🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. فَضْلٌ مِنْهُ فِي وَعِيدِ مَنْ بَدَّلَ أَوْ أَحْدَثَ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد¤کرنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23679»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2297
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 343]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 344
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ!) ) فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: لُفِّي رَأْسِي، قَالَتْ: فَقَالَتْ: فَدَيْتُكِ، إِنَّمَا يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! قُلْتُ: وَيْحَكِ، أَوَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ؟ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقَ، فَنَادَيْتُكُمْ، أَلَا! هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ، فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَقُلْتُ: أَلَا! سُحْقًا، أَلَا! سُحْقًا) )
عبداللہ بن رافع مخزومی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر فرمایا: ”اے لوگو!“ جب کہ میں کنگھی کر رہی تھی، میں نے کنگھی کرنے والی خاتون سے کہا: ”میرا سر ڈھانپ دے،“ اس نے کہا: ”میں تجھ پر قربان جاؤں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرما رہے ہیں: ”اے لوگو!“ میں نے کہا: ”تیرا ناس ہو، کیا ہم لوگ نہیں ہیں،“ پس اس نے اس کا سر ڈھانپ دیا اور وہ اپنے حجرے میں کھڑی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! میں حوض پر ہوں گا، تم لوگوں کو گروہوں کی شکل میں لایا جائے گا، پس تمہارے راستے جدا جدا ہو جائیں، (کوئی حوض کے راستے پر چل پڑے گا اور کوئی کسی اور راستے پر) اس لیے میں آواز دوں گا: خبردار! اس راستے کی طرف آؤ، لیکن میرے پیچھے سے ایک آواز دینے والا مجھے آواز دے گا: ”بیشک ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تھا،“ پس میں کہوں گا: ”خبردار! بربادی ہو، خبردار! بربادی ہو۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27081»
وضاحت: فوائد: … پچھلے باب میں بدعت کی حقیقت کو واضح کیا جا چکا ہے، اس باب میں بدعتی لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی فکر، قول اور فعل کا قرآن و حدیث کے احکام کے ساتھ موازنہ کریں، اگرچہ فرقہ پرستی اور تعصب کے دور میں یہ موازنہ مشکل ہو گیا ہے، بہرحال فکرمند لوگوں کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2295
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابٌ فِي قَوْلِهِ ﷺ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ) ) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! آلْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: ( (فَمَنْ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ضرور ضرور اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کی اس طرح پیروی کرو گے، جیسے بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں گھسے تو تم بھی اس میں ان کے پیچھے چلو گے۔“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہودی اور عیسائی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور کون۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3456، 7320، ومسلم: 2669، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11822»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3456
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ: وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ قَالَ: ( (وَبَاعًا فَبَاعًا حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ) ) قَالُوا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَهْلُ الْكِتَابِ؟ قَالَ: ( (فَمَنْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں «وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ» کے بعد یہ الفاظ ہیں: ”اور باع کے برابر باع ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے بل میں گھسے تو تم بھی ضرور اس میں گھسو گے۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں، کیا اہل کتاب ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور کون ہیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10649»
وضاحت: فوائد: … دو بازوؤں کے پھیلاؤ کو بَاع کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِثْلًا بِمِثْلٍ) )
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو ہو بہو اپناؤ گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 6017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23266»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 6017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 348
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيَحْمِلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى سُنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ) )
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کے برے لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کے مطابق ایسے ہی چلیں گے، جیسے تیار کیا ہوا تیر دوسرے تیر کے مطابق ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 7140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17265»
وضاحت: فوائد: … حَذْوَ الْقُذَّۃِ بِالْقُذَّۃِ یہ دو چیزوں میں مکمل یکسانیت کے لیے ضرب المثل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 7140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 349
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكِفُونَ عِنْدَهَا وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ قَالَ: فَقُلْنَا: (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقُلْتُ) يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّهَا لَسُنَنٌ، لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً) )
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات انواط ہے،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی،“ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اِجْعَلْ لَنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ» (اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔) آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: 138) یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 349]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 2180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21897 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22242»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 2180
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 350
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلُ لِمُوسَى: {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ) )
(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: «اللّٰہُ أَکْبَرُ» یہ تو وہی بات ہے جو بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِجْعَلْ لَنَآ اِلٰہًا کَمَا لَہُمْ اٰلِہَۃٌ» (اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔) آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: 138) بیشک تم لوگ اپنے سے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22245»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے یہودو نصاری نافرمانیوں، بغاوتوں اور اپنے انبیاء ورسل کی مخالفت پر تُل گئے، ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے افراد بھی قرآن و حدیث کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرلیں گے، آخری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک مثال کی وضاحت کر دی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی اور اہل کتاب کی طرح امت ِ اسلامیہ کے افراد نے ہر قسم کی معصیت کا ارتکاب کر دیا، مثلا: شرک و بدعت کی کئی صورتیں، اماموں کی تقلید نا سدید، رشوت، خیانت، حدودِ الٰہی کے نفاذ میں معاشرے کے اعلی اور ادنی افراد میں فرق، ذاتی مقصد کی خاطر آیات و احادیث کو چھپانا اور ان میں اضافہ کرنا اور ان میں باطل تاویل کرنا، حرام و حلال کے خود ساختہ معیار بنانا، غیر اللہ کے نام پر نذر و نیاز، ترکِ نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا، وغیرہ وغیرہ۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22245
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. خَاتِمَةٌ فِيمَا وَرَدَ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ فِي تَغَيُّرِ الْحَالِ فِي عَصْرِ التَّابِعِينَ
خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 351
عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: ( (مَا أَعْرِفُ شَيْئًا الْيَوْمَ مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: فَأَيْنَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي الصَّلَاةِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ) )
ابو عمران جونی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم عہد نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔“ ہم نے کہا: ”پس نماز کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟“ [الفتح الربانی/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 351]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12000»

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 529
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں