🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
789. باب صفة شعر النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1508
1508 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلاً لَيْسَ بِالسَّبِطِ وَلاَ الْجَعْدِ، بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بال درمیانے تھے، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 68 باب الجعد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1509
1509 صحيح حديث أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَضْرِبُ شَعَرُهُ مَنْكِبَيْهِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (سر کے) بال مبارک کندھوں تک پہنچتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 68 باب الجعد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
790. باب شيبه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑھاپے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1510
1510 صحيح حديث أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَخَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَبْلُغِ الشّيْبَ إِلاَّ قَلِيلاً
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہی بہت کم سفید ہوئے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 66 باب ما يذكر في الشيب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1511
1511 صحيح حديث أَبِي جُحَيْفَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُ بَيَاضًا مِنْ تَحْتِ شَفَتِهِ السُّفْلَى، الْعَنْفَقَةَ
سیدنا ابو جحیفہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کے نچلے ہونٹ مبارک کے نیچے ٹھوڑی کے کچھ بال سفید تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1512
1512 صحيح حديث أَبِي جُحَيْفَةَ رضي الله عنه، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ، يُشْبِهُهُ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما میں آپ کی شباہت پوری طرح موجود تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
791. باب إِثبات خاتم النبوة وصفته ومحله من جسده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: مہر نبوت کا ثبوت، اس کی صفات اور جسد اطہر میں اس کا مقام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1513
1513 صحيح حديث السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنَ أَخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہرِ نبوت دیکھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی (یا کبوتری کا انڈا) (وضو کا بچا ہوا پانی پاک تھا تب ہی تو اسے پیا گیا۔ پس جو لوگ آبِ مستعمل کو ناپاک کہتے ہیں وہ بالکل غلط کہتے ہیں)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 40 باب استعمال فضل وضوء الناس»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت السائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ابو یزید کندی مدنی ہے، ۲ھ میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں حاضر ہوئے۔ آپ کے سن وفات میں اختلاف ہے ۸۲ یا ۹۱ یا ۹۲ یا ۹۳ ہجری میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
792. باب في صفة النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ومبعثه وسنه
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ اور بعثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
1514 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَصِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ، لَيْسَ بِأَبْيَضَ أَمْهَقَ، وَلاَ آدَمَ، لَيْسَ بِجَعْدٍ قَطَطٍ، وَلاَ سَبْطٍ رَجِلٍ؛ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، فَلَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصافِ مبارکہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد تھے، نہ بہت لمبے اور نہ چھوٹے قد والے، رنگ کھلتا ہوا تھا (سرخ و سفید)، نہ بالکل سفید تھے اور نہ بالکل گندم گوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نہ بالکل مڑے ہوئے سخت قسم کے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ نزولِ وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال تھی۔ مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال تک قیام فرمایا اور اس پورے عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام دس سال رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 23 باب صفة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
793. باب كم سنّ النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يوم قبض
باب: وفات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
1515 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 19 باب وفاة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
794. باب كم أقام النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمكة والمدينة
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ و مدینہ میں کتنی دیر قیام فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
1516 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 14 باب هجرة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأصحابه إلى المدينة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
795. باب في أسمائه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف نام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1517
1517 صحيح حديث جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ؛ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللهُ بِي الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يَحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پانچ نام ہیں۔ میں «مُحَمَّدٌ» ”محمد“، «أَحْمَدُ» ”احمد“ اور «الْمَاحِي» ”ماحی“ ہوں (یعنی مٹانے والا ہوں) کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹائے گا اور میں «الْحَاشِرُ» ”حاشر“ ہوں کہ تمام انسانوں کا (قیامت کے دن) میرے بعد حشر ہوگا اور میں «الْعَاقِبُ» ”عاقب“ ہوں یعنی خاتم النبیین ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 17 باب ما جاء في أسماء رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں