اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
930. باب إِكثار الأعمال والاجتهاد في العبادة
باب: بہت زیادہ عمل کرنا اور عبادت میں کوشش کرنا
حدیث نمبر: 1795
1795 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ رضي الله عنه، قَالَ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُومُ لِيُصَلِّيَ حَتَّى تَرِمُ قَدَمَاهُ، أَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ: أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا (یہ کہا کہ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے: ”کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1795]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 19 كتاب التهجد: 6 باب قيام النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى ترم قدماه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
931. باب الاقتصاد في الموعظة
باب: وعظ میں میانہ روی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 1796
1796 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يُذَكِّرُ النَّاسَ فِي كُلِّ خَمِيسٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمنِ لَوَدِدْتُ أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْ ذلِكَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي أَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ، كَمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِهَا، مَخَافَة السَّآمَةِ عَلَيْنَا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ سنایا کریں۔ انہوں نے فرمایا: سنو! مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقاتِ فرصت کا خیال رکھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 12 باب من جعل لأهل العلم أيامًا معلومة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»