اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
796. باب علمه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وشدة خشيته
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اور آپ اللہ سے بہت ڈرتے تھے
حدیث نمبر: 1518
1518 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَرَخَّصَ فِيهِ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ، فَبَلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ، فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ فَوَاللهِ إِنِّي لأَعْلَمُهُمْ بِاللهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 72 باب من لم يواجه الناس بالعتاب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
797. باب وجوب اتباعه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 1519
1519 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے میں جس کا پانی مدینے کے لوگ کھجور کے درختوں کو دیا کرتے تھے، اپنے جھگڑے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ انصاری زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: پانی کو آگے جانے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا اور یہی جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش تھا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(پہلے اپنا باغ) سینچ لے، پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلدی جانے دے۔“ اس پر انصاری رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا اور انہوں نے کہا: ہاں زبیر آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں نا۔ بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! تم سیراب کر لو، پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجهما البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 6 باب سَكْر الأنهار»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1520
1520 صحيح حديث فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ إِنِّي لأَحْسِبُ هذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذلِكَ (فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ)
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! میرا تو خیال ہے کہ یہ آیت اسی بات میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک اپنے جھگڑوں میں تجھ کو حاکم نہ تسلیم کر لیں، پھر تو جو فیصلے ان میں کر دے ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرماں برداری کے ساتھ قبول کر لیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجهما البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 6 باب سَكْر الأنهار»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔ قریش کے گنے چنے خطباء میں سے تھے۔ حجاز میں آپ کی خلافت کی بیعت ہوئی تھی اور نو سال تک برقرار رہی۔ یرموک، قسطنطنیہ اور مغرب کی جانب فتوحات میں شریک ہوئے۔ جنگ جمل میں اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے ساتھ تھے۔ ان کے زمانہ میں درہموں پر جو نقش تھا وہ اس طرح محمد رسول اللہ۔ امر اللہ بالوفاء والعدل۔ آپ ۳۳ احادیث کے راوی ہیں۔ ایک متفق علیہ ہے۔ حجاج بن یوسف ثقفی نے آپ کو منگل کے دن ۱۷ جمادی الثانیہ ۷۳ ہجری کو مکہ میں سولی پر لٹکا دیا۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
798. باب توقيره صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وترك إِكثار سؤاله عما لا ضرورة إِليه أو لا يتعلق به تكليف، وما لا يقع، ونحو ذلك
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے بہت زیادہ اور غیر ضروری اور نا ممکن قسم کے سوالات پوچھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1521
1521 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْئَلَتِهِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے حرام کر دی گئی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 96 كتاب الاعتصام: 3 باب ما يكره من كثرة السؤال وتكلف ما لا يعنيه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1522
1522 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُطْبَةً، مَا سَمِعْت مِثْلَهَا قَطُّ قَالَ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالَ: فَغَطَّى أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وُجُوهَهُمْ، لَهُمْ خَنِينٌ فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي قَالَ: فُلاَنٌ فَنَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَلَكُمْ تَسُؤْكُمْ)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ویسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہوتا تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“ بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے چہرے چھپا لیے، باوجود ضبط کے ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک صحابی نے اس موقع پر پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 5 سورة المائدة: 12 باب لا تسألوا عن أشياء إن تبدلكم تسؤكم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1523
1523 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَحْفَوْهُ الْمَسْئَلَةَ، فَغَضِبَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لاَ تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلاَّ بَيَّنْتُهُ لَكُمْ فَجَعَلتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لاَفٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لاَحَى الرِّجَالَ يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي قَالَ: حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولاً، نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے اور جب بہت زیادہ سوالات کیے تو آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”آج تم مجھ سے جو بات بھی پوچھو گے میں بتاؤں گا۔“ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کپڑوں میں سر لپیٹے ہوئے رو رہے تھے، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف (طعنہ کے طور پر) منسوب کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! میرے باپ کون ہیں؟“ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حذافہ۔“ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ”ہم اللہ سے راضی ہیں کہ وہ ہمارا رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سچے رسول ہیں،“ «نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ» ”ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کی طرح خیر و شر کے معاملے میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 35 باب التعوذ من الفتن»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1524
1524 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَشْيَاءَ كَرِهَهَا، فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي قَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ، قَالَ: يَا رَسُول اللهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی باتیں دریافت کی گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اور جب (اس قسم کے سوالات کی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادتی کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”(اچھا اب) مجھ سے جو چاہو پوچھو۔“ تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ حذافہ ہے۔“ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا باپ سالم، شیبہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔“ آخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا حال دیکھا تو عرض کی: یا رسول اللہ! ہم (ان باتوں کے دریافت کرنے سے جو آپ کو ناگوار ہوں) اللہ عزوجل سے توبہ کرتے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 28 باب الغضب في الموعظة والتعليم إذا رأى ما يكره»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
799. باب فضل النظر إليه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وتمنيه
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی فضیلت اور اس کی خواہش
حدیث نمبر: 1525
1525 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ زَمَانٌ لأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر ایک ایسا دور بھی آنے والا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے سارے گھر بار اور مال و دولت سے بڑھ کر مجھ کو دیکھ لینا زیادہ پسند کرے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
800. باب فضائل عيسىؑ
باب: حضرت عیسیٰؑ کے فضائل
حدیث نمبر: 1526
1526 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، وَالأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں ابن مریم علیہ السلام سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1526]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 48 باب واذكر في الكتاب مريم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1527
1527 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلاَّ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ، حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ، غَيْرَ مَرْيَمَ، وَابْنِهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ (وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَها مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور بچہ شیطان کے چھونے سے زور سے چیختا ہے، سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (اس کی وجہ مریم [علیہا السلام] کی والدہ کی یہ دعا ہے: ﴿وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] ”اے اللہ! میں اسے (مریم کو) اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 44 باب قول الله تعالى واذكر في الكتاب مريم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»