الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابٌ فِي غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ خَارِجَ الْمُغْتَسَلِ، وَحُكْمِ التَّنْشِيفِ بِالْمِنْدِيلِ
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 893
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَٰكَذَا تَعْنِي رَدَّهُ
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کرلیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑا لے کر آئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو ردّ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 266، ومسلم: 317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27379»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 266
حدیث نمبر: 894
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ: فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً فَقَالَ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ لَا أُرِيدُهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ (الْأَعْمَشُ أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: هُوَ كَذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَا بَأْسَ بِالْمِنْدِيلِ، إِنَّمَا هِيَ عَادَةٌ
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک چیتھڑا پکڑایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نہیں چاہیے، سلیمان اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کے لیے ذکر کی، انھوں نے کہا: بات اسی طرح ہی ہے، اور انھوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور مزید کہا: کپڑا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27393»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِتولیہ کپڑا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27393
حدیث نمبر: 895
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواهده۔ أخرجه ابوداود: 250، والترمذي: 107، والنسائي: 1/ 137، وابن ماجه: 579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26743»
وضاحت: فوائد: … کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل شروع کرتے وقت وضو کر لیتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه وشواهده۔ أخرجه ابوداود: 250
حدیث نمبر: 896
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، لَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وَضُوءً بَعْدَ الْغُسْلِ
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کرتے، پھر دو سنتیں اور نمازِ فجر ادا کرتے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کے بعد نیا وضو کیا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25720»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25720
11. بَابٌ فِيمَنْ وَجَدَ لُمْعَةً بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 897
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَخَذَ مِنْ شَعْرِهِ فَبَلَّهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ بائیں کندھے پر کچھ جگہ خشک رہ گئی ہے، اس تک پانی نہیں پہنچا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور اس جگہ کو تر کر دیا، پھر نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، علي بن عاصم ضعيف، وابوعلي الرحبي الواسطي متروك۔ أخرجه ابن ماجه: 663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2180»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۶۹۵)کی شرح میں وضو میں موالاۃ کے حکم پر بحث کی گئی ہے، وہی حکم غسل جنابت کا ہے، جب تک جسم گیلا ہو تو صرف خشک رہ جانے والی جگہ کو دھویا جا سکتا ہے، اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے اور سارا جسم بھی خشک ہو جائے تو دوبارہ غسل کرنا پڑے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
12. بَابٌ مَنْ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ أَوْ بِأَغْسَالٍ مُتَعَدِّدَةٍ
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
حدیث نمبر: 898
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي يَوْمٍ) فَاغْتَسَلَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُسْلًا، فَقُلْتُ: (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقِيلَ) يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوِ اغْتَسَلْتَ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: ( (هَٰذَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ) ) )
مولائے رسول سیدنا ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور ہر ایک کے پاس غسلِ جنابت کیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ آخر میں ایک ہی غسل کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زیادہ پاکیزہ، طاہر، ہے۔ ایک روایت میں ہے اَزْکٰی وَاَطْیَبُ وَاَطْہَرُ یہ قریب قریب مفہوم والے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن۔ أخرجه ابوداود: 219، وابن ماجه: 590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24363»
الحكم على الحديث:
قال الالباني: حسن۔ أخرجه ابوداود: 219
حدیث نمبر: 899
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ) بِغُسْلٍ وَاحِدٍ
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (ہم بستری کرتے تھے اور آخر میں) ایک غسل کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13388»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے: قتادہ نے سیدنا انس ؓسے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی طاقت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس افراد کی قوت دی گئی ہے۔ فوائد: … پہلی حدیث استحباب اور افضلیت پر اور دوسری جواز پر دلالت کرتی ہے، اور اس امر سے متعلقہ تیسرا عمل درج ذیل ہے: سیدنا ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو درمیان میں وضو کر لے۔ (صحیح مسلم) اور ابن حبان اور حاکم کی روایت میں ہیں: کیونکہ اس وضو سے دوبارہ آنے کے لیے زیادہ نشاط اور مستعدی پیدا ہو گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 309
13. (13) باب ما يفعله الجنب اذا أراد النوم أو الأكل أو اعادة الجماع وفيه فصول
…
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: Q900]
14. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِلْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے¤سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 900
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَصْنَعُ أَحَدُنَا إِذَا هُوَ أَجْنَبُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ لِيَنَمْ) )
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے یہ سوال کیا کہ جب ہم میں سے کسی آدمی کو جنابت لاحق ہو جائے اور پھر وہ سونا بھی چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز والا وضو کر لے، پھر سوجائے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 287، 289، ومسلم: 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 94 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 94»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد (۱۶۵) میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں: سیدنا عمر ؓنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی آدمی جنبی ہو تو کیا وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَتَوَضَّأُ وَیَنَامُ اِنْ شَائَ۔)) … اگر وہ چاہتا ہے تو وضو کر کے سو جائے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جنابت والے آدمی کے لیے سونے سے پہلے وضو کر لینا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 287
حدیث نمبر: 901
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِهِ (وَفِيهِ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور نماز والا وضو کر لیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 901]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 263»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 263