سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب النذور
باب: نذر کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 4254 ترقیم الرسالہ : -- 4333
نَا نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَبَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ نَذَرَتْ نَحْرَ ابْنِهَا، فَأَمَرَهَا بِالْكَفَّارَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: سُبْحَانَ اللَّهِ كَفَّارَةٌ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ قَدْ ذَكَرَ اللَّهُ الظِّهَارَ، وَأَمَرَ بِالْكَفَّارَةِ" .
قاسم بیان کرتے ہیں: ایک خاتون سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دے گی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کفارہ دینے کا حکم دیا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: ”سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کفارہ دیا جائے گا؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ نے ظہار کا ذکر کیا ہے اور اس میں بھی کفارے کا حکم دیا ہے (تو ظہار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، لیکن اس میں کفارہ دیا جاتا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ النذور/حدیث: 4333]
ترقیم العلمیہ: 4254
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1725، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20135، 20136، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4333، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15903، 15906، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12654»
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن العباس القرشي