الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ اشْتِرَاطِ دُخُولِ الْوَقْتِ لِلتَّيَمُّمِ وَمَا يَتَيَمَّمُ بِهِ
تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور¤ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
حدیث نمبر: 991
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ) ) فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هُوَ؟ قَالَ: ( (نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ) )
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاں عطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 991]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 763»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 992
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِيَ الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ وَكَانَ مِنْ قَبْلِي يُعَظَّمُونَ ذَلِكَ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے، نماز جہاں بھی مجھے پا لے، میں تیمم کر کے نماز پڑھ لوں گا، جبکہ مجھ سے پہلے والے لوگوں پر یہ عمل دشوار گزرتا تھا، وہ صرف اپنے گرجا گھروں اور کلیساؤں میں نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 992]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7068»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 993
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهْرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ فَأَقُولُ: إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَيَقُولُ: ( (وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکلتے تھے اور پیشاب کر کے تیمم کر لیتے تھے، جب میں کہتا کہ پانی آپ کے قریب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: میں نہیں جانتا، شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 993]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الطبراني: 12987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2764»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابٌ فِي وُجُوبِ التَّيَمُّمِ عَلَى النُّفَسَاءِ وَالْحَائِضِ وَالْجُنُبِ إِذَا فُقِدَ الْمَاءُ وَإِنْ مَكَثُوا أَشْهُرًا
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
حدیث نمبر: 994
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَكُونُ فِي الرَّمْلِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ فَيَكُونُ فِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ فَمَا تَرَى؟ قَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالْتُّرَابِ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بدّو، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں چار پانچ پانچ مہینوں تک صحراء میں ہوتا ہوں اور ہم میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگ بھی ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو مٹی کو لازم پکڑ۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 994]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابويعلي: 5870، والبيھقي: 1/ 217، وأخرج بنحوه الطبراني في الاوسط: 2032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7733»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 995
عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ قَالَ: تَدَارَى عَمَّارٌ (بْنُ يَاسِرٍ) وَعَبْدُ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي التَّيَمُّمِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ مَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ فِيهِ الْمَاءَ لَمْ أَصَلِّ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ: ( (إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ) )
ناجیہ عنزی کہتے ہیں: تیمم کے سلسلے میں سیدنا عمار بن یاسر ؓاور سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓکا ایک دوسرے سے اختلاف ہو گیا، سیدنا عبد اللہ نے کہا: اگر مجھے ایک ماہ تک ٹھہرنا پڑے اور پانی نہ ملے تومیں تو نماز نہیں پڑھوں گا۔ سیدنا عمارؓ نے ان سے کہا: کیا تم کو یاد ہے کہ جب میں اور تم اونٹوں میں تھے اور مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے میں چوپائے کی طرح مٹی میں لیٹا تھا، پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کیے کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف تجھے تیمم کافی تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 995]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ناجية العنزي لم يسمع من عمار۔ أخرجه النسائي: 1/166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18505»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 996
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَجْنَبَ رَجُلَانِ فَتَيَمَّمَ أَحَدُهُمَا فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ الْآخَرُ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ عَلَيْهِمَا
سیدنا طارق بن شہابؓ کہتے ہیں: دو آدمیوں کو جنابت لاحق ہو گئی، ان میں سے ایک نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور دوسرے نے نماز نہ پڑھی، پس جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی پر عیب نہیں لگایا۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 996]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19038»
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابٌ فِي تَيَمُّمِ الْجُنُبِ لِلْجُرْحِ أَوْ لِخَوْفِ الْبَرْدِ مَعَ وُجُودِ الْمَاءِ
پانی کی موجودگی میں زخم یا سردی کے ڈر کی وجہ سے تیمم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 997
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَ بِالْغَسْلِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 337، وابن ماجه: 572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3056»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 998
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ( (يَا عَمْرُو! صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ذات السلاسل والے سال بھیجا، ہوا یوں کہ مجھے شدید سردی والی رات کو احتلام ہو گیا، اب میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، سو میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو نماز ِ فجر پڑھائی، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! کیا تو نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے سخت سردی والی رات کو احتلام ہو گیا تھا اور میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آ گیا: اور اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہاے ساتھ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ پس میں نے تیمم کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور مزید کچھ نہ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 998]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17965»
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْجِمَاعِ وَالتَّيَمُّمِ لِعَادِمِ الْمَاءِ وَبُطْلَانِ التَّيَمُّمِ بِوُجُودِهِ
پانی کی عدم موجودگی میں جماع اور تیمم کی رخصت اور پانی کے موجود ہونے کی صورت میں تیمم کے باطل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 999
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ) قَالَ: كُنْتُ كَافِرًا فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ وَكُنْتُ أَعْزَبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَا أَجِدُ الْمَاءَ فَأَتَيَمَّمُ) فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي وَقَدْ نُعِتَ لِي أَبُو ذَرٍّ فَحَجَجْتُ فَدَخَلْتُ مