🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر في الإيمان والإسلام
ان روایات کا بیان جو ایمان اور اسلام کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30945 ترقیم الشثری: -- 32321
٣٢٣٢١ - (١) (حدثنا) (٢) إسماعيل بن (علية) (٣) عن ابي حيان عن ابي زرعة عن ابي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يوما (بارزا) (٤) للناس فاتاه رجل فقال: يا رسول الله، ما الإيمان؟ (فقال) (٥) :"الإيمان ان تؤمن بالله، وملائكته، وكتبه، ولقائه، ورسله، وتؤمن بالبعث الآخر"، قال: يا رسول الله ما الإسلام؟ قال:"ان تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، (وتؤدي) (٦) الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان"، قال: يا رسول الله، ما الإحسان؟ قال:"ان تعبد الله كانك تراه، (فإنك) (٧) إن لا تراه فإنه يراك" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: زيادة (حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن أبي شيبة).
(٢) في [ك]: (قال).
(٣) في [هـ]: (عطية).
(٤) في [أ، ب]: (بادزا).
(٥) في [أ، ب، جـ، ك]: (قال).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ، و]: (وتؤتي).
(٧) في [ط]: (فإن تك).
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٠)، ومسلم (٩).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھلی جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! ایمان کی حقیقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو، اور اس کی کتابوں کو اور اس سے ملاقات کرنے کو اور اس کے رسولوں کو دل سے مانو۔ اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کو دل سے مانو۔ اس آدمی نے عرض کیا: اسلام کی حقیقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک مت ٹھہراؤ اور فرض نمازوں کو قائم کرو، اور فرض زکوۃ کی ادائیگی کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! احسان کی حقیقت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ پس اگر ایسا ممکن نہیں کہ تم اسے دیکھ سکو پھر اس کا گمان کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32321]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32321، ترقيم محمد عوامة 30945)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30946 ترقیم الشثری: -- 32322
٣٢٣٢٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن ابي (جمرة) (١) عن ابن عباس ان وفد عبد القيس اتوا النبي ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"من الوفد، (او من) (٢) القوم؟" (قالوا) (٣) : ربيعة قال:"مرحبا بالقوم او بالوفد غير خزايا ولا ندام"، فقالوا: يا رسول الله، إنا (ناتيك) (٤) من شقة بعيدة، وإن بيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر، وإنا لا نستطيع ان (ناتيك) (٥) إلا في الشهر الحرام، فمرنا بامر فصل نخبر به من وراءنا ندخل به الجنة، قال: فامرهم باربع ونهاهم عن اربع: امرهم بالإيمان بالله وحده، (٦) قال:"هل تدرون ما الإيمان بالله؟" قالوا: الله ورسوله اعلم، قال:"شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وان تعطوا الخمس من المغنم"، فقال: احفظوه واخبروا به من وراءكم (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: (حمزة).
(٢) في [ط]: (أمن).
(٣) في [أ، جـ، ع، ط]: (قال).
(٤) في [ط]: (نأينك).
(٥) في [ط]: (نأينك).
(٦) في [هـ]: زيادة (و).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣)، ومسلم (١٧).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبد القیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کس قبیلہ کا وفد ہے؟ یا فرمایا: کون لوگ ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے جواب دیا! قبیلہ ربیعہ کے افراد ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش آمدید ان لوگوں کو یا فرمایا وفد والوں کو نہ دنیا میں تمہارے لیے رسوائی ہے اور نہ آخرت کی شرمندگی۔ پھر ان لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول 5! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت دور جگہ سے آئے ہیں، اور چونکہ ہمارے درمیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے، اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ان مہینوں میں آسکتے ہیں جن میں لڑنا حرام ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ایسے احکام ہمیں عطا فرما دیجئے۔ جن پر ہم خود بھی عمل کریں اور ان لوگوں کو بھی اس کی اطلاع کریں جن کو ہم پیچھے وطن میں چھوڑ کر آئے ہیں۔ اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے روکا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول 5 زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہی دینا اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، اور رمضان کے روزے رکھنا، (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار کے علاوہ پانچویں بات کا بھی حکم فرمایا) کہ مال غنیمت میں سے خمس دینا۔ پھر فرمایا: ان کو یاد کرو اور جن کو تم نے پیچھے چھوڑا ہے ان کو اس کی اطلاع کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32322، ترقيم محمد عوامة 30946)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30947 ترقیم الشثری: -- 32323
٣٢٣٢٣ - (حدثنا) (١) جرير عن منصور عن سالم بن ابي الجعد عن عطية مولى بني عامر عن يزيد بن (بشر) (٢) السكسكي قال: قدمت المدينة فدخلت على عبد الله ابن عمر فاتاه رجل من اهل العراق فقال: يا عبد الله، مالك تحج وتعتمر وتركت الغزو في ⦗٧⦘ سبيل الله؟ فقال: ويلك إن الإيمان بني على خمس: تعبد الله، وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة، وتحج البيت، وتصوم رمضان، (قال: فردها عليه) (٣) فقال: يا عبد الله تعبد الله، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتحج البيت، وتصوم رمضان، قال: (فردها عليه فقال: يا عبد الله تعبد الله، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتحج البيت، وتصوم رمضان) (٤) ، كذلك قال لنا رسول الله ﷺ (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ط، هـ]: (بشير).
(٣) تكررت في: [أ].
(٤) سقط من: [ك].
(٥) مجهول؛ لجهالة يزيد بن بشر السكسكي، أخرجه أحمد (٤٧٩٨)، والبخاري في التاريخ ٨/ ٣٢٢، والمروزي في تعظيم الصلاة (٤١٢)، والخطيب في الأسماء المبهمة ٥/ ٣٣٧، وابن عساكر ١٣/ ٣٨٩، وابن السبكي في طبقات الشافعية ١/ ٧٧.

حضرت یزید بن بشر السکسکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو اہل عراق میں سے ایک آدمی آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: اے عبد اللہ! آپ رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا صرف حج اور عمرہ کرتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کو ترک کردیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ہلاکت ہو، ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ تو اللہ کی عبادت کرے، اور نماز کی پابندی کرے، اور زکوٰۃ ادا کر دے، اور بیت اللہ کا حج کرے، اور رمضان کے روزے رکھے، راوی کہتے ہیں اس نے پھر وہی سوا ل کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے! ایمان تو یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور نماز کی پابندی کرے، اور زکوۃ دے، اور بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ راوی کہتے ہیں اس نے پھر وہ سوال دوہرایا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے بندے ایمان تو یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے، اور نماز کی پابندی کرے، اور زکوۃ دے اور بیت اللہ کا حج کرے، اور رمضان کے روزے رکھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح ہم سے فرمایا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32323، ترقيم محمد عوامة 30947)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30948 ترقیم الشثری: -- 32324
٣٢٣٢٤ - (حدثنا) (١) محمد بن فضيل عن عمارة عن ابي زرعة قال: (قال) (٢) عمر: عرى الإيمان اربع: الصلاة والزكاة والجهاد والامانة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (حدثنا سقطة من بداية جميع الأحاديث).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) منقطع؛ أبو زرعة لم يدرك عمر.

امام ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی ابتدا تو چار چیزیں ہیں: نماز، زکوٰۃ، جہاد، اور امانت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32324]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32324، ترقيم محمد عوامة 30948)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30949 ترقیم الشثری: -- 32325
٣٢٣٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي إسحاق عن صلة قال: قال حذيفة: الإسلام ثمانية اسهم: الصلاة سهم، والزكاة سهم، والجهاد سهم، وصوم رمضان سهم، والامر بالمعروف سهم، والنهي عن المنكر سهم، والإسلام سهم، وقد خاب من لا سهم له (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٩٢٨٠)، وابن الأعرابي (١٦٦)، والبزار (٢٩٢٨)، والبيهقي في الشعب (٧٥٨٥).
حضرت صلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اسلام کے آٹھ حصے ہیں! نماز ایک حصہ ہے، زکوٰۃ ایک حصہ ہے، اور جہاد ایک حصہ، اور رمضان کے روزے ایک حصہ، اور نیکی کا حکم کرنا ایک حصہ، اور برائی سے روکنا ایک حصہ، اور فرمانبرداری کرنا ایک حصہ ہے، اور جس شخص کا کوئی حصہ نہیں تحقیق وہ نامراد ہوگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32325]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32325، ترقيم محمد عوامة 30949)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30950 ترقیم الشثری: -- 32326
٣٢٣٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال سمعت عروة بن النزال يحدث ⦗٨⦘ عن معاذ بن جبل قال: اقبلنا مع رسول الله ﷺ من غزوة تبوك، فلما رايته خاليا قلت: يا رسول الله، اخبرني بعمل يدخلني الجنة؟ (قال) (١) :" (بخ) (٢) لقد سالت عن عظيم، وهو يسير على من يسره الله (عليه، تقيم الصلاة المكتوبة وتؤتي الزكاة المفروضة، وتلقى الله) (٣) لا تشرك به (شيئا) (٤) ، اولا ادلك على راس الامر وعموده [وذروته وسنامه، اما راس الامر فالإسلام، من اسلم سلم، واما عموده فالصلاة، واما] (٥) (ذروته) (٦) سنامه فالجهاد في سبيل الله" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (فقال).
(٢) زيادة من: [و].
(٣) سقط من: [ك].
(٤) سقط من: [جـ، ط، هـ].
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، هـ].
(٦) في [هـ]: (ذروة).
(٧) مجهول؛ لجهالة عروة بن النزال، أخرجه أحمد (٢٢٠٣٢)، والنسائي ٤/ ١٦٦، والحاكم ٢/ ٤١٢، والطيالسي (٥٦٠)، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٠٢، والشاشي (١٣٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٧٦، والطبراني ٢٠/ (٣٠٤)، والقضاعي في مسند الشهاب (٤٨)، والبيهقي في الشعب (٣٣٤٩)، وابن أبي عاصم في الجهاد (١٦).

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ پس جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلے دیکھا تو میں نے پوچھا! اے اللہ کے رسول 5! مجھے کسی ایسے عمل کی اطلاع دیجیے جس پر عمل کرنے کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: واہ واہ! تحقیق تو نے ایک بہت بڑے معاملہ کے متعلق سوال کیا۔ اور یہ آسان ہے اس شخص کے لیے جس کے لیے اللہ آسان فرما دیں: وہ یہ ہے کہ فرض نماز کی پابندی کرے، اور فرض زکوٰۃ ادا کرے، اور تو اللہ سے ملاقات کرے اس حالت میں کہ تو نے اس کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہو۔ اور کیا میں تیری راہنمائی نہ کروں معاملہ کی بنیاد پر اور اس کے ستون پر، اور اس کی چوٹی پر؟ بہر حال معاملہ کی بنیاد اسلام ہے، جو شخص اسلام لے آیا وہ محفوظ ہوگیا۔ اور اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی اور کوہان اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32326]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32326، ترقيم محمد عوامة 30950)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30951 ترقیم الشثری: -- 32327
٣٢٣٢٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد (عن الاعمش عن الحكم) (٢) عن (ميمون) (٣) ابن ابي (شبيب) (٤) عن معاذ بن جبل قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ ⦗٩⦘ (في) (٥) غزوة تبوك ثم ذكر نحوه (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عبدة).
(٢) في [و]: (عن الأعمش عن الحكم)، وقلب الإسناد في بقية النسخ.
(٣) في [ك]: (معمر)، وورد في الحاشية (ميمون).
(٤) في [و]: (شبيب)، وفي بقية النسخ: (حبيب).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) منقطع؛ ميمون لا يروي عن معاذ، أخرجه أحمد (٢٢٠٣٢)، والنسائي ٤/ ١٦٦، والحاكم ٢/ ٤١٢، وابن أبي الدنيا في الصمت (٦)، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٠٢، والواحدي في تفسير الوسيط ٣/ ٤٥٢، والشاشي (١٣٦٦)، والطبراني ٢٠/ (٢٩٧)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٧٦، وهناد في الزهد (١٠٩٠)، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة (١٩٧)، وبنحوه أخرجه ابن حبان (٢١٤)، والترمذي (٢٦١٦)، وعبد الرزاق (٢٠٣٠٣)، وابن ماجه (٣٩٧٣)، وعبد بن حميد (١١٢)، والطيالسي (٥٦٠)، والبيهقي في الشعب (٣٣٥٠)، وابن المبارك في الجهاد (٣١)، والدارقطني ١/ ٢٣٢، والبخاري في التاريخ ٧/ ٤٢٦، والبزار (٢٧/ كشف).

