سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب النذور
باب: نذر کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 4253 ترقیم الرسالہ : -- 4332
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، نَا أَبُو هِلالٍ، نَا غَالِبٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَتْ مَوْلاتِي:" لأُفَرِّقَنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، وَكُلُّ مَالٍ لَهَا فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، وَهِيَ يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ، وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ، وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ إِنْ لَمْ تُفَرِّقْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ مَوْلاتِي تُرِيدُ أَنْ تُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي، فَقَالَتِ: انْطَلِقْ إِلَى مَوْلاتِكَ فَقُلْ لَهَا: لا يَحِلُّ لَكِ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَجَاءَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَابِ، فَقَالَ: هَاهُنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، فَقَالَتْ: إِنِّي جَعَلْتُ كُلَّ مَالٍ لِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَمَا تَأْكُلِينَ؟، قَالَتْ: وَقُلْتُ وَأَنَا يَوْمًا يَهُودِيَّةٌ وَيَوْمًا نَصْرَانِيَّةٌ وَيَوْمًا مَجُوسِيَّةٌ، قَالَ: إِنَّ تَهَوَّدْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَنَصَّرْتِ قُتِلْتِ، وَإِنْ تَمَجِّسْتِ قُتِلْتِ، قَالَتْ: فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: تُكَفِّرِي يَمِينَكِ، وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ فَتَاكِ وَفَتَاتِكِ" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری آزاد کردہ کنیز نے یہ کہا: ”میں آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے درمیان علیحدگی ضرور کرواؤں گی، اگر میں ایسا نہ کر سکی، تو اس کا تمام مال خانہ کعبہ کے نام ہو گا اور وہ اس دن یہودی ہو گی، عیسائی ہو گی یا مجوسی ہو گی، اگر وہ آپ کے اور آپ کی اہلیہ کے درمیان فرق نہ پیدا کر سکی۔“ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”میری آزاد کردہ کنیز یہ چاہتی ہے کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان علیحدگی پیدا کر دے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ ”تم اپنی کنیز کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ تمہارے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔“ میں اس کے بعد واپس چلا گیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، وہ تشریف لائے، یہاں تک کہ دروازے تک آئے اور فرمایا: ”یہاں ہاروت اور ماروت ہیں؟“ اس کنیز نے کہا: کہ ”میں نے اپنا سارا مال خانہ کعبہ کے خزانے کے نام کر دیا ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”پھر تم کیا کھاؤ گی؟“ اس نے کہا: ”میں نے یہ کہا ہے کہ میں اس دن یہودی ہوں گی یا عیسائی ہوں گی یا اس دن مجوسی ہوں گی (اگر میں نے ان کے درمیان جدائی نہ کی)۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تم نے یہودیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا، اگر تم نے عیسائیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا اور اگر تم نے مجوسیت اختیار کی، تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔“ وہ کنیز بولی: ”پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”تم اپنی قسم کا کفارہ دو اور اس شخص اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی نہ کرواؤ۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4332]
ترقیم العلمیہ: 4253
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20102، 20103، 20104، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4331، 4332، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16000، 16001، 16013»
الرواة الحديث:
أم سلمة زوج النبي ← عبد الله بن عمر العدوي