اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
877. باب إِذا أحب الله عبدًا حببه لعباده
باب: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دیتا ہے
حدیث نمبر: 1692
1692 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا، نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللهَ قَدْ أَحَبَّ فُلاَنًا، فَأَحِبَّهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ قَدْ أَحَبَّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَيُوضعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الأَرْضِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرئیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح روئے زمین میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 33 باب كلام الرب مع جبريل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
878. باب المرء مع من أحب
باب: آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے دوستی رکھے
حدیث نمبر: 1693
1693 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلاَةٍ، وَلاَ صَوْمٍ، وَلاَ صَدَقَةٍ وَلكِنِّي أُحِبُّ اللهَ وَرَسولَهُ قَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے تو نہیں تیار کر رکھے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 96 باب علامة حب الله عز وجل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1694
1694 صحيح حديث أَبِي مُوسى، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمَّا يلْحَقْ بِهِمْ قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے مل نہیں سکا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 96 باب علامة حب الله عز وجل»
الحكم على الحديث:
«صحیح»