سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب النُّذُورُ
باب: نذر کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 4248 ترقیم الرسالہ : -- 4327
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادِ بْنِ آدَمَ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا وُهَيْبٌ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى رَجُلا قَائِمًا فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلا يَقْعُدَ، وَلا يَسْتَظِلَّ وَيَصُومَ وَلا يَتَكَلَّمَ، فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيَقْعُدْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَصُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ایک شخص کو دیکھا، جو دھوپ میں کھڑا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل ہے، اس نے یہ نذر مانی ہے کہ کھڑا رہے، بیٹھے گا نہیں، سائے میں نہیں آئے گا، روزہ رکھے اور کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے، سائے میں بھی آ جائے، بات چیت بھی کرے، البتہ روزہ رکھ لے۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4327]
ترقیم العلمیہ: 4248
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6704، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1010، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4385، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3228، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2136، 2136 م، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20150، 20152، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4323، 4324، 4325، 4326، 4327»
ترقیم العلمیہ : 4249 ترقیم الرسالہ : -- 4328
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا عَبْثَرٌ ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" الأَيْمَانُ أَرْبَعَةٌ: يَمِينَانِ يُكَفَّرَانِ، وَيَمِينَانِ لا يُكَفَّرَانِ، فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ: وَاللَّهِ لا نَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا، فَيَفْعَلُ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ: وَاللَّهِ لأَفْعَلُ، فَلا يَفْعَلُ، وَأَمَّا الْيَمِينَانِ اللَّذَانِ لا يُكَفَّرَانِ: فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ مَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ فَعَلَهُ، وَالرَّجُلُ يَحْلِفُ لَقَدْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، وَلَمْ يَفْعَلْهُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”قسمیں چار طرح کی ہوتی ہیں، ان میں سے دو قسم کی قسموں کا کفارہ دینا پڑتا ہے اور دو قسم کی قسموں کا کفارہ ادا نہیں کیا جاتا، ایک وہ شخص، جو یہ قسم اٹھاتا ہے: ’اللہ کی قسم! ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے‘ اور پھر وہ ایسا کر لیتا ہے، ایک وہ شخص، جو یہ کہتا ہے: ’اللہ کی قسم! میں ایسا کروں گا‘، پھر وہ ایسا نہیں کرتا، جہاں تک ان دو قسموں کا تعلق ہے، جن میں کفارہ نہیں دیا جاتا، تو وہ یہ ہیں کہ آدمی یہ قسم اٹھائے کہ ’میں نے ایسا نہیں کیا‘ اور حالانکہ اس نے ایسا کیا ہو یا آدمی یہ قسم اٹھائے کہ ’اس نے ایسا کیا ہے‘، لیکن اس نے ایسا نہ کیا ہو (تو اس کا کفارہ نہیں ہو گا)۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4328]
ترقیم العلمیہ: 4249
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 19941، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4328»
ترقیم العلمیہ : 4250 ترقیم الرسالہ : -- 4329
نَا نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عُمَرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كُلُّ اسْتِثْنَاءٍ غَيْرِ مَوْصُولٍ فَصَاحِبُهُ حَانِثٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر وہ استثناء، جو قسم کے ساتھ ملایا نہ ہو، تو ایسا کرنے والا شخص قسم توڑنے والا ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4329]
ترقیم العلمیہ: 4250
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 966، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4339، 4340، 4342، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7927، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3824، 3859، 3860، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3261، 3262، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1531، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2387، 2388، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2105، 2106، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4329، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4598، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 707»
«قال الدارقطني: فيه عمر بن مدرك وهو ضعيف، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (3 / 244)»
«قال الدارقطني: فيه عمر بن مدرك وهو ضعيف، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (3 / 244)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4251 ترقیم الرسالہ : -- 4330
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ عَلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ حِينَ أُغِيرَ عَلَى لِقَاحِهِ، حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ نَجَّانِيَ اللَّهُ عَلَيْهَا لآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبِئْسَمَا جَزَيْتِهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ" .
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ کی اونٹنی کو لوٹ لیا گیا تھا، اس نے وہ اونٹنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کر بٹھائی، پھر اس خاتون نے عرض کی: ”میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی پر سوار رہتے ہوئے مجھے نجات عطا کر دی، تو میں اس کا جگر اور اس کے کوہان کا گوشت ضرور کھاؤں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے بڑا برا بدلہ دیا ہے، یہ نذر نہیں ہوتی، نذر وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4330]
ترقیم العلمیہ: 4251
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3273، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20149، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4330، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6847، 7095، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 4831، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4162، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1410»
ترقیم العلمیہ : 4252 ترقیم الرسالہ : -- 4331
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، نَا أَشْعَثُ، نَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ مَوْلاتَهُ أَرَادَتْ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: هِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لَهَا حُرٌّ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَيْهَا الْمَشْيُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا، فَسَأَلَتْ عَائِشَةَ ، وَابْنَ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ ، وَحَفْصَةَ ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ، فَكُلُّهُمْ قَالَ لَهَا: أَتُرِيدِينَ أَنْ تَكُونِي مثل هَارُوتَ وَمَارُوتَ، وَأَمَرُوهَا أَنْ تُكَفِّرَ يَمِينَهَا وَتُخَلِّي بَيْنَهُمَا" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی آزاد کردہ کنیز نے یہ ارادہ کیا کہ وہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی کروا دے، اس نے ایک دن یہ کہا: کہ اگر وہ ایسا نہ کرے گی، تو وہ یہودی ہو گی، اور ایک روایت کے مطابق یہ کہا: کہ عیسائی ہو گی، اس کا ہر غلام آزاد ہو گا اور سارا مال اللہ کی راہ میں دیا جائے گا اور اس پر لازم ہو جائے گا کہ وہ بیت اللہ تک پیدل چل کر جائے، اگر وہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی نہ کروا سکی۔ اس نے سیدہ عائشہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ حفصہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو ان سب نے اس سے یہی کہا: ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم ہاروت اور ماروت کی طرح بن جاؤ؟“ پھر ان سب نے اسے یہی ہدایت کی کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور ان دونوں کا پیچھا چھوڑ دے۔ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4331]
ترقیم العلمیہ: 4252
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20102، 20103، 20104، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4331، 4332، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16000، 16001، 16013»
ترقیم العلمیہ : 4253 ترقیم الرسالہ : -- 4332
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو هِلالٍ، نَا غَالِبٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَتْ مَوْلاتِي:" لأُفَرِّقَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، وَهِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ مَوْلاتِي تُرِيدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي، فَقَالَتِ: انْطَلِقْ إِلَى مَوْلاتِكَ فَقُلْ لَهَا: لا يَحِلُّ لَكِ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَجَاءَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَابِ، فَقَالَ: هَاهُنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَقَالَتْ: إِنِّي جَعَلْتُ كُلَّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَمَا تَأْكُلِينَ؟، قَالَتْ: وَقُلْتُ وَأَنَا يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ، قَالَ: إِنَّ تَهَوَّدْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَمَجِّسْتِ قُتِلْتِ، قَالَتْ: فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: تُكَفِّرِي يَمِينَكِ، وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ فَتَاكِ وَفَتَاتِكِ" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری آزاد کردہ کنیز نے یہ کہا: ”میں آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی ضرور کرواؤں گی، اگر میں ایسا نہ کر سکی، تو اس کا تمام مال خانہ کعبہ کے نام ہو گا اور وہ اس دن یہودی ہو گی، عیسائی ہو گی یا مجوسی ہو گی، اگر وہ آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے درمیان فرق نہ پیدا کر سکی۔“ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”میری آزاد کردہ کنیز یہ چاہتی ہے کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان علیحدگی پیدا کر دے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ ”تم اپنی کنیز کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تمہارے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔“ میں اس کے بعد واپس چلا گیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، وہ تشریف لائے، یہاں تک کہ دروازے تک آئے اور فرمایا: ”یہاں ہاروت اور ماروت ہیں؟“ اس کنیز نے کہا: کہ ”میں نے اپنا سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے نام کر دیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”پھر تم کیا کھاؤ گی؟“ اس نے کہا: ”میں نے یہ کہا ہے کہ میں اس دن یہودی ہوں گی یا عیسائی ہوں گی یا اس دن مجوسی ہوں گی (اگر میں نے ان کے درمیان جدائی نہ کی)۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تم نے یہودیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا، اگر تم نے عیسائیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا اور اگر تم نے مجوسیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔“ وہ کنیز بولی: ”پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”تم اپنی قسم کا کفارہ دو اور اس شخص اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی نہ کرواؤ۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4332]
ترقیم العلمیہ: 4253
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20102، 20103، 20104، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4331، 4332، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16000، 16001، 16013»
ترقیم العلمیہ : 4254 ترقیم الرسالہ : -- 4333
نَا نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَبَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ نَذَرَتْ نَحْرَ ابْنِهَا، فَأَمَرَهَا بِالْكَفَّارَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: سُبْحَانَ اللَّهِ كَفَّارَةٌ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ قَدْ ذَكَرَ اللَّهُ الظِّهَارَ، وَأَمَرَ بِالْكَفَّارَةِ" .
قاسم بیان کرتے ہیں: ایک خاتون سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دے گی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کفارہ دینے کا حکم دیا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: ”سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کفارہ دیا جائے گا؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ نے ظہار کا ذکر کیا ہے اور اس میں بھی کفارے کا حکم دیا ہے (تو ظہار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، لیکن اس میں کفارہ دیا جاتا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4333]
ترقیم العلمیہ: 4254
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1725، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20135، 20136، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4333، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15903، 15906، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12654»
ترقیم العلمیہ : 4255 ترقیم الرسالہ : -- 4334
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَفَّارَةُ الْيَمِينِ مُدُّ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”قسم کا کفارہ یہ ہے کہ ہر مسکین کو ایک ’مد‘ گندم دی جائے۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4334]
ترقیم العلمیہ: 4255
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6713، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1744، 1745، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20030، 20037، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4334،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12336»
ترقیم العلمیہ : 4256 ترقیم الرسالہ : -- 4335
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لِكُلِّ مِسْكِينٍ مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ رَيْعُهُ إِدَامُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہر مسکین کو گندم کا ایک مد دیا جائے گا، جس کے ساتھ سالن بھی ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4335]
ترقیم العلمیہ: 4256
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 790، 791، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4335، 4338، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16071، 16072، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12334»
ترقیم العلمیہ : 4257 ترقیم الرسالہ : -- 4336
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَا هِشَامٌ، صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ، قَالَ: مُدٌّ مِنْ حِنْطَةٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قسم کے کفارے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”گندم کا ایک مد ایک مسکین کو دیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4336]
ترقیم العلمیہ: 4257
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20029، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4336، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1781، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16068، 16069، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12335»