مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 38922 ترقیم الشثری: -- 40569
٤٠٥٦٩ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا عبد الله بن محمد قال: اخبرني ابي ان عليا قال يوم الجمل: (نمن) (١) عليهم (بشهادة) (٢) ان لا إله إلا الله (و) (٣) نورث ⦗٤٨١⦘ الاباء من (الابناء) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (نبن)، وفي [س، ع]: (من).
(٢) في [ع]: (لشهادة)، وفي [س]: (شهادة).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٤) في [ط، هـ]: (الأنباء)، وفي [أ، ب]: (الأبياء).
(٥) منقطع؛ محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب لا يروي عن جده، أخرجه البيهقي ٨/ ١٨٢.
عبداللہ بن محمد فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم نے مجھے یہ خبر دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن فرمایا ہم ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کریں گے بوجہ ”لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ“ کی شہادت کے، اور ہم آباؤ اجداد کو بیٹوں کا وارث بنائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40569]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40569، ترقيم محمد عوامة 38922)
ترقیم عوامۃ: 38923 ترقیم الشثری: -- 40570
٤٠٥٧٠ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا مسعر عن ثابت بن عبيد قال: سمعت ابا جعفر يقول: لم يكفر اهل الجمل.
ثابت بن عبید نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر کو کہتے ہوئے سنا کہ جنگ جمل میں شریک ہونے والوں نے کفر نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40570]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40570، ترقيم محمد عوامة 38923)
ترقیم عوامۃ: 38924 ترقیم الشثری: -- 40571
٤٠٥٧١ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت سويد بن الحارث قال: لقد (رايتنا) (١) يوم الجمل وإن رماحنا ورماحهم لمتشاجرة، ولو شاءت الرجال لمشت (عليها) (٢) ، (يقولون: الله اكبر) (٣) ، ويقولون: سبحان الله (و) (٤) (الله اكبر) (٥) ، (ونحو ذلك) (٦) ، ليس فيها شك، وليتني لم اشهد (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (رأيت)، وفي [س]: (أتينا).
(٢) في [هـ]: (عليهم).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [ع]: (الحمد للَّه).
(٦) في [هـ]: (ويقولون).
(٧) مجهول؛ لجهالة سويد بن الحارث، وانظر: ما سيأتي ١٥/ ٢٦٦ برقم [٤٠٥٩٢].
عمرو بن مرہ سے مروی ہے کہ میں نے سوید بن حارث کو یہ کہتے ہوئے سنا ہم نے جنگ جمل کے دن دیکھا کہ ہمارے نیزے اور ان کے نیزے آپس میں ایسے گھسے ہوئے تھے کہ اگر لوگ چاہتے تو ان پر چل سکتے تھے۔ کچھ لوگ اللہ اکبر کے نعرے بلند کررہے تھے اور کچھ سبحان اللہ اللہ اکبر کے نعرے لگار ہے تھے اور کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ کاش میں اس جنگ میں شریک نہ ہوتا۔ اور عبداللہ بن سلمہ فرمایا کرتے تھے مجھے یہ بات بھلی معلوم نہیں ہوتی کہ میں جنگ جمل میں شریک نہیں ہوا۔ میں پسند کرتا ہوں ہر اس حاضر ہونے کی جگہ حاضر ہوں جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ شریک ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40571]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40571، ترقيم محمد عوامة 38924)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40572
٤٠٥٧٢ - ويقول عبد الله بن سلمة: ولكني ما سرني اني لم اشهد، ولوددت ان كل (مشهد) (١) شهده علي شهدته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (شهد).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40572، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38925 ترقیم الشثری: -- 40573
٤٠٥٧٣ - حدثنا ابو اسامة قال: (حدثنا) (١) إسماعيل بن ابي خالد قال: (اخبرنا) (٢) قيس قال: رمى مروان بن الحكم يوم الجمل طلحة بسهم في ركبته، قال: ⦗٤٨٢⦘ فجعل الدم (يغذو الدم) (٣) يسيل، قال: (فإذا) (٤) امسكوه (امتسك) (٥) ، وإذا تركوه سال، قال: فقال: دعوه، قال: وجعلوا إذا امسكوا فم الجرح انتفخت ركبته، فقال: دعوه (فإنما) (٦) هو سهم ارسله الله، قال: فمات، (قال) (٧) : فدفناه على شاطئ الكلاء، فراى بعض اهله انه قال: الا تريحونني من (هذا) (٨) الماء؟ فإني قد غرقت -ثلاث مرار يقولها، قال: فنبشوه فإذا هو اخضر (كانه السلق) (٩) فنزفوا عنه الماء ثم (استخرجوه) (١٠) ، فإذا ما يلي الارض من لحيته ووجهه قد اكلته الارض، فاشتروا له (دارا) (١١) من دور آل ابي بكرة بعشرة آلاف فدفنوه فيها (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٣) في [هـ]: (يغدو)، وفي [ط]: (بعد الدم).
(٤) في [ب]: (وإذا).
(٥) في [هـ]: (استمسك).
(٦) في [أ، ب]: (إنما).
(٧) سقط من: [ع].
(٨) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٩) في [هـ]: (كالسلق)، وفي [ط]: (كالسلف).
(١٠) في [هـ]: (استخرجوا).
(١١) في [س]: (دار).
(١٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ٤١٨ (٥٥٩١)، وابن سعد ٣/ ٢٢٣، والطبراني ١/ (٢٠١) والخلال في السنة (٨٣٩)، وابن عساكر ٢٥/ ١١٢، وابن عبد البر في الاستيعاب ٢/ ٧٦٩.
قیس روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے حضرت طلحہ کے گھٹنے میں ایک تیر مارا جنگ جمل کے دن۔ پس اس سے خون بہنا شروع ہوا جب سب اس کو روکتے رک جاتا اور اسے چھوڑ دیتے پھر خون جاری ہوجاتا پس حضرت طلحہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو۔ جب لوگوں نے زخم کے منہ کو روکنا چاہا تو گھٹنہ پھول گیا حضرت طلحہ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ تیر اللہ عزوجل کی طرف سے تھا پھر آپ کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے انہیں کلاء (دریا کنارے ایک بازار) کے ایک جانب دفن کردیا۔ ان کے گھر والوں میں سے کیپ نے انہیں خواب میں دیکھا کہ وہ فرما رہے ہیں! کیا تم مجھے پانی سے نجات نہیں دلاؤ گے؟ میں پانی میں ڈوب چکا ہوں یہ کلمات تین دفعہ فرمائے۔ ان کی قبر کو کھودا گیا تو وہ سبز ہوچکے تھے سلق (سبزی) کی طرح۔ لوگوں نے ان سے پانی کو دور کیا پھر ان کو وہاں سے نکالا تو جو حصہ زمین سے ملا ہوا تھا ان کی داڑھی اور چہرے میں سے اس کو زمین نے کھالیا تھا۔ ان کے لیے ابو بکرہ کی آل کے گھروں میں سے ایک گھر دس ہزار درہم کا خریدا اور اس میں حضرت طلحہ کو دفن کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40573]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40573، ترقيم محمد عوامة 38925)
ترقیم عوامۃ: 38926 ترقیم الشثری: -- 40574
٤٠٥٧٤ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: لما بلغت عائشة بعض مياه بني عامر ليلا نبحت الكلاب عليها، فقالت: اي ماء هذا؟ قالوا: ماء (الحواب) (١) ، فوقفت فقالت: ما اظنني إلا راجعة، فقال لها طلحة والزبير: مهلا رحمك الله بل تقدمين فيراك المسلمون فيصلح الله ذات بينهم، قالت: ما ⦗٤٨٣⦘ اظنني إلا راجعة، إني سمعت رسول الله ﷺ قال (لنا) (٢) ذات يوم:"كيف بإحداكن تنبح عليها كلاب (الحواب) (٣) " (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحرب)، وفي [أ، ب]: (الخواب).
(٢) في [أ، ب]: (كمتا).
(٣) في [ع]: (الحرب)، وفي [أ، ب]: (الخواب).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٢٥٤)، وابن حبان (٦٧٣٢)، والحاكم ٣/ ١٢٠، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٤٠٣، والبزار (٣٢٧٥/ كشف)، وأبو يعلى (٤٨٦٨)، وابن عدي ٤/ ٦٢٧، والبيهقي في دلائل النبوة ٦/ ٤١٠، وإسحاق (١٥٦٩)، ونعيم (١٨٨).
قیس سے روایت ہے جب عائشہ رضی اللہ عنہا بنو عامر کے ایک چشمہ پر پہنچیں تو کتوں نے بھونکناشروع کردیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یہ کونسا چشمہ ہے۔ لوگوں نے بتایا ”حواب“ چشمہ ہے۔ پس وہ ٹھہر گئیں اور فرمانے لگیں کہ مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ طلحہ اور زبیر نے ان سے عرض کی ٹھہریے اللہ آپ پر رحم کرے۔ آپ کو آگے جانا چاہیے مسلمان آپ سے امید لگائے ہوئے ہیں کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے واپس ہی جانا چاہیے۔ میں نے رسو ل کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کے بارے میں بتایا (کا حال ہوگا جب تم میں سے ایک پر حواب چشمے کے کتے بھونکیں گے) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40574]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40574، ترقيم محمد عوامة 38926)
ترقیم عوامۃ: 38927 ترقیم الشثری: -- 40575
٤٠٥٧٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: قالت عائشة: لما حضرتها الوفاة ادفنوني مع ازواج النبي ﵇ (١) فإني كنت احدثت بعده حدثا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٢) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٧.
قیس سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قریب الوفات فرمایا کہ مجھے ازاوج مطہرات کے ساتھ دفنانا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک طریقہ اختیار کیا (قتال کے لیے خروج کیا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40575]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40575، ترقيم محمد عوامة 38927)
ترقیم عوامۃ: 38928 ترقیم الشثری: -- 40576
٤٠٥٧٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: سمعت (ابي) (٢) قال: بلغ علي بن ابي طالب ان طلحة يقول: ( (إنما) (٣) بايعت) (٤) واللج على (قفاي) (٥) ، (قال: فارسل ابن عباس فسالهم، قال: فقال اسامة بن زيد: اما) (٦) واللج على قفاه (فلا) (٧) ، ولكن قد بايع وهو كاره، قال: فوثب الناس إليه حتى كادوا ان يقتلوه، قال: فخرج صهيب وانا إلى جنبه فالتفت إلي فقال: قد ⦗٤٨٤⦘ ظننت ان ام عوف (حائنة) (٨) (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سعيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، س، ع]: (لما).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [جـ]: (قفاه).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) أي: أن أم عون وهي الجرداة مهلكة، وهو مثل يضرب للأمر القليل يكون به العطب، وفي [ع]: (خانئة)، وفي [س]: (نا خاوتنة)، وفي [أ]: (حاء ننته)، وفي [ق]: (حانية)، وفي [هـ]: (حانقة).
(٩) صحيح؛ أخرجه نعيم (٤٠٨)، والحربي في غريب الحديث ١/ ١٣١.
سعد بن ابراہیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے بیعت اس حالت میں کی کہ میری گدی پر تلوار تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ وہ لوگوں سے اس خبر کی تصدیق کریں پس اسامہ بن زید نے فرمایا کہ تلوار کے بارے میں مں نہیں جانتا لیکن انہوں نے بیعت ناپسندیدگی سے کی ہے لوگ ان کی طرف ایسے جھپٹے قریب تھا کہ ان کو قتل کردیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت صہیب نکلے اس حال میں کہ میں ان کے ایک جانب میں تھا۔ پس انہوں نے میر ی طرف دیکھا اور فرمایا میرا خیال ہے کہ ام عوف سخت برہم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40576]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40576، ترقيم محمد عوامة 38928)
ترقیم عوامۃ: 38929 ترقیم الشثری: -- 40577
٤٠٥٧٧ - حدثنا ابو اسامة عن خالد بن ابي كريمة عن ابي جعفر قال: جلس علي واصحابه (يوم) (١) (الجمل) (٢) يبكون على طلحة والزبير (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) منقطع؛ أبو جعفر لم يدرك عليًا.
ابو جعفر سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر پر رو رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40577]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40577، ترقيم محمد عوامة 38929)
ترقیم عوامۃ: 38930 ترقیم الشثری: -- 40578
٤٠٥٧٨ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ابيه قال: حدثنا ابو نضرة ان ربيعة كلمت طلحة في مسجد بني (سلمة) (١) فقالوا: كنا في نحر العدو حتى جاءتنا بيعتك هذا الرجل، ثم انت الآن تقاتله او كما قالوا، قال: فقال: إني ادخلت (الحش) (٢) ووضع على عنقي اللج، (وقيل) (٣) : بايع وإلا (قتلناك) (٤) ، قال: فبايعت وعرفت انها بيعة ضلالة (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مسلمة).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (الحسن).
(٣) في [ع]: (فقيل).
(٤) في [أ، هـ]: (قاتلناك).
(٥) صحيح.
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ربیعہ والے بنو مسلمہ کی مسجد میں حضرت طلحہ سے ہم کلام ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم تو دشمن کے گلے پر قابض تھے کہ ہم کو یہ اطلاع پہنچی کے آپ نے اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی بیعت کرلی ہے پھر اب آپ اسی سے قتال کر رہے ہیں اور کچھ اس طرح کی باتیں کیں۔ حضرت طلحہ نے فرمایا کہ مجھے کھجور کے باغ میں داخل کیا گیا اور تلوار میری گردن پر رکھ دی گئی پھر کہا گیا کہ تم بیعت کرو وگرنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے میں نے بیعت کرلی اور جان لیا کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔ تیمی کہتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے فرمایا کہ اہل عراق کے منافقین سے ایک منافق جبلہ بن حکیم نے حضرت زبیر سے کہا کہ آپ تو بیعت کرچکے ہیں (پھر یہ مخالفت کیسی) حضرت زبیر نے فرمایا کہ تلوار میری گدی پر تھی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بیعت کرو وگرنہ ہم تم کو قتل کردیں گے پس میں نے بیعت کرلی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40578]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40578، ترقيم محمد عوامة 38930)