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول 5 کے ساتھ غزوہ تبوک سے نکلے اور پھر ما قبل جیسا مضمون ذکر فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32327]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32327، ترقيم محمد عوامة 30951)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30952 ترقیم الشثری: -- 32328
٣٢٣٢٨ - حدثنا ابو الاحوص عن منصور عن ربعي عن رجل من بني اسد عن علي قال: قال رسول الله ﷺ:"اربع لن يجد رجل طعم الإيمان حتى يؤمن بهن: لا إله إلا الله وحده (واني) (١) رسول الله بعثني بالحق، وبانه ميت ثم مبعوث (من) (٢) بعد الموت، ويؤمن بالقدر كله" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (وأن).
(٢) زائدة من: [ك].
(٣) مجهول؛ لإبهام الراوي عن علي، أخرجه أحمد (١١١٢)، والترمذي (٢١٤٥)، والحاكم ١/ ١٣٣، وعبد بن حميد (٧٥)، وأبو يعلى (٣٧٦)، والبغوي (٦٦)، وبنحوه: ابن ماجه (٨١)، والطيالسي (١٠٦)، وابن حبان (١٧٨)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٨٧)، والبزار (٩٠٤)، والخطيب ٣/ ٣٦٦.

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں ایسی ہیں کہ آدمی ہرگز ایمان کا ذائقہ نہیں پاسکتا یہاں تک کہ وہ ان چار چیزوں پر دل سے یقین نہ کرلے: وہ چیزیں یہ ہیں: یقین کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اور یقینا میں اللہ کا رسول ہوں اللہ نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے۔ اور اس بات کا یقین کہ وہ مرے گا اور مرنے کے بعد پھر اٹھایا جائے گا۔ اور وہ ہر قسم کی تقدیر کو دل سے مان لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32328]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32328، ترقيم محمد عوامة 30952)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30953 ترقیم الشثری: -- 32329
٣٢٣٢٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن سالم بن ابي الجعد عن ابن عباس قال: جاء اعرابي إلى النبي ﷺ فقال: السلام عليك يا غلام بني عبد المطلب، فقال:"وعليك"، فقال: إني رجل من اخوالك من بني سعد بن بكر ⦗١٠⦘ وانا رسول قومي إليك ووافدهم، وانا سائلك (فمشتدة) (١) مسالتي (إياك) (٢) (ومناشدك) (٣) (فمشيدة) (٤) مناشدتي إياك، قال:"خذ (٥) يا اخا بني سعد"، قال: من خلقك و (من) (٦) هو خالق من قبلك وهو خالق من بعدك؟ قال:"الله"، قال: (نشدتك) (٧) (بالله) (٨) اهو ارسلك؟ قال: (نعم) ، قال: من خلق السماوات السبع والارضين السبع واجرى (بينهن) (٩) الرزق؟ قال:"الله"، قال: (نشدتك) (١٠) (بالله) (١١) اهو ارسلك؟ قال:"نعم"، قال: فانا قد وجدنا في كتابك وامرتنا رسلك ان نصلي [في اليوم والليلة خمس صلوات (لمواقيتها) (١٢) (نشدتك) (١٣) (بالله) (١٤) اهو امرك (به) (١٥) ؟ قال:"نعم"، قال: فإنا وجدنا في كتابك وامرتنا رسلك] (١٦) ان ناخذ ⦗١١⦘ من حواشي اموالنا فنردها على فقرائنا فنشدتك بذلك اهو امرك بذلك؟ قال:"نعم"، ثم قال: اما الخامسة فلست بسائلك عنها ولا (ارب) (١٧) لي فيها، قال: ثم قال: (اما) (١٨) والذي بعثك بالحق لاعملن بها ومن اطاعني من قومي، ثم رجع فضحك رسول الله ﷺ حتى بدت نواجذه، (ثم) (١٩) قال:"والذي نفسي بيده لئن صدق ليدخلن الجنة" (٢٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في أح، ك، ط]: (فمشيد)، وفي [جـ، و]: (فمشيده)، وفي [هـ]: (فمشددا).
