اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
941. باب فناء الدنيا وبيان الحشر يوم القيامة
باب: دنیا کے فنا ہونے کا بیان اور روز قیامت حشر کا بیان
حدیث نمبر: 1817
1817 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُحْشَرُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ، يَا رَسُولَ اللهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ: الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَهِمَّهُمْ ذَاكِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بلاختنہ کے اٹھائے جاؤ گے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! تو کیا مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا۔ اس کا خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1818
1818 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً (كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ) الآيَةَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسى يَوْمَ الْقَيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مَنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ) إِلَى قَوْلِهِ (الْحَكِيمُ) قَالَ: فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا: ﴿وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ﴾ [سورة المائدة: 117] ”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا“۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ فرشتے (مجھ سے) کہیں گے کہ: ”یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے۔“ (مرتد ہوتے رہے)۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1819
1819 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلاَثِ طَرَائِقَ: رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرِ، وَثَلاَثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، وأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِير، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيثُ بَاتُوا، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا، وَتُمْسى مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہوگا (ایک فرقہ والے) لوگ رغبت کرنے، نیز ڈرنے والے ہوں گے (دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہوگا کہ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے، کسی اونٹ پر تین ہوں گے، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی (اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہوگا) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہوگی، جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہوگی، جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہوگی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہوگی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 45 باب كيف الحشر»
وضاحت: علمائے اسلام نے اس آگ سے مراد کئی ناری واقعات کو لیا ہے۔ باقی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے، سچ ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
942. باب في صفة يوم القيامة، أعاننا الله على أهوالها
باب: قیامت کے دن کا حال… اللہ تعالیٰ اس کی ہولناکی سے مدد فرمائے
حدیث نمبر: 1820
1820 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَوْمَ يَقُومُ النّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة المطففين: 6] ، تو کانوں کی لو تک پسینے میں ڈوب جائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 83 سورة ويل للمطففين»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1821
1821 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِي الأَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا، وَيُلْجِمُهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور وہ ان کے منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1821]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 47 باب قول الله تعالى (ألا يظن أولئك أنهم مبعوثون ليوم عظيم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
943. باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار عليه، وإِثْبات عذاب القبر والتعوّذ منه
باب: میت کو اس کا ٹھکانہ دکھائے جانے کا بیان اور عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1822
1822 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكمْ، إِذَا مَاتَ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ؛ فَيُقَالُ هذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور اگر دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے: یہ تیرا ٹھکانا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1822]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 90 باب الميت يعرض عليه مقعده بالغداة والعشي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1823
1823 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ رضي الله عنه قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، سورج غروب ہو چکا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آواز سنائی دی (یہودیوں پر عذاب قبر کی)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1823]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 88 باب التعوذ من عذاب القبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1824
1824 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ، فَيُقعِدَانِهِ فَيقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هذَا الرَّجُلِ (لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں، وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تیرے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1824]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 87 باب ما جاء في عذاب القبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1825
1825 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لاَ إِله إِلاَّ اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَذلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بَالْقَوْلِ الثَّابِتِ)
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [سورة إبراهيم: 27] کی تعبیر ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات، یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1825]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 87 باب ما جاء في عذاب القبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1826
1826 صحيح حديث أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلاً مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ، خَبِيثٍ مُخْبِثٍ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلاَثَ لَيَالٍ فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ، الْيَوْمَ الثَّالِثَ، أَمَرَ بَرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلاَّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ: يَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَنٍ وَيَا فُلاَنُ بْنَ فُلاَن أَيَسُرُّكُمْ أنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدانِ جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے۔ جنگِ بدر کے خاتمے کے تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے، صحابہ نے کہا: غالباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے اور کفارِ قریش کے مقتول سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر انہیں آواز دینے لگے: ”اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بے شک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہو گیا، تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ (عذاب کا) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں جن میں کوئی جان نہیں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 8 باب قتل أبي جهل»
وضاحت: جو لوگ اس واقعہ سے سماع موتی ثابت کرتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں۔ کیونکہ یہ سنانا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا۔ قرآن حکیم میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ وما انت بسمع من فی القبور یعنی آپ قبر والوں کو سنانے سے قاصر ہیں۔ مرنے کے بعد جملہ دنیاوی تعلقات ٹوٹنے کے ساتھ دنیاوی زندگی کے لوازمات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ سننا بھی اسی میں شامل ہے۔ اگر مردے سنتے ہوں تو ان پر مردگی کا حکم لگانا ہی غلط ٹھہرتا ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»