا بیان
حدیث نمبر: 1503
1503 صحيح حديث أَنَس رضي الله عنه، قَالَ: مَا مَسِسْتُ حَرِيرًا وَلاَ دِيبَاجًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ أَوْ عَرْفًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنَ رِيحِ أَوْ عَرْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی حریر و دیباج میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو یا آپ کے پسینے سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
786. باب طيب عرق النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والتبرّك به
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ کا خوشبودار اور متبرک ہونا
حدیث نمبر: 1504
1504 صحيح حديث أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ تَبْسُطُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِطَعًا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى ذلِكَ النِّطَعِ قَالَ: فَإِذَا نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَتْ مِنْ عَرَقِهِ وَشَعَرِهِ فَجَمَعَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَمَعَتْهُ فِي سُكٍّ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ (ان کی والدہ) سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے (اور بیدار ہوئے) تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور (جھڑے ہوئے) آپ کے بال لے لیے اور (پسینہ کو) ایک شیشی میں جمع کیا اور سک (ایک خوشبو) میں اسے ملا لیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1504]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 79 كتاب الاستئذان: 41 باب من زار قومًا فقال عندهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
787. باب عرق النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في البرد وحين يأتيه الوحي
باب: سردی ا ور نزول وحی کے موقعہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ کا بیان
حدیث نمبر: 1505
1505 صحيح حديث عَائِشَةَ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ الْحارثَ بْنَ هِشَامٍ رضي الله عنه، سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ، وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ حضور آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گزرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر (اس فرشتے) کے ذریعے نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکلِ انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پسینے سے شرابور تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 1 كتاب بدء الوحي: 2 باب حدثنا عبد الله بن يوسف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
788. باب في صفة النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأنه كان أحسن الناس وجهًا
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھا
حدیث نمبر: 1506
1506 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذنَيْهِ، رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے مالک تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ بہت کشادہ اور کھلا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (سر کے) بال کانوں کی لو تک لٹکتے رہتے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک سرخ جوڑے میں دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1507
1507 صحيح حديث الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُ خَلُقًا، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور اخلاق میں بھی سب سے بہتر تھے، آپ کا قد نہ بہت لمبا تھا اور نہ چھوٹا (بلکہ درمیانہ قد تھا)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1507]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
الحكم على الحديث:
«صحیح»