اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
858. باب ثَوَابِ المُؤْمِنِ فِيْمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
باب: مومن کو کوئی بیماری یا رنج و غم پہنچے حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھے تو اس کا ثواب ہے
حدیث نمبر: 1662
1662 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُوعَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ الله! إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيداً. قَالَ: «أَجَلْ. إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رجُلاَنِ مِنْكُمْ» قُلْتُ: ذالِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ. قَالَ: «أَجَلْ. ذالِكَ كَذالِكَ. مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلاَّ كَفَّرَ الله بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید بخار تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو بہت تیز بخار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یہ اس لیے کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کا ثواب بھی دوگنا ہے؟ فرمایا: ”ہاں، یہی بات ہے، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، کانٹا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز، تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے، اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 75 کتاب المرضی: 3 باب أشد الناس بلاء الأنبیاء ثم الأول فالأول۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1663
1663 صحيح حَدِيثُ عَائِشَةَ رضي الله عنها، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ المُسْلِمَ، إِلاَّ كَفَّرَ الله بِهَا عَنْهُ. حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا»
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیتا ہے، (کسی مسلمان کے) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے (تو وہ بھی اس شخص کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتا ہے)۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 70 کتاب المرضی: 1 باب ما جاء في کفارۃ المرض۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1664
1664 صحيح حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا يُصِيبُ المُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلاَ وَصَبٍ، وَلاَ هَمِّ، وَلاَ حُزْنٍ، وَلاَ أَذًى، وَلاَ غَمِّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا؛ إِلاَّ كَفَّرَ الله بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ»
سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 70 کتاب المرضی: 1 باب ما جاء في کفارۃ المرض۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1665
1665 صحيح حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ. عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: هاذِهِ المَرْأَةُ السَّوْدَاءُ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَلَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ، وَإِنِّي أَتكَشَّفُ، فَادْعُ الله لِي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ، صَبَرْتِ؛ وَلَكِ الجَنَّةُ. وَإِنْ شِئْتِ، دَعَوْتُ الله أَنْ يُعَافِيكِ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ. فَقَالَتْ: إِنِّي أَتكَشَّفُ: فَادْعُ الله أَنْ لاَ أَتكَشَّفَ. فَدَعَا لَهَا
عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھا دوں؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں، انہوں نے کہا کہ (یہ) سیاہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے، میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجیے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں۔“ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی، پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے، آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 70 کتاب المرضی: 6 باب فضل من یصرع من الریح۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
859. باب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ
باب: ظلم کرنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1666
1666 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما. عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ القِيَامَةِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم، قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 46 کتاب المظالم: 8 باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1667
1667 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ. وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ الله فِي حَاجَتِهِ. وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِم كُرْبَةً، فَرَّجَ الله عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ. وَمَنْ سَتَر مُسْلِمًا، سَتَرَهُ الله يَوْمَ القِيَامَة»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس وہ اس پر ظلم نہ کرے اور نہ (اس پر) ظلم ہونے دے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 46 کتاب المظالم: 3 باب لا یظلم المسلمُ لِمُسْلِمٍ وَلَا یُسلِمُہُ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1668
1668 صحيح حدِيثُ أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الله لَيُمْلِي للظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَطَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ» قَالَ: قَرَأَ {وَكَطالِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ القُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے، لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے﴾ [سورة هود: 102] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 65 کتاب التفسیر: 11 سورۃ ہود: 5 باب کذلک أخذ ربک إذا أخذ القری۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
860. باب نَصْرِ الأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا
باب: ظالم اور مظلوم بھائی کی مدد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1669
1669 صحيح حَديثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله رضي الله عنهما. قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَار! فقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلأَنصار! وَقَالَ المُهَاجِرِيِّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ! فَسَمِعَ ذَاكَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: «مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ الله! كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنصَارِ. فَقَالَ: «دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» . فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ الله بْنُ أُبَيِّ، فَقَالَ: فَعَلوهَا؟ أَمَا وَالله! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ.فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ يَا رَسُولَ الله! دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هاذَا المُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ. لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ»
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ (تبوک) میں تھے۔ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو لات مار دی۔ انصاری نے کہا کہ اے انصاریو! دوڑو اور مہاجر نے کہا اے مہاجرین! دوڑو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنا اور فرمایا: ”کیا قصہ ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات مار دی ہے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں۔“ عبد اللہ بن ابی نے بھی یہ بات سنی تو کہا کہ اچھا یہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ خدا کی قسم! ﴿جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا﴾ [سورة المنافقون: 8] ۔ اس کی خبر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کو ختم کر دوں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 65 کتاب التفسیر: 63 سورۃ المنافقون: 5 باب قولہ ﴿سواء علیہم أستغفرت لہم أم لم تستغفرلہم﴾۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
861. باب تَرَاحُمِ المُؤْمِنينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ
باب: مومنوں کا آپس میں اتحاد اور ایک دوسرے کا مددگار ہونا
حدیث نمبر: 1670
1670 صحيح حَدِيثُ أَبِي مُوسى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» وَشَبَّكَ أَصَابِعَهُ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 8 کتاب الصلاۃ: 88 باب تشبیک الأصابع في المسجد وغیرہ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1671
1671 صحيح حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِير. قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ، وَتَوادِّهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الْجَسَدِ. إِذَا اشْتَكَى عضْوًا، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ والحُمَّى»
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم ایسی تکلیف میں ہوتا ہے، کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 78 کتاب الأدب: 27 باب رحمۃ الناس والبہائم۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»