(٢) في [هـ]: (إليك).
(٣) في [ط]: (نناشدك).
(٤) زائدة من: [جـ، ك]، وفي [و]: زائدة (فمشيد).
(٥) في [هـ]: زيادة (عنك)، وفي [و]: زيادة (عليك).
(٦) زائدة من: [و].
(٧) في [و]: (فنشدتك).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (بذلك).
(٩) في [و]: (بينهما).
(١٠) في [و]: (فأنشدتك).
(١١) في [أ، ط، هـ]: (بذلك).
(١٢) في [هـ]: (لمواقبتها).
(١٣) في [و]: (فنشدتك).
(١٤) في [أ، ط، هـ]: (بذلك).
(١٥) سقط من: [ط]، وفي [هـ]: (بذلك).
(١٦) تكرار في: [جـ].
(١٧) في [ط]: (رب).
(١٨) زائدة (أما) من: [ب، جـ، ك، و].
(١٩) في [و]: (و).
(٢٠) ضعيف؛ عطاء بن السائب اختلط، أخرجه ابن خزيمة (٢٣٨٣)، والدارمي (٦٥١)، والدارقطني ٣/ ٤٤، والبيهقي ٧/ ٤، والطبراني (٨١٥١)، وابن عبد البر في التمهيد ١٦/ ١٧١، وأصل الحديث عند البخاري (٦٣).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: تجھ پر سلامتی ہو اے بنی عبدالمطلب کے لڑکے: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر بھی ہو: پھر اس نے کہا: بیشک میں تمہارے ننھیال قبیلہ بنو سعد بن بکر قبیلہ کا آدمی ہوں۔ اور میں تمہاری طرف اپنی قوم کا پیغامبر اور قاصد بن کر آیا ہوں۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کروں گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سوال کرنا سخت انداز میں ہوگا۔ اور آپ سے قسم کا مطالبہ کرنا، پس میرے آپ سے قسم کے مطالبہ میں سختی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو سعد کے بھائی: سوال کرو۔ اس دیہاتی نے کہا: آپ کو کس نے پیدا کیا؟ اور وہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے لوگوں کا اور آپ کے بعد والے لوگوں کا پیدا کرنے والا ہوگا۔؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے، دیہاتی نے پوچھا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے پوچھا: ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو کس نے پیدا کیا اور ان کے درمیان رزق کس نے پھیلایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے، اس نے پوچھا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس نے عرض کیا: پس ہم آپ کی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور آپ کے قاصد نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے وقت پر ادا کریں۔ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا یہی معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کیا: پس ہم آپ کی کتاب میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور آپ کے قاصد نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اپنے مالوں میں سے مقررہ حصہ نکال کر اپنے فقراء میں تقسیم کردیں۔ میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا معاملہ اسی طرح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! پھر اس نے عرض کیا: بہرحال پانچواں سوال میں اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھوں گا اور نہ ہی مجھے اس میں کوئی شک ہے، راوی کہتے ہیں، پھر اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اور میری قوم میں سے جو میری اطاعت کرے گا ضرور بالضرور ان اعمال کی پابندی کریں گے۔ پھر وہ واپس لوٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر اس نے سچ کہا تو یہ ضرور بالضرور جنت میں داخل ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32329]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32329، ترقيم محمد عوامة 30953)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30954 ترقیم الشثری: -- 32330
٣٢٣٣٠ - حدثنا شبابة بن (سوار) (١) (قال: حدثنا) (٢) سليمان بن الغيرة عن ثابت عن انس قال: كنا قد نهينا ان نسال رسول الله ﷺ عن شيء، (فكان) (٣) يعجبنا ان ياتي الرجل من اهل البادية [العاقل فيساله ونحن نسمع، (فجاء) (٤) رجل من اهل البادية] (٥) فقال: يا محمد، (اتانا) (٦) رسولك فزعم (٧) ان الله ارسلك، ⦗١٢⦘ (قال) (٨) :"صدق"، قال: فمن خلق السماء؟ قال:"الله"، قال: فمن خلق الارض؟ قال:"الله" قال: فمن نصب هذه الجبال؟ قال:"الله" قال: فبالذي خلق السماء وخلق الارض ونصب الجبال آلله [ارسلك؟ قال:"نعم"، قال: فزعم رسولك ان علينا خمس صلوات في يومنا (وليلتنا) (٩) ، قال:"صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الارض ونصب الجبال آلله] (١٠) امرك بهذا؟ قال:"نعم"، قال: (فزعم) (١١) رسولك ان [علينا زكاة في اموالنا، قال:"صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الارض ونصب الجبال آلله امرك بهذا؟ قال:"نعم"، قال: وزعم رسولك ان علينا] (١٢) صوم (رمضان) (١٣) في سنتنا، قال:" (١٤) صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الارض ونصب الجبال آلله امرك بهذا؟ قال:"نعم"، قال: زعم رسولك ان علينا الحج (لمن) (١٥) استطاع إليه سبيلا، قال:"صدق"، قال: فبالذي خلق السماء وخلق الارض ونصب الجبال آلله امرك بهذا؟ قال:"نعم"، (ثم ولى) (١٦) وقال: والذي بعثك بالحق لا ازداد عليه شيئا، ولا انقص (منه) (١٧) شيئا، فقال رسول الله ﷺ:"إن صدق دخل الجنة" (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (سور).
(٢) في [و]: (أخبرنا).
(٣) في [و]: (وكان).
(٤) في [و]: (فجاءه).
(٥) سقط من: [أ، جـ، ط].
(٦) في [و]: (أتى).
(٧) في [و]: زائدة (أنك تزعم)، وفي [هـ]: زيادة (لنا).
(٨) في [و]: (فقال).
(٩) سقط من: [و].
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١١) في [و]: (زعم).
(١٢) سقط من: [أ، ط، ك، هـ]
(١٣) في [أ، جـ]: (شهر)، وكذلك في: [و].
(١٤) في [هـ]: زيادة (نعم).
(١٥) في [هـ]: (من).
(١٦) سقط من: [و].
(١٧) في [جـ]: (منهما).
(١٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢)، وأحمد (١٢٤٥٧)، وأصله عند البخاري (٦٣).

حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: تحقیق ہمیں روک دیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال کریں، تو ہم پسند کرتے تھے کہ گاؤں والوں میں سے کوئی عقل مند آدمی آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرے اور ہم سنیں، پس ایک دیہاتی آدمی آگیا اور کہنے گا: اے محمد 5! ہمارے پا س آپ کا قاصد آیا اس نے دعویٰ کیا کہ آپ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے سچ کہا: اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے، اس نے پوچھا: ان پہاڑوں کو کس نے گاڑا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے، اس نے کہا: پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان کو پیدا کیا اور زمین کو پیدا کیا، اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ٍ اس نے عرض کیا اور آپ کے قاصد نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازوں کا ادا کرنا ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا: اس نے پوچھا: پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا: کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کیا، آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا کہ ہم پر ہمارے مالوں میں زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا: اس نے پوچھا! پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کیا: پس آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا: ہم پر سال میں ایک مہینہ کے روزے رکھنا لازم ہے۔ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا! اس نے پوچھا: پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کیا: آپ کے قاصد نے کہا: ہم میں سے ان لوگوں پر حج فرض ہے جو اس کے راستہ کی استطاعت رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے پوچھا! پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور پہاڑوں کو گاڑا کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں پھر وہ پلٹا اور کہنے لگا: اور قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا نہ ہی اس میں کسی قسم کی زیادتی کروں گا اور نہ ہی اس میں سے کسی قسم کی کمی کروں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32330]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32330، ترقيم محمد عوامة 30954)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں