🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. ما قالوا في صفة الإيمان
جن لوگوں نے ایمان کی صفت کے بارے میں بیان کیا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30965 ترقیم الشثری: -- 32341
٣٢٣٤١ - حدثنا حماد بن (معقل) (١) عن غالب (عن) (٢) بكر قال: لو سئلت عن افضل اهل هذا المسجد؟ فقالوا: (نشهد) (٣) انه مؤمن مستكمل الإيمان بريء من النفاق، لم اشهد، ولو (شهدت) (٤) لشهدت انه في الجنة، ولو سئلت عن (اشر او اخبث) (٥) -الشك من ابي (بكر) (٦) - (رجل) (٧) فقالوا: (نشهد) (٨) انه منافق مستكمل النفاق بريء من الإيمان، لم اشهد، ولو شهدت لشهدت انه في النار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مسعدة).
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (بن)؛ وغالب هو القطان، وبكر هو ابن عبد اللَّه المزني.
(٣) في [و]: (تشهد).
(٤) في [ب، ط]: (شهيد).
(٥) في [هـ]: (رجل أو)، وفي [أ، ط]: بياض.
(٦) في [و]: (العلاء).
(٧) في [أ، ح، ط، ك، هـ]: (رجلًا).
(٨) في [أ، ط]: (تشهد).

حضرت غالب بن بکر فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے مسجد کے سب سے افضل آدمی کے بارے میں سوال کیا جائے کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کامل ایمان والا مومن ہے اور نفاق سے بری ہے۔ تو میں گواہی نہیں دوں گا اور اگر گواہی دوں گا تو یہ گواہی اس بات کی گواہی ہوگی کہ وہ جنت میں ہے۔ اگر مجھ سے سب سے برے آدمی کے بارے میں سوال کیا جائے اور لوگ کہیں کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ مکمل نفاق والا منافق ہے اور ایمان سے محروم ہے تو میں گواہی نہیں دوں گا کیونکہ اگر میں گواہی دوں تو وہ گواہی اس بات کی ہوگی کہ وہ جہنم میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32341]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32341، ترقيم محمد عوامة 30965)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30966 ترقیم الشثری: -- 32342
٣٢٣٤٢ - حدثنا عبد الله بن نمير قال حدثنا فضيل (بن) (١) غزوان قال: حدثنا عثمان بن ابي صفية الانصاري قال: قال عبد الله بن عباس (لغلام) (٢) (من غلمانه) (٣) : الا ازوجك، (فما) (٤) من عبد يزني إلا نزع الله منه نور الإيمان (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [و]: (لغلمانه).
(٣) في [و]: (يدعو غلامًا غلامًا).
(٤) في [و]: (فإنه).
(٥) مجهول؛ لجهالة عثمان بن أبي صفية.

حضرت عثمان بن ابی صفیہ الانصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکے سے کہا: کیا میں تیرا نکاح نہ کر دوں؟ پس نہیں ہے کوئی بندہ جو زنا کرے مگر اللہ اس سے ایمان کا نور چھین لیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32342]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32342، ترقيم محمد عوامة 30966)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30967 ترقیم الشثری: -- 32343
٣٢٣٤٣ - حدثنا سليمان بن حرب عن حماد بن سلمة (عن هشام) (١) عن ابيه عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: إلا يزني الزاني (حين يزني) (٢) وهو مومن ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن" (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٢) سقطة في: [ك، و].
(٣) في [هـ]: زيادة (ولا يشرب حين يشرب وهو مؤمن).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٥٠٨٨)، والبزار (١١٢/ كشف)، وأبو نعيم في الحلية ٦/ ٢٥٦، والآجري في الشريعة ص ١١٢، والطبراني في الأوسط (١٢٥٣)، وبحشل ص ٢٢٧، والخطيب ٥/ ٢٢٣، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٩١٩).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ اور چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو اس کا بھی ایمان باقی نہیں رہتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32343]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32343، ترقيم محمد عوامة 30967)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. من قال: أنا مؤمن
جو شخص یوں کہے: میں مومن ہوں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30968 ترقیم الشثری: -- 32344
٣٢٣٤٤ - حدثنا ابو معاوية عن الشيباني عن ثعلبة عن ابي قلابة (قال) (١) : حدثني الرسول الذي (سال) (٢) عبد الله بن مسعود (قال) (٣) : (اسالك) (٤) بالله اتعلم ان الناس كانوا (في) (٥) عهد رسول الله ﷺ على ثلاثة اصناف: مؤمن السريرة (و) (٦) مؤمن العلانية، وكافر السريرة (و) (٧) كافر العلانية، ومؤمن العلانية كافر ⦗١٩⦘ السريرة، قال: فقال عبد الله: اللهم نعم، قال: فانشدك بالله من ايهم كنت؟ (قال) (٨) : فقال: اللهم (٩) مؤمن السريرة مؤمن العلانية، انا مؤمن (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [و].
(٢) في [أ، ط، هـ]: (بعثني).
(٣) في [و]: (فقال).
(٤) في [و]: (أنشدك).
(٥) في [و]: (على).
(٦) سقط من: [و].
(٧) سقط من: [و].
(٨) زائدة (قال) في: [جـ، ك، و].
(٩) في [و]: (كنت).
(١٠) مجهول، لإبهام الراوي عن ابن مسعود.

حضرت ثعلبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: مجھے بیان کیا اس قاصد نے جس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں سوال کیا تھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ جانتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین قسم کے تھے: وہ جو پوشیدہ اور ظاہری طور پر مومن ہو اور وہ جو پوشیدہ اور ظاہری طور پر کافر ہو اور وہ جو ظاہری طور پر مومن ہو اور پوشیدہ طور پر کافر ہو۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ایسا یقینا تھا۔ اس نے کہا: پس میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ ان تینوں قسم میں سے کون تھے: راوی کہتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا ظاہری اور پوشیدہ طور پر مومن تھا۔ میں مومن تھا۔ ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں حضرت عبد اللہ بن معقل رحمہ اللہ سے ملا تو میں نے عرض کیا: یقینا نیکوکاروں میں سے چند لوگ میرے یوں کہنے پر عیب لگاتے ہیں۔ میں مومن ہوں، تو حضرت عبد اللہ بن معقل رحمہ اللہ نے فرمایا: تحقیق تو ناکام و نامراد ہوا اگر تو مومن نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32344]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32344، ترقيم محمد عوامة 30968)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 32345
٣٢٣٤٥ - قال ابو إسحاق: فلقيت عبد الله بن (معقل) (١) فقلت: إن اناسا من اهل الصلاح يعيبون علي ان اقول: انا مؤمن، فقال عبد الله بن (معقل) (٢) : لقد (خبت) (٣) وخسرت إن لم تكن مؤمنا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، و]: (مغفل).
(٢) في [و]: (مغفل).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (جئت)، وفي [هـ]: (مخبنت).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32345، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30969 ترقیم الشثری: -- 32346
٣٢٣٤٦ - حدثنا ابو معاوية عن موسى بن مسلم الشيباني عن إبراهيم التيمي قال: وما على احدكم ان يقول: انا مؤمن، فوالله لئن كان صادقا لا يعذبه الله على صدقه، وإن كان كاذبا لما دخل عليه من الكفر اشد (عليه) (١) من الكذب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [و].
حضرت موسیٰ بن مسلم الشیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم التیمی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی ایک کے لیے یوں کہنا نقصان دہ نہیں ہے کہ میں مومن ہوں۔ اللہ کی قسم اگر وہ سچا ہے تو اللہ اسے سچ بولنے پر عذاب نہیں دیں گے، اور اگر وہ جھوٹا ہے تو کفر کا عذاب جھوٹ کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32346]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32346، ترقيم محمد عوامة 30969)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30970 ترقیم الشثری: -- 32347
٣٢٣٤٧ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: قال له رجل؛ امؤمن انت؟ قال: ارجو.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے پوچھا: کیا آپ مومن ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں امید کرتا ہوں اس کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32347]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32347، ترقيم محمد عوامة 30970)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30971 ترقیم الشثری: -- 32348
٣٢٣٤٨ - حدثنا ابو معاوية عن داود بن ابي هند عن شهر بن حوشب عن الحارث بن (عميرة) (١) (الزبيدي) (٢) قال: وقع الطاعون بالشام فقام معاذ بحمص ونخطبهم فقال: إن هذا الطاعون رحمة ربكم، ودعوة نبيكم ﷺ، وموت الصالحين ⦗٢٠⦘ قبلكم، اللهم اقسم لآل معاذ نصيبهم الاوفى منه، (قال) (٣) : فلما نزل عن المنبر اتاه آت، فقال: إن عبد الرحمن بن معاذ قد اصيب فقال: ﴿إنا لله وإنا إليه راجعون﴾ [البقرة: ١٥٦] ، قال: ثم انطلق نحوه، فلما رآه عبد الرحمن مقبلا (قال) (٤) : (٥) إنه الحق من ربك فلا تكونن من الممترين، قال: فقال: يا بني، ستجدني إن شاء الله من الصابرين، قال: فمات آل معاذ إنسانا إنسانا حتى كان معاذ آخرهم، (قال) (٦) : فاصيب فاتاه الحارث بن (عميرة) (٧) الزبيدي (٨) ، قال: (فاغشي) (٩) على معاذ غشية، (قال) (١٠) : (فافاق) (١١) معاذ والحارث يبكي، (قال) (١٢) : فقال معاذ: ما يبكيك؟ قال: (١٣) (ابكي) (١٤) على العلم الذي يدفن معك، (قال) (١٥) : فقال: (فإن) (١٦) كنت طالبا للعلم لا محالة فاطلبه من عبد الله بن مسعود، ومن عويمر ابي ⦗٢١⦘ الدرداء ومن سلمان الفارسي، (قال) (١٧) : وإياك وزلة العالم، (قال) (١٨) : (قلت) (١٩) : وكيف -لي اصلحك الله- ان اعرفها؟ قال: (إن) (٢٠) للحق نورا يعرف به، قال: فمات معاذ (رحمة الله عليه) (٢١) وخرج الحارث (٢٢) يريد عبد الله بن مسعود بالكوفة، (فقال) (٢٣) : فانتهى إلى بابه فإذا على الباب نفر من اصحاب عبد الله يتحدثون، قال: فجرى بينهم الحديث حتى قالوا: يا شامي، امؤمن انت؟ قال: نعم، فقالوا: من اهل الجنة؟ قال: (فقال) (٢٤) : إن لي ذنوبا (لا) (٢٥) ادري ما (يصنع) (٢٦) الله فيها، فلو (اني) (٢٧) اعلم انها غفرت لي لانباتكم اني من اهل الجنة، قال: فبينما هم كذلك إذ خرج عليهم عبد الله فقالوا له: الا تعجب من اخينا هذا الشامي يزعم انه مؤمن و (لا) (٢٨) يزعم انه من اهل الجنة، (قال) (٢٩) : فقال عبد الله: لو قلت إحداهما لاتبعتها الاخرى، (قال) (٣٠) : فقال الحارث: إنا لله وإنا إليه راجعون صلى الله على ⦗٢٢⦘ معاذ، قال: ويحك ومن معاذ؟ قال: معاذ بن جبل، قال: وما (ذاك؟) (٣١) قال: قال: (٣٢) إياك وزلة العالم فاحلف بالله إنها منك لزلة يا ابن مسعود، وما الإيمان إلا انا نؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والجنة والنار والبعث والميزان، و (إن) (٣٣) لنا ذنوبا (لا) (٣٤) ندري ما يصنع الله فيها، فلو (انا) (٣٥) نعلم انها غفرت لنا لقلنا: إنا من اهل الجنة، فقال عبد الله. (صدقت والله، إن كانت مني لزلة) (٣٦) (٣٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (عمير).
(٢) في [و]: (الزبيد).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [جـ]: (فقال).
(٥) في [و]: زيادة (ما آبه).
(٦) سقط من: [و].
(٧) في [أ، هـ]: (عمير).
(٨) زيادة في [و]: (يعوده)
(٩) في [و]: (وغشي).
(١٠) سقط من: [و].
(١١) في [ط]: (فأقاف).
(١٢) سقط من: [و].
(١٣) في [جـ، ك]: زائدة (فقال).
(١٤) في [ب]: (نبكي).
(١٥) سقط من: [و].
(١٦) في [و]: (إن).
(١٧) سقط من: [و].
(١٨) سقط من: [و].
(١٩) في [أ، ب، ط]: (وقلت)، وفي [هـ]: (فقلت).
(٢٠) سقط من: [و].
(٢١) زيادة في: [و].
(٢٢) في [ب]: زيادة [و].
(٢٣) في [أ، ب، ك]: (قال).
(٢٤) سقط من: [و].
(٢٥) في [و]: (وما).
(٢٦) في [ط]: (يضع).
(٢٧) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢٨) سقط من: [هـ].
(٢٩) زيادة (قال) في: [ك].
(٣٠) سقط من: [و].
(٣١) زيادة في: [و].
(٣٢) زيادة (قال) في: [جـ].
(٣٣) زائدة في: [هـ]، وسقطة من: [و].
(٣٤) في [و]: (ما).
(٣٥) زيادة (أنا) في [و].
(٣٦) تكرر في [و].
(٣٧) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٦٠، والبزار (٢٦٧١)، وابن جرير في مسند ابن عباس من تهذيب الآثار (٩٨١)، وأبو نعيم ١/ ٢٤٥، وابن عساكر ١١/ ٤٥٩، وقد أخرجه بنحوه أو بعضه أبو داود (٤٦١١)، والترمذي (٣٨٥٤)، والنسائي (٨٢٥٣)، وابن حبان (٧١٦٥)، وأحمد (٢٢١٥٧)، وعبد الرزاق (٢٠٧٥٠)، وإسحاق كما في المطالب (٢٨٩٨)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ١٨٦، والبيهقي ١٠/ ٢١٠، والمزي ٣٢/ ٢١٩.

حضرت حارث بن عمیرہ الزبیدی فرماتے ہیں کہ جب شام میں طاعون پھیلا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حمص کے مقام پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: یہ طاعون تمہارے رب کی رحمت ہے، اور تمہارے نبی 5 کی دعا ہے۔ اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت ہے۔ اے اللہ! آلِ معاذ کو اس میں سے پورا پورا حصہ عطا فرفرما۔ راوی کہتے ہیں: جب آپ رضی اللہ عنہ منبر سے نیچے اترے تو ایک آنے والے نے آ کر خبر دی: بیشک عبد الرحمن بن معاذ طاعون میں مبتلا ہوگئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اس کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کی طرف چلے: راوی کہتے ہیں جب عبد الرحمن نے آپ کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: بیشک یہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے پس تم ہرگز شک کرنے والوں میں سے مت ہونا، راوی کہتے ہیں: پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ضرور پائیں گے آپ ان شاء اللہ صابروں میں سے۔ راوی فرماتے ہیں: پس آل معاذ ایک ایک فرد کر کے مرگئے یہاں تک کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہان میں سے آخر میں رہ گئے۔ راوی فرماتے ہیں: پھر آپ رضی اللہ عنہ بھی طاعون میں مبتلا ہوگئے۔ تو حارث بن عمیر الزبیدی آپ کے پاس آئے۔ راوی فرماتے ہیں: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو حارث رو رہے تھے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟ حارث نے کہا: میں اس علم کے ضائع ہونے پر رو رہا ہوں جو آپ کے ساتھ دفن ہوجائے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو علم کا طالب ہے تو کوئی مشکل نہیں پس تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کو طلب کر، اور عویمر ابو الدرداء سے، اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے، اور فرمایا: تم عالم کی غلطیوں سے بچو۔ حارث کہتے ہیں میں نے پوچھا: میں کیسے اس کی غلطی کو پہچانوں؟ (اللہ آپ کو تندرست فرمائے) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقینا حق کے لیے نور ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ پہچان لیا جاتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں: پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی، اور حارث حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی غرض سے کوفہ کی طرف نکلے۔ جب ان کے دروازے پر پہنچے۔ تو دیکھا وہاں حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب کا گروہ دروازے پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان بات چیت جاری تھی یہاں تک کہ وہ کہنے لگے، اے شامی بھائی: کیا تم مومن ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے کہا جی ہاں! پھر انہوں نے پوچھا: جنتیوں میں سے ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے کہا: یقینا میرے سے کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں میں نہیں جانتا کہ اللہ نے ان گناہوں کا کیا معاملہ کیا، پس اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میرے ان گناہوں کو معاف کردیا گیا ہے، تو میں تمہیں ضرور بتلاتا کہ بیشک میں جنتی ہوں راوی فرماتے ہیں: ہم اسی درمیان میں تھے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لے آئے، تو ان کے اصحاب نے ان سے کہا: کیا آپ تعجب نہیں کرتے ہمارے اس شامی بھائی پر جو مومن ہونے کا گمان تو کرتا ہے اور جنتی ہونے کا گمان نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں: حضرت عبد اللہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ان دونوں میں سے ایک کہوں گا تو ساتھ ہی دوسری بات بھی کہوں گا، تو حارث نے کہا: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم نے اس کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے! اللہ معاذ رضی اللہ عنہ پر رحمت فرمائے!۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ہلاکت ہو، کون معاذ؟ انہوں نے کہا: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: انہوں نے کیا فرمایا تھا؟ حارث نے کہا: تم عالم کی غلطیوں سے بچے۔ پس میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ اے ابن مسعود رضی اللہ عنہاپ غلطی پر ہیں۔ نہیں ہے ایمان مگر یہ کہ ہم اللہ پر ایمان لائیں، اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، اور آخرت کے دن پر، اور جنت اور جہنم پر، اور مرنے کے بعد اٹھنے پر، اور ترازو پر، اور ہمارے کچھ گناہ ہوتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا معاملہ فرمایا پس اگر ہم جان لیں کہ ہمارے ان گناہوں کو معاف کردیا تو ہم ضرور کہیں گے کہ ہم جنتی ہیں۔ تو حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔ اللہ کی قسم میں غلطی پر تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32348]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32348، ترقيم محمد عوامة 30971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. ما (ذكر) فيما يطوى عليه المؤمن من الخلال
جن لوگوں نے کہا کہ مومن کی عادتیں ایسی ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30972 ترقیم الشثری: -- 32349
٣٢٣٤٩ - حدثنا مصعب بن المقدام قال حدثنا عكرمة بن عمار (قال) (١) : حدثني ابو زميل عن مالك بن مرثد الزماني عن ابيه قال: قال ابو ذر: سالت رسول الله ﷺ: ماذا ينجي العبد من النار؟ (فقال) (٢) :"الإيمان بالله"، قال: قلت: (يا ⦗٢٣⦘ نبي) (٣) الله (او) (٤) مع الإيمان عمل؟ فقال:"ترضخ مما رزقك الله، او يرضخ مما رزقه الله" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [و].
(٢) في [و]: (وقال).
(٣) في [هـ]: (حسبي).
(٤) في [و]: (إن).
(٥) مجهول؛ لجهالة مرشد الزماني، أخرجه الطبراني (١٦٥٠)، وأخرجه بنحوه الحاكم ١/ ٦٣، وابن حبان (٣٧٣)، والبيهقي في الشعب (٣٣٢٧).

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول 5 سے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے جو بندے کو جہنم سے نجات دلاتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پر ایمان لانا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی 5! کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دے اس رزق میں سے جو اللہ نے تجھے دیا۔ یا یوں فرمایا: وہ دے اس رزق میں سے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32349]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32349، ترقيم محمد عوامة 30972)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 30973 ترقیم الشثری: -- 32350
٣٢٣٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن علي بن زيد عن ام محمد ان رجلا قال لعائشة: ما الإيمان؟ (قالت) (١) : افسر ام اجمل؟ قال: (لا بل) (٢) اجملي، (قالت) (٣) : من سرته حسنته، وساءته، سيئته فهو مؤمن (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [و]: (فقالت).
(٢) سقط من: [و].
(٣) في [جـ، ك، و]: (فقالت).
(٤) مجهول؛ لجهالة أم محمد.

حضرت ام محمد رحمہ اللہ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ایمان کی علامت کیا ہیـ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تفصیل سے بیان کروں یا مختصر طور پر بیان کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اجمالاً بیان کریں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کو اس کی نیکی اچھی لگے اور اس کی برائی کھٹکے تو وہ مومن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الإيمان/حدیث: 32350]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32350، ترقيم محمد عوامة 30973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں