🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
923. باب انشقاق القمر
باب: چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1785
1785 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ نے شقِ قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 27 باب سؤال المشركين أن يريهم النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آية فأراهم انشقاق القمر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1786
1786 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 27 باب سؤال المشركين أن يريهم النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آية فأراهم انشقاق القمر»
وضاحت: کفار مکہ کا خیال تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جادو کے زور سے زمین پر عجائبات دکھلا سکتے ہیں۔ آسمان پر ان کا جادو نہ چل سکے گا۔ اسی خیال کی بنا پر انہوں نے معجزہ شق قمر طلب کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دکھلا دیا۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
924. باب لا أحد أصبر على أذى من الله عز وجل
باب: ’’اللہ جل جلالہ سے زیادہ کوئی ایذا پر صبر کرنے والا نہیں‘‘
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1787
1787 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ، أَوْ لَيْسَ شَيْءٌ أَصْبَرَ، عَلَى أَذًى سَمِعَهُ، مِنَ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا، وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی، اس تکلیف دہ بات پر جو وہ سنتا ہے، اللہ سے زیادہ برداشت کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 71 باب الصبر على الأذى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
925. باب طلب الكافر الفداء بملء الأرض ذهبًا
باب: کافر کی آرزو ہو گی کہ زمین برابر سونا ہوتا تو وہ بھی بطور فدیہ دے دیتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1788
1788 صحيح حديث أَنَسٍ، يَرْفَعُهُ، أَنَّ اللهَ يَقُولُ لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا: لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُك مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هذَا، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ، أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي، فَأَبَيْتَ إِلاَّ الشِّرْك
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا کہ ”اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہوگا: اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا (روزِ ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا، لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 1 باب خلق آدم صلوات الله عليه وذريته»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
926. باب يحشر الكافر على وجهه
باب: قیامت کے دن کافر کو منہ کے بل لایا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1789
1789 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَجُلاً قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَتَادَةُ (رَاوِي الْحَدِيثِ عَنْ أَنَسٍ) : بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے پوچھا، اے اللہ کے نبی! کافر کو قیامت کے دن اس کے چہرے کے بل کس طرح چلایا جائے گا؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جس نے اسے اس دنیا میں دو پاؤں پر چلایا ہے اس پر قادر ہے کہ قیامت کے دن اس کو اس کے چہرے کے بل چلا دے۔“ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: یقیناً، ہمارے رب کی عزت کی قسم! یونہی ہوگا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 25 سورة الفرقان: 1 باب الذين يحشرون على وجوههم إلى جهنم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
927. باب مثل المؤمن كالزرع ومثل الكافر كشجر الأرز
باب: مومن اور کافر کی مثال کا بیان جو کہ پودے کی شاخ اور صنوبر کے درخت کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1790
1790 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ وَالْفَاجِرُ كَالأَرْزَةِ، صَمَّاءَ، مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللهُ، إِذَا شَاءَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی اس شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے، پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 75 كتاب المرضى: 1 باب ما جاء في كفارة المرض»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
1791 صحيح حديث كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفَيِّئُهَا الرِّيحُ مَرَّةً، وَتَعْدِلُهَا مَرَّةً وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالأَرْزَةِ، لاَ تَزَالُ، حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھونکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 75 كتاب المرضى: 1 باب ما جاء في كفارة المرض»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
928. باب مثل المؤمن مثل النخلة
باب: مومن کی مثال کھجور کے درخت جیسی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
1792 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لاَ يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِي، مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي (قَالَ عَبْدُ اللهِ) : وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْييْتُ ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا، مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں اپنی (کم سنی کی) شرم سے نہ بولا۔ آخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 4 باب قول المحدث: حدثنا أو أخبرنا وأنبأنا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
929. باب لن يدخل أحد الجنة بعمله بل برحمة الله تعالى
باب: کوئی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہ جائے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1793
1793 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ قَالُوا: وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ بِرَحْمَةٍ سَدِّدُوا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکے گا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اور آپ کو بھی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا: ”اور مجھے بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ پس تم کو چاہیے کہ درستی کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 18 باب القصد والمداومة على العمل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1794
1794 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لاَ يُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ قَالُوا: وَلاَ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! جو نیک کام کرو ٹھیک طور سے کرو اور حد سے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اس کے قریب رہو (میانہ روی اختیار کرو) اور خوش رہو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں یا رسول اللہ؟“ فرمایا: ”میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ اپنی مغفرت اور رحمت کے سایہ میں مجھے ڈھانک لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 18 باب القصد والمداومة على العمل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں