🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابٌ فِي الِاعْتِصَامِ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 322
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ مَعَهُ، لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ! فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! وَاللَّهِ! لَقَدْ كَبُرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِي إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا، يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَّا بَعْدُ! أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأُجِيبَ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ) ) فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، قَالَ: ( (وَأَهْلُ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي) ) فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ: وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ؟ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قَالَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ
یزید بن حیان تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، جب ہم ان کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے کہا: ”اے زید! تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں، زید! بس تم نے بہت زیادہ خیر پائی ہے، زید! تم نے جو احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، وہ ہمیں بھی بیان کرو،“ انہوں نے کہا: ”اے بھتیجے! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کو بھی کافی عرصہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث یاد کی تھیں، ان میں سے بعض کو بھول بھی گیا ہوں، اس لیے میں تم کو جو کچھ بیان کر دوں، اس کو قبول کر لو اور جو نہ کر سکوں، اس کی مجھے تکلیف نہ دو۔“ پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غدیر خم، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے، کے مقام پر خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور وعظ و نصیحت کی اور پھر یہ بھی فرمایا: ”أَمَّا بَعْدُ! خبردار! اے لوگو! میں ایک بشر ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد میرے پاس آ جائے اور میں اس کی بات قبول کر لوں، بات یہ ہے کہ میں تم میں دو بیش قیمت اور نفیس چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پکڑ لو اور اس کے ساتھ چمٹ جاؤ۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر آمادہ کیا اور اس کے بارے میں ترغیب دلائی، اور پھر فرمایا: ”دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یاد دلاتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ یاد کرواتا ہوں، میں تم کو اپنے اہل بیت کے حق میں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتا ہوں۔“ حصین نے کہا: ”اے زید! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت وہ ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔“ حصین نے کہا: ”وہ کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”وہ آلِ علی، آلِ جعفر اور آلِ عباس ہیں۔“ اس نے کہا: ”کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19479»
وضاحت: فوائد: … ثَقَل کے معانی بیش قیمت نفیس چیز اور سامان کے ہیں، قرآن مجید اور اہل بیت کی شان و عظمت یا اس نصیحت کے مطابق کیے جانے والے عمل کے بھاری ہونے کی وجہ سے ان دو چیزوں کو ثَقَلَیْن کہا گیا ہے۔
امہات المؤمنین اس اعتبار سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے کفیل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان سے نکاح نہیں کیا جا سکتا، نیز ان کے احترام و اکرام اور حقوق کے تقاضوں کو پورا کرنے کا خاص حکم دیا گیا ہے، لیکن یہ اس آل میں داخل نہیں ہیں، جن پر صدقہ حرام ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2408
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں دو بیش قیمت چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب ایک رسی ہے، جس کو آسمان سے زمین کی طرف لٹکایا گیا ہے اور میری نسل میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں جدا نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ دونوں میرے حوض پر آ جائیں گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواهده دون قوله: فانھما لن يفترقا حتي يردا علي الحوض وھذا اسناد ضعيف، عطيه بن سعد العوفي ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 506، وابو يعلي: 1027، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11120»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بشواهده دون قوله: فانھما لن يفترقا حتي يردا علي الحوض وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 324
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ! قَالَ: فَقَالَ: كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى، بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ، مَنْ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا، وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ مَرَّتَيْنِ، قَوْلُهُ فَصْلٌ وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ، فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد اختلاف کرنے والی ہے،“ میں نے کہا: ”اے جبریل! اس سے نکلنے کی راہ کیا ہو گی؟“ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کو تباہ کرے گا، جس نے اس کو تھام لیا وہ نجات پا گیا، جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا،“ یہ بات دو دفعہ کہی، اس کی بات صحیح اور قطعی ہے اور مذاق نہیں ہے، اس کو زبانیں نہیں گھڑ سکتیں، اس کے عجائب ختم نہیں ہو سکتے، اس میں تمہارے اندر (کے نزاعات کا) فیصلہ ہے اور جو کچھ تمہارے بعد ہونے والا ہے، اس کی اس میں خبریں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور، ثم ھو منقطع، لانه لا تعرف لمحمد بن اسحاق رواية عن محمد بن كعب القرظي، بل ھو يروي في السيرة عنه بواسطة۔ أخرجه الترمذي: 2906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 704»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السُّنَنَ، ثُمَّ قَالَ: اتَّبِعُونَا فَوَاللَّهِ! إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا تَضِلُّوا
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قرآن مجید نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقے جاری کیے، پھر انہوں نے کہا: ”پس تم ہم صحابہ کی پیروی کرو، اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم اس طرح نہیں کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مؤمل بن اسماعيل سييء الحفظ، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف، والحسن البصري لم يسمع من عمران، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20240»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمران ؓکا مقصود یہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن مجید کی منازل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو جاننے والے اور اِن کا مشاہدہ کرنے والے تھے، اس لیے اس سلسلے میں ان کی پیروی کرنا ضروری ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَّ خَطًّا هَكَذَا أَمَامَهُ فَقَالَ: ( (هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ) ) وَخَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَخَطَّيْنِ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ: ( (هَذِهِ سَبِيلُ الشَّيْطَانِ) ) ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطِ ثُمَّ تَلَى هَذِهِ الْآيَةَ: {وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا الطُّرُقَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ، ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے والی سمت میں ایک (سیدھا) خط لگایا اور فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لکیریں دائیں طرف اور دو لکیریں بائیں طرف لگائیں اور فرمایا: ”یہ شیطان کا راستہ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان والے (سیدھے) خط پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت کی: «وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ» (اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔) اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ (الانعام: 153) [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 11، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15351»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 11
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 327
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيهُمْ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ ایک جماعت اس دین پر حق کے ساتھ قائم رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والا ان کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ اسی حق پر برقرار ہوں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن حبان: 6835، والبزار: 3320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8465»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ لوگ قرآن مجید کی پیروی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے حقوق ادا کریں اور ان کے صالح طرزِ حیات اور ان کے اہل علم کی مسنون سیرت کی پیروی کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابن حبان: 6835
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابٌ فِي الْإِعْتِصَامِ بِسُنَّتِهِ ﷺ وَالْاهْتِدَاءِ بِهَدْيِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو تھامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 328
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ الْكَلَاعِيُّ قَالَا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ: {وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ} فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ عِرْبَاضٌ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ: ( (أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ) )
عبدالرحمن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کلاعی رحمہما اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہ ان لوگوں میں سے تھے، جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: «وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ» (ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لیے کچھ بھی نہیں پاتا۔) (سورہ توبہ: 92) ہم نے ان کو سلام کیا اور کہا: ”ہم آپ کی زیارت اور تیمارداری کرنے کے لیے اور آپ سے علمی استفادہ کرنے کے لیے آئے ہیں،“ سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور ہمیں اتنا موثر و بلیغ وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے، ایک کہنے والے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت لگتی ہے، پس آپ ہمیں کون سی نصیحت کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم کو اللہ کے ڈر اور (امراء کی باتیں) سننے اور ان کی اطاعت کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ وہ حبشی ہو، پس بیشک تم میں سے جو آدمی میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اس پر کابند رہو اور سختی کے ساتھ اس پر قائم رہو اور نئے نئے امور سے بچو، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4607، وابن ماجه: 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17275»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 4607
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 329
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا، قَالَ: ( (قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ وَمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، (وَفِيهِ أَيْضًا) عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا انْقَادَ انْقَادَ) )
(دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ و نصیحت ہے، پس آپ ہمیں کیا نصیحت کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق میں تم کو ایسی روشن شریعت پر چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کی رات بھی دن کی طرح ہے، اب اس سے وہی گمراہ ہو گا، جو ہلاک ہونے والا ہو گا،“ اور جو تم میں سے زندہ رہے گا، (سابقہ حدیث کی طرح روایت کو بیان کیا)، پس تم میری جس سنت کو پہچانتے ہو گے، اس کو لازم پکڑنا، (اور اس میں یہ بھی ہے:) پس تم اس پر سختی سے قائم رہنا، پس مومن تو اس نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ جس کو جدھر کھینچا جاتا ہے، وہ ادھر ہی پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابن ماجه: 43، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17272»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے کا معاملہ تو واضح ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی معیارِ حق اور نمونۂ اتباع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات بنفس نفیس حجت ہیں، لیکن بعض لوگوں نے ان احادیث کی روشنی میں خلفائے راشدین کی سنت کو مستقل طور پر حجت ِ شرعی قرار دیا ہے، ان لوگوں کی یہ رائے درست نہیں ہے، وجوہات درج ذیل ہیں: (۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت ایک ہی چیز کا نام ہے، اس سے مراد سنت ِ نبوی ہی ہے، چونکہ خلفائے راشدین کی خلافت کا مقصد ہی کتاب و سنت کا نفاذ ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ ان کا ذکر بھی کیا ہے، کیا آپ لوگ غور نہیں کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کا ذکر کرنے کے بعد ان کی طرف واحد کی ضمیر لوٹائی اور فرمایا کہ فَتَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دفعہ واحد مؤنث کی ضمیر ھَا استعمال کی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس سے پیچھے ایک چیز کا ذکر ہوا ہے، نہ کہ دو کا، اگر خلفائے راشدین کی سنت الگ سے مراد لی جاتی تو بَعْدَھُمَا کہا جاتا۔(۲) عملی طور پر کوئی فرقہ یا شخص خلفائے راشدین کے تمام فیصلوں کو حجت نہیں مانتا، خود مقلدین کے ہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انھوں نے اپنے اماموں کی آراء اور فتاوی کو خلفائے راشدین کی آراء پر ترجیح دی۔ (۳)نہ صرف مذکورہ بالا احادیث میں، بلکہ قرآن وحدیث کی کئی نصوص میں امراء و خلفاء کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل قوانین بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی متعارف کروائے ہیں:
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((عَلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِیْمَا اَحَبَّ اَوْ کَرِہَ اِلَّا اَنْ یُّؤْمَرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِنْ اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ۔)) … مسلمان آدمی پر (خلیفہ کا حکم) سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے، خواہ وہ اسے پسند کرتا ہو یا ناپسند کرتا ہو، الا کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم دیا جائے، پس اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو کوئی سننا اور ااطاعت کرنا نہیں۔
(صحیح بخاری: ۷۱۴۲)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاطَاعَۃَ فِیْ الْمَعْصِیَۃِ اِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِیْ الْمَعْرُوْفِ۔)) … نافرمانی میں (امیر کی) اطاعت نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف نیکی کے کاموں میں ہی اطاعت کی جائے گی۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵۷، صحیح مسلم: ۱۸۴۰)لہٰذا خلفائے راشدین اور امراء کی وہ ہدایات واجب الاتباع ہوں گی، جو قرآن و حدیث کے مخالف نہیں ہوں گی۔ (۴)سب خلفائے راشدین نے قرآن و سنت کا پابند رہنے کا اقرار کیا اور زیادہ تر یہ اعلان بھی کرتے تھے کہ فلاں فلاں مسئلے پر اگر کسی کے پاس کوئی حدیث ہے تو وہ پیش کرے۔ (۵)خلفائے راشدین کی چند ایک مثالیں، جن سے مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا ابو بکر ؓنے جب منکرینِ زکوۃ سے قتال کرنا چاہا تو سیدنا عمر ؓنے اُن سے خوب مناقشہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں سے قتال کرنا درست نہیں، بالآخر خلیفۂ اول کے دلائل غالب آ گئے اور سیدنا عمر ؓنے ان کی رائے کے برحق ہونے کو تسلیم کر لیا۔ سیدنا ابو بکر ؓنے دو دفعہ چوری کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ کیا کہ اس کا ایک ہاتھ کاٹا جائے اور ایک ٹانگ، تاکہ ایک ہاتھ سالم رہ سکے، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ اس موقع پر اس کے دونوں ہاتھ کاٹنا سنت ہیں، تو خلیفۂ اول نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا اور سنت کو ترجیح دی۔سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ؓحج تمتع سے منع کرتے تھے، لیکن اس معاملے میں سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور دیگر صحابہ نے ان دونوں خلفاء کی پیروی نہیں کی، اور عصر حاضر میں تقریباً تمام غیر ملکی حج تمتع ہی کرتے ہیں۔ سیدنا عمر ؓنے ایک دفعہ یہ فیصلہ کر دیا کہ مقتول کی دیت سے بیوی کو میراث نہیں ملے گی، لیکن جب ایک صحابی نے ایک حدیث کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ اس موقع پر بیوی کو میراث ملے گی، تو خلیفۂ ثانی نے اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔ جب سیدنا عمر ؓنے عورتوں کے حق مہر کی ایک مقدار مقرر کرنا چاہی، تو ایک بڑھیا نے ایک آیت پڑھ کر ان سے مناقشہ کیا، سیدنا عمر ؓنے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ جب سیدنا علی ؓنے مرتدین کو قتل کرنے کی بجائے جلایا، تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓنے سنت کی روشنی میں یہ وضاحت کی کہ ان کو قتل کرنا چاہیے تھا، سیدنا علی ؓنے اعتراف کیا اور کہا کہ ابن عباس سچ کہہ رہے ہیں۔ خلفائے راشدین کی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں کہ باقاعدہ ان سے مناقشہ کیا گیا اور کسی موقع پر کسی خلیفہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ وہ حاکمِ وقت ہے، لہٰذا اس کے حکم کی تعمیل کی جائے۔ خلفائے راشدین کی شان وعظمت اپنی جگہ پر مسلم ہے، ان کی اس شان کا اعتراف ایمان کی علامت ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم سب سے بلند ہے اور اس کو تسلیم کرنا ہی خلفائے راشدین کی رفعت کا راز ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده ۔ أخرجه ابن ماجه: 43
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: ( (مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ، ثُمَّ إِنَّهَا تَخَلَّفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی کسی امت میں مبعوث فرمایا، اس کی امت میں سے اس کے حواری ہوتے تھے، جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم کی پیروی کرتے تھے، پھر ان کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جو کہتے وہ تھے جو کرتے نہیں تھے اور کرتے وہ تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4379»
وضاحت: فوائد: … حواری سے مراد انبیاء کے مخلص اور منتخب پیروکار ہیں، جنہوں نے اطاعت و فرمابرداری، تائید و نصرت، جہاد، امراء و خلفاء کی اطاعت، غرضیکہ انھوں نے اپنے اپنے نبیوں کی فرمابرداری کا ہر تقاضا پورا کیا۔اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخلص فرمانبرداروں کے بعد اس امت میں بھی ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے، لہٰذا ہمیں اس سلسلے میں متنبہ رہنا چاہیے کہ کیا ہم وہ لوگ تو نہیں ہیں کہ جن کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 50
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِمَكَانٍ فَحَادَ عَنْهُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا فَفَعَلْتُ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پس جب وہ ایک جگہ سے گزرے تو اس سے ایک طرف ہو گئے، پس ان سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا، سو میں نے بھی کیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البزار: 128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4870»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه البزار: 128
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں