الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي الْإِعْتِصَامِ بِسُنَّتِهِ ﷺ وَالْاهْتِدَاءِ بِهَدْيِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو تھامنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 332
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: ( (يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُكَذِّبَنِي وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا! وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ) )
حسن بن جابر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا اور پھر فرمایا: ”قریب ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مجھے جھٹلا دے، جبکہ اس نے اپنے تخت پر ٹیک لگائی ہوئی ہو اور میری حدیث بیان کرنے کے بعد کہے: ہمارے اور تمہارے مابین اللہ کی کتاب کافی ہے، پس جس چیز کو ہم اس میں حلال پائیں، اس کو حلال سمجھیں گے اور جس چیز کو اس میں حرام پائیں، اس کو حرام سمجھیں گے، خبردار! اور بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی طرح ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 12، والترمذي: 2664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17326»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بنفس نفیس حجت ہے، اس کو قرآن مجید کے مفہوم پر پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس باب کے آخر میں جس بحث کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابن ماجه: 12
حدیث نمبر: 333
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا! إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا! يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانَ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا! لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِي وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا! وَلَا لُقْطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ) )
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! مجھے قرآن بھی دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز بھی دی گئی ہے، خبردار! قریب ہے کہ ایک آدمی سیر و سیراب ہو کر اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے: تم صرف قرآن کو لازم پکڑو، پس جس چیز کو اس میں حلال پاؤ، اس کو حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ، اس کو حرام سمجھو، خبردار! تمہارے لیے گھریلو گدھا اور کچلی والے درندے حلال نہیں ہیں اور نہ ذمی کے مال میں سے گری پڑی چیز حلال ہے، الا یہ کہ اس کا مالک اس سے مستغنی ہو جائے اور جو لوگ کسی قوم کے پاس اتریں تو اس قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ضیافت کرے، اگر وہ ان کی ضیافت نہیں کرتی تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کے مالوں میں سے اپنی میزبانی کے بقدر لے لیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4604، وابن ماجه: 12، 3193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17306»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی کی دو اقسام عطا کی گئیں، ایک قرآن مجید، جس کو وحی متلو کہتے ہیں اور دوسری حدیث، جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ} … اور وہ (نبی) ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد سنت ِ نبوی ہے اور یہی سنت ہے، جس کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلام مقدس کی وضاحت کرنی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ} … اور ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے لیے اس چیز کی وضاحت کریں، جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔ ضیافت ہر مہمان کا حق ہے، ہماری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو، آج کل لوگ یہ حق ادا کرنے سے غافل ہیں، جبکہ مہمان کی ضیافت کرنا ایمان و ایقان کا تقاضا ہے، یہ تفصیل کا مقام نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 4604
حدیث نمبر: 334
عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَأَعْرِفَنَّ مَا يَبْلُغُ أَحَدَكُمْ مِنْ حَدِيثِي شَيْءٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: مَا أَجِدُ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ) )
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ضرور ضرور جانتا ہوں کہ تم میں سے کسی ایک کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: یہ حکم تو مجھے اللہ کی کتاب میں نہیں ملا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4605، والترمذي: 2663، وابن ماجه: 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24362»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 4605
حدیث نمبر: 335
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ: اتْلُوا عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا، مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ فَأَنَا أَقُولُهُ وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ فَأَنَا لَا أَقُولُ الشَّرَّ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے اس شخص کو جانتا ہوں کہ اس کے پاس میری حدیث پہنچے گی، جبکہ وہ اپنے تخت پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو گا اور کہے گا: مجھ پر اس کے ساتھ قرآن پڑھو۔ میری حوالے سے تمہیں خیر والی جو بات پہنچے، میں نے وہ کہی ہو یا نہ کہی ہو، پس میں اس کو کہوں گا اور اگر کوئی شر والی بات پہنچے تو میں شر کہنے والا نہیں ہوں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10274»
وضاحت: فوائد: … آخری احادیث میں منکرین حدیث پر ردّ ہے، ہم نے اس کتاب کے شروع میں مقدمہ کے بعد حجیت ِ حدیث کے عنوان پر ایک سیر حاصل مضمون قلم بند کیا ہے، جس میں تکنیکی انداز میں اِن منکرین کا ردّ کیا گیا ہے، اس مضمون کا تعلق اس باب سے ہے، قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس عنوان کا بغور مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي معشر نجيح بن عبد الرحمن السندي
3. بَابٌ فِي التَّحْذِيرِ مِنَ الِابْتِدَاعِ فِي الدِّينِ وَإِثْمِ مَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 336
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» پس بیشک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے نئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14386»
وضاحت: فوائد: … ہم جس دین کے پیروکار ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کی تکمیل ہو گئی تھی، لہٰذا شریعت میں ہر موقع سے متعلق جس جس چیز کا تعین ہو چکا ہے، اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ انہی امور کے پابند رہیں، مثال کے طور پر ایک آدمی فوت ہو جاتا ہے، تو اس کی حالتِ نزع سے لے کر اس کو دفنانے تک تمام احکام کا تعین کر دیا گیا ہے اور کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی ہے، اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ انہی امور کے پابند رہیں، میت کے پاس بیٹھ کر اس کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، نہ مخصوص انداز میں تلاوت کرنے کا، جب میت کو قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہو تو کلمۂ شہادت کا نعرہ لگانا اور جواباً اَشْھَدُ … کہنا ثابت نہیں ہے، جب میت کو دفن کر دیا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا حکم تو موجود ہے، لیکن قبر کے پاس اذان یا تلاوت جیسے امور ثابت نہیں ہیں۔
بدعت: وہ نئی بات جو دین میں اجر و ثواب کی غرض سے نکالی جائے اور جس کی دلیل کتاب وسنت سے نہ ہو۔ مثلا نماز عید سے پہلے خطبہ دینا، نماز کے بعد مصافحہ یا معانقہ کا اہتمام کرنا، مجلس میلاد، عرس، گیارہویں، چہلم، مجلس مرثیہ خوانی، رسم قل، رسم ختم وغیرہ وغیرہ۔
بدعت: وہ نئی بات جو دین میں اجر و ثواب کی غرض سے نکالی جائے اور جس کی دلیل کتاب وسنت سے نہ ہو۔ مثلا نماز عید سے پہلے خطبہ دینا، نماز کے بعد مصافحہ یا معانقہ کا اہتمام کرنا، مجلس میلاد، عرس، گیارہویں، چہلم، مجلس مرثیہ خوانی، رسم قل، رسم ختم وغیرہ وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 867
حدیث نمبر: 337
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَنَّ سُنَّةَ ضَلَالٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ هُدًى فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے گمراہی والا کوئی راستہ وضع کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے گناہ کے برابر گناہ ہو گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی، اسی طرح جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہو گا، جبکہ ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 337]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10563»
وضاحت: فوائد: … جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا طریقہ جاری کیا جائے، جو اس عمومی حکم میں شامل ہو، جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے رغبت دلائی ہو، جیسے سیدنا عمر ؓنے قیام رمضان کا اہتمام کروایا تھا اور اس سے وہ سنت اور شرعی طریقہ بھی مراد ہو سکتا ہے، جو مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے اپنا وجود کھو چکا ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2674
حدیث نمبر: 338
عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الشُّمَالِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ: يَا أَبَا أَسْمَاءَ! إِنَّا قَدْ أَجْمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ، قَالَ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُمَا أَمْثَلُ بِدْعَتَيْكُمْ عِنْدِي وَلَسْتُ مُجِيبَكَ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنَ السُّنَّةِ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ) )
غضیف بن حارث شمالی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالملک بن مروان نے مجھے بلا بھیجا، جب میں گیا تو اس نے کہا: ”اے ابو اسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر لیا ہے۔“ میں نے کہا: ”وہ کون سی؟“ اس نے کہا: ”جمعہ کے روز منبروں پر ہاتھ اٹھانا اور نماز فجر اور نماز عصر کے بعد قصہ گوئی کرنا۔“ میں نے کہا: ”میرے نزدیک یہ تمہاری بدعتوں کی دو بہترین مثالیں ہیں اور میں ان میں سے کوئی بھی نہیں کروں گا۔“ اس نے کہا: ”کیوں؟“ میں نے کہا: ”کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قوم بدعت کو ایجاد کرے گی، اس سے اس بدعت کے بقدر سنت اٹھا لی جائے گی، پس سنت کو تھام لینا بدعت کو ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 338]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم الغساني۔ أخرجه البزار: 131، والطبراني في الكبير: 18/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17095»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم الغساني ۔ أخرجه البزار: 131
حدیث نمبر: 339
عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى فِي مَسَاكِنَ لَهُ بِثُلُثِ كُلِّ مَسْكَنٍ لِإِنْسَانٍ، فَسَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ: اجْمَعْ ثَلَاثَةً فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَأَمْرُهُ رَدٌّ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَهُوَ رَدٌّ) ) )
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے تین گھروں کے بارے میں وصیت کی کہ ہر گھر کا تیسرا حصہ ایک انسان کو ملے گا، میں نے اس کے بارے میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: ”ایک مکان تین افراد کے لیے (اور باقی دو گھر وارثوں کے لیے) کر دو،“ پس بیشک میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو اس کا وہ عمل مردود ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2697، ومسلم: 1718، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26721»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین سے متعلقہ ہر قول و فعل کے لیے شرعی دلیل کا ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ مردود ٹھہرے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2697
4. فَضْلٌ مِنْهُ فِي وَعِيدِ مَنْ بَدَّلَ أَوْ أَحْدَثَ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد¤کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 340
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَرَآنِي حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتُلِجُوا دُونِي فَلَأَقُولَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِي! فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ) )
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری صحبت اختیار کرنے والوں اور مجھے دیکھنے والوں میں سے بعض لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے، لیکن جب ان کو میری طرف لایا جائے گا تو ان کو مجھ سے پرے ہی کھینچ لیا جائے گا، پس میں کہوں گا: اے میرے رب! میرے ساتھی، پس مجھ سے کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کون کون سی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20768»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 443
حدیث نمبر: 341
عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلًا (يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونَنِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ: ( (إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي) ) )
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا، جو وہاں آئے گا، وہ پی لے گا اور جو وہاں سے پی لے گا، وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہو گا، اور حوض پر میرے پاس ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے، لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔“ ابو حازم رحمہ اللہ نے کہا: پس نعمان بن ابو عیاش رحمہ اللہ نے سنا، جبکہ میں ان کو یہ حدیث بیان کر رہا تھا، پس اس نے کہا: ”کیا تم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں“ اس نے کہا: ”اور میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللLewisن نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہوں گا: یہ لوگ تو مجھ سے ہیں،“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا: ”آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا عمل کیے تھے،“ پس میں کہوں گا: ”بربادی ہو، بربادی ہو، اس شخص کے لیے جس نے میرے بعد (دین کو) تبدیل کر دیا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7050، 7051، ومسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23210»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7050