اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
917. باب صفة القيامة والجنة والنار
باب: قیامت، جنت اور دوزخ کا بیان
حدیث نمبر: 1775
1775 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقْبِضُ اللهُ الأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بَيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا کہ اب میں ہوں بادشاہ، آج زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟“ (جو اپنی بادشاہت پر نازاں تھے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 44 باب يقبض الله الأرض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1776
1776 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ اللهَ يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَرْضَ، وَتَكُونُ السَّموَاتُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہو گا، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1776]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 19 باب قول الله تعالى (لما خلقت بيدي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
918. باب في البعث والنشور وصفة الأرض يوم القيامة
باب: قیامت کے دن اٹھائے جانے اور زمین کے وصف کا بیان
حدیث نمبر: 1777
1777 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ كَقُرْصَةِ نَقِيٍّ لَيْسَ فِيهَا مَعْلَمٌ لأَحَدٍ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے، اس زمین پر کسی (چیز) کا کوئی نشان نہ ہوگا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1777]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 44 باب يقبض الله الأرض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
919. باب نزل أهل الجنة
باب: اہل جنت کی مہمانی کا بیان
حدیث نمبر: 1778
1778 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَكَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ، كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ، نُزُلاً لأَهْلِ الْجَنَّةِ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: بَارَكَ الرَّحْمنُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: بَلَى قَالَ: تَكُونُ الأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، ثُمَّ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: أَلاَ أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ: إِدَامُهُمْ بَالاَمٌ وَنُونٌ قَالُوا: وَمَا هذَا قَالَ: ثَوْرٌ وَنُونٌ، يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دستر خوان پر روٹی الٹتے پلٹتے ہو۔“ پھر ایک یہودی آیا اور بولا: اے ابو القاسم! تم پر رحمن برکت نازل کرے، کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ تو اس نے (بھی یہی) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر (اس نے) پوچھا: کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں؟ (پھر خود ہی) بولا کہ اس کا سالن «بَالامٌ وَنُونٌ» ”بالام اور نون“ ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یہ کیا چیز ہے؟ اس نے کہا: بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی والے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1778]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 44 باب يقبض الله الأرض»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1779
1779 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنَ الْيَهُودِ لآمَنَ بِي الْيَهُودُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دس یہودی (احبار و علماء) مجھ پر ایمان لے آئیں تو تمام یہود مسلمان ہو جاتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1779]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 52 باب إتيان اليهود النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حين قدم المدينة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
920. باب سؤال اليهود النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم عن الروح وقوله تعالى يسئلونك عن الروح الآية
باب یہود کا روح کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال اور فرمان الٰہی ’’آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں‘‘ کی تفسیر
حدیث نمبر: 1780
1780 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي خَرِبِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَتَوكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ مَعَهُ فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لاَ تَسْأَلُوهُ، لاَ يَجِيءُ فِيهِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنَسْأَلَنَّهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ مَا الرُّوحُ فَسكَتَ فَقُلْتُ إِنَّهُ يُوحى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، فَقَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے تو کچھ یہودیوں کا (ادھر سے) گزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو (مگر) ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے، پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم ! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، میں نے (دل میں) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آ رہی ہے، اس لیے میں کھڑا ہو گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (وہ کیفیت) دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی) ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 85] ”(اے نبی!) تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔“ (اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے) تلاوت فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1780]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 47 باب قول الله تعالى (وما أوتيتم من العلم إلا قليلاً»
وضاحت: اہل سنت کے نزدیک روح جسم لطیف ہے جو بدن میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے، جس طرح گلاب کی خوشبو اس کے پھول میں سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے۔ ہم اپنی موجودہ زندگی میں جو کثافت سے بھر پور ہے کسی طرح روح کی حقیقت سے واقف نہیں ہو سکتے۔ روح کے متعلق مزید تفصیلات امام ابن قیم کی ”کتاب الروح“ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1781
1781 صحيح حديث خَبَّابٍ قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلَ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ قَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: لاَ أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالاً وَوَلَدًا، فَأَقْضِيَكَ، فَنَزَلَتْ (أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْدًا)
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جاہلیت کے زمانے میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا، عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا، میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا، اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا، میں نے جواب دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے گا اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کروں گا، اس پر آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا * أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [سورة مريم: 77-78] ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا کہ (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1781]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 29 باب ذكر القين والحداد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
921. باب في قوله تعالى وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم الآية
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وما کان اللّٰہ لیعذبہم وانت فیہم﴾ کا بیان
حدیث نمبر: 1782
1782 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: اللهُمَّ إِنْ كَانَ هذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ (وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمُ اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) الآية
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ”اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب لے آ۔“ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا، اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔“ ﴿وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الأنفال: 34] ”ان لوگوں کو اللہ کیوں نہ عذاب کرے جن کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ اور یہ اس مسجد کے متولی ہونے کے لائق بھی نہیں ہیں اس کے حق دار تو صرف پرہیزگار لوگ ہیں، لیکن اکثر لوگ بے علم ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1782]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 8 سورة الأنفال: 4 باب وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
922. باب الدخان
باب: دھوئیں کا بیان
حدیث نمبر: 1783
1783 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ هذَا، لأَنَّ قرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهَمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، فَيَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشى النَّاسَ هذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ) قَالَ: فَأُتِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَسْقِ اللهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ قَالَ: لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ فَاسْتَسْقَى، فَسُقُوا، فَنَزَلَتْ (إِنَّكُمْ عَائِدُونَ) فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، عَادُوا إِلَى حَالِهِمْ، حِينَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَة الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ) قَالَ: يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ (قحط) اس لیے پڑا تھا کہ قریش جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی بجائے شرک پر جمے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسے قحط کی بددعا کی جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔ چنانچہ قحط کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگ ہڈیاں تک کھانے لگے۔ لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھاتے لیکن بھوک اور فاقہ کی شدت کی وجہ سے دھوئیں کے سوا اور کچھ نظر نہ آتا، اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ * يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة الدخان: 10-11] ”تو آپ انتظار کریں اس روز کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو لوگوں پر چھا جائے۔ یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا“۔ بیان کیا کہ پھر ایک صاحب آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! قبیلہ مضر کے لیے بارش کی دعا کیجیے کہ وہ برباد ہو چکے ہیں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مضر کے حق میں دعا کے لیے کہتے ہو؟ تم بڑے جری ہو“۔ آخر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور بارش ہوئی۔ اس پر آیت ﴿إِنَّكُمْ عَائِدُونَ﴾ [سورة الدخان: 15] نازل ہوئی (یعنی اگرچہ تم نے ایمان کا وعدہ کیا ہے لیکن تم کفر کی طرف پھر لوٹ جاؤ گے) چنانچہ جب پھر ان میں خوشحالی ہوئی تو شرک کی طرف لوٹ گئے (اور اپنے ایمان کے وعدے کو بھلا دیا) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ﴾ [سورة الدخان: 16] ”جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم پورا بدلہ لے لیں گے“ بیان کیا اس آیت سے مراد بدر کی لڑائی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 44 سورة الدخان: 2 باب يغشى الناس هذا عذاب أليم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
923. باب انشقاق القمر
باب: چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1784
1784 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”لوگو! اس پر گواہ رہنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه الخباري في: 61 كتاب المناقب: 27 باب سؤال المشركين أن يريهم النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آية فأراهم انشقاق القمر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»