الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے¤سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 902
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ: ( (نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) ) قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ مَا خَلَا رِجْلَيْهِ
نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: کیا کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، البتہ نماز والا وضو کر لے۔ سیدنا ابن عمرؓجب اس طرح کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے، البتہ پاؤں نہیں دھوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 902]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث تقدم مرفوعه برقم (900)۔ ولفظ القسم المرفوع منه عند عبد بن حميد: ((نعم ويتوضأ وضوء ه للصلاة ما عدا قدميه۔)) فجعل قوله ما عدا قدميه مرفوعا مع انه عند غيره موقوف علي ابن عمر۔ وأخرج فعل ابن عمر ھذا مالك في المؤطا: 1/ 48، وابن ابي شيبة: 1/ 60، والبيھقي: 1/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4929»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکے عمل کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱)کسی عذر کی بنا پر پاؤں نہ دھوئے
(۲)یہ ثابت کرنے کے لیے پاؤں نہ دھوئے کہ یہ وضو فرض نہیں ہے۔
(۳)عام روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کے دوران آخر میں پاؤں دھوتے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓنے اس فعل سے استدلال کرتے ہوئے پاؤں نہ دھوئے ہوں۔
(۱)کسی عذر کی بنا پر پاؤں نہ دھوئے
(۲)یہ ثابت کرنے کے لیے پاؤں نہ دھوئے کہ یہ وضو فرض نہیں ہے۔
(۳)عام روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کے دوران آخر میں پاؤں دھوتے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓنے اس فعل سے استدلال کرتے ہوئے پاؤں نہ دھوئے ہوں۔
الحكم على الحديث:
ھذا حديث تقدم مرفوعه برقم (900)۔ ولفظ القسم المرفوع منه عند عبد بن حميد: ((نعم ويتوضأ وضوء ه للصلاة ما عدا قدميه۔)) فجعل قوله ما عدا قدميه مرفوعا مع انه عند غيره موقوف علي ابن عمر۔ وأخرج فعل ابن عمر ھذا مالك في المؤطا : 1/ 48
حدیث نمبر: 903
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَرْقُدَنَّ جُنُبًا حَتَّى تَتَوَضَّأَ) )
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جنابت کی حالت میں وضو کیے بغیر ہر گز نہ سو۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 903]
تخریج الحدیث: «قال الھيثمي: فيه رجل لم يسمّ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9082»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوہریرہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا کَانَ جُنُبًا وَاَرَادَ اَنْ یَّاْکُلَ اَوْ یَنَامَ تَوَضَّأَ۔ … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنبی ہوتے اور کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے تھے۔ (معجم اوسط طبرانی)
الحكم على الحديث:
قال الھيثمي: فيه رجل لم يسمّ
حدیث نمبر: 904
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ
عبد اللہ بن خباب کہتے ہیں کہ سیدناابو سعید خدریؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ اس کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے، جب کہ وہ سونے کا ارادہ بھی رکھتا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ان کو حکم دیا کہ وہ وضو کر کے سو جایا کریں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 904]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11543»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 586
حدیث نمبر: 905
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَقُولُ: ( (مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سونے کا ارادہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے نماز والا وضو کرتے اور فرماتے: جو جنابت کی حالت میں سونے کاارادہ رکھتا ہو تو نماز والا وضو کر لیاکرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 905]
تخریج الحدیث: «الحديث من فعله صلي الله عليه وآله وسلم صحيح، ومن قوله صلي الله عليه وآله وسلم صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 288، ومسلم: 305 من فعله صلي الله عليه وآله وسلم،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25115»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ جنبی آدمی کا صبح تک غسل لیٹ کرنا جائز ہے، لیکن ایسی صورت میں اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر کے سوئے۔
الحكم على الحديث:
الحديث من فعله صلي الله عليه وآله وسلم صحيح
15. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ الْأَكْلَ وَالْعَوْدَ
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو¤کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 906
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَشْرَبَ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ إِنْ شَاءَ
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کر لیتے تھے، اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی حالت میں کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو دھو لیتے، پھر اگر چاہتے تو کھا پی لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 906]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 223، والنسائي: 1/ 139، وابن ماجه: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25221»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 223
حدیث نمبر: 907
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَأْكُلَ تَوَضَّأَ
۔ (دوسری سند): سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنبی ہوتے اور سونے کا یا کھانے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 305، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25462»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 305
حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ) ) قَالَ سُفْيَانُ: أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے دور کو پایا ہے یعنی اس وقت وہ زندہ تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 908]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11050»
وضاحت: فوائد: … ۶۳ ھ میں یزید بن معاویہ اور اہل مدینہ کے ما بین حرہ کی لڑائی واقع ہوئی تھی۔ اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 308
16. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَأْخِيرِ الْغُسْلِ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
حدیث نمبر: 909
عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ يُخَافِتُ بِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَافَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً
غُضیف بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں غسل کرتے تھے یا آخر میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں غسل کر لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے،میں نے پھر کہا: اس بارے میں آپ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی تلاوت بآواز بلند کرتے تھے یا بآواز پست؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات جہری طور پر تلاوت کرتے تھے اور بسا اوقات سری طور پر، میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 909]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 226، وابن ماجه: 1354، والنسائي: 1/ 125، والترمذي: 449، وأخرجه مسلم: 307 بقصة الغسل من الجنابة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24706»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 226
حدیث نمبر: 910
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَغْتَسِلُ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو جاتے تھے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے، پھر جب بیدار ہوتے تو غسل کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 910]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 739 دون قوله: ولا يمس ماء، واھل الحديث علي ان ھذه اللفظة خطأ من ابي اسحق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24662»
وضاحت: فوائد: … اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ ان الفاظ کے دو معانی مراد لیے جا سکتے ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کے لیے پانی کو نہیں چھوتے تھے، اس معنی سے وضو کی نفی نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے نہ غسل، اس معنی سے معلوم ہو گا کہ وضو کو ترک کرنا بھی جائز ہے، اور حدیث نمبر (۹۰۰)کے فوائد میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ سونے سے پہلے جنابت والے آدمی کے لیے وضو کرنا مستحب ہے، ضروری نہیں ہے۔ بہرحال محدثین کا یہ خیال بھی ہے کہ وَلَا یَمَسُّ مَائً کے الفاظ ابو اسحق کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل روایت ان الفاظ کے بغیر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 739 دون قوله: ولا يمس ماء
حدیث نمبر: 911
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنْ أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَادَ إِلَى أَهْلِهِ وَاغْتَسَلَ
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں اپنی بیوی سے مجامعت کرتے تھے، پھر پانی کو چھوئے بغیر سو جاتے تھے، جب رات کے آخری حصے میں بیدار ہوتے تو پھر حق زوجیت ادا کرتے اور پھر غسل کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين وانظر الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه ابوداود: 228، والترمذي: 119، وابن ماجه: 583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25262»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين وانظر الحديث بالطريق الاول۔ أخرجه ابوداود: 228