🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
870. باب فَضْلِ إِزَالَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
باب: راستے سے موذی چیز ہٹانے کا ثواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
1682 صحيح حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ، فَشَكَرَ الله لَهُ، فَغَفَر لَهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کہیں جا رہا تھا، راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا، اللہ تعالیٰ (صرف اسی بات پر) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 10 کتاب الأذان: 32 باب فضل التہجیر إلی الظہر۔»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
871. باب تَحْرِیمِ تَعْذِیبِ الہِرَّۃِ وَنَحْوِہَا مِنَ الحَیْوَانِ الَّذِی لاَ یُؤذِی
باب: بے ضرر جانور جیسے بلی وغیرہ کو تکلیف دینا حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
1683 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ، سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ. لاَ هِيَ أَطْعَمَتُهَا، وَلاَ سَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا. وَلاَ هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بنی اسرائیل کی) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مر گئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو نہ اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز دی، نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 60 کتاب الأنبیاء: 54 حدثنا أبو الیمان۔»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
872. باب الوَصِيَّةِ بِالجَارِ وَالإِحْسَانِ إِلَيْهِ
باب: پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
1684 صحيح حَدِيثُ عَائِشَةَ رضي الله عنها، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا زَالَ يُوصِيني جِبْرِيلُ بِالجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 28 باب الوصاۃ بالجار۔»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
1685 صحيح حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 28 باب الوصاۃ بالجار۔»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
873. باب اسْتِحْبَابِ الشَّفَاعَۃِ فِیْمَا لَیْسَ بِحَرَامٍ
باب: اچھے کام میں سفارش کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
1686 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا جَاءَهُ السَّائِلُ، أَوْ طُلِبَتْ إِلَيْهِ حَاجَةٌ قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، وَيَقْضِي اللهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا شَاءَ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اگر کوئی مانگنے والا آتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی حاجت پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرماتے: ”تم سفارش کرو کہ اس کا ثواب پاؤ گے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان سے جو فیصلہ چاہے گا وہ دے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 21 باب التحريض على الصدقة والشفاعة فيها»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
874. باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء
باب: نیک لوگوں کی صحبت اختیارکرنا اور برے لوگوں سے بچنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1687
1687 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ جَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ؛ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے (جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو) اور وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا (کم از کم) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے (بھٹی کی آگ سے) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبو دار دھواں پہنچے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 10 باب اتقوا النار ولو بشق تمرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
875. باب فضل الإحسان إِلى البنات
باب: بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1688
1688 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ، مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا، تَسْأَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا، غَيْرَ تَمْرَةٍ، فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْنَا، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت اپنی دو بچیوں کو لیے مانگتی ہوئی آئی۔ میرے پاس ایک کھجور کے سوا اس وقت کچھ نہ تھا میں نے وہی دے دی۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حال بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو معمولی سی بھی تکلیف میں ڈالا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 10 باب اتقوا النار ولو بشق تمرة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
876. باب فضل من يموت له ولد فيحتسبه
باب: اس شخص کی فضیلت جس کا بیٹا فوت ہو جائے اور وہ صبر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1689
1689 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلاَثَة مِنَ الْوَلَدِ، فَيَلِجُ النَّارَ، إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے اگر تین بچے مر جائیں تو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا اور اگر جائے گا بھی تو صرف قسم پوری کرنے کے لیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 6 باب فضل من مات له ولد فاحتسبه»
وضاحت: یہاں اس بات کا بھی لحاظ رہے کہ حدیث میں نابالغ اولاد کے مرنے پر اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے، بالغ کا ذکر نہیں ہے۔ حالانکہ بالغ اور خصوصاً جوان اولاد کی موت کا سانحہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ کی اللہ تعالیٰ سے سفارش کرتے ہیں۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1690
1690 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَة إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ، تَعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللهُ فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا، فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّم بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلاَثَةً، إِلاَّ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللهِ اثْنَيْنِ قَالَ: فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔“ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ ان کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔“ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو (بچے)؟ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس عورت نے اس کلمہ کو دو مرتبہ دہرایا، پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 69 كتاب الاعتصام: 9 باب تعليم النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أمته من الرجال والنساء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1691
1691 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهذَا وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ثَلاَثَةً لَمْ يَبْلُغُوا الحِنْثَ
عبد الرحمن بن الاصبہانی ذکوان سے، وہ ابو سعید سے اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اور (دوسری سند میں) عبد الرحمن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے ابو حازم سے سنا، وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ایسے تین (بچے) جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 36 باب هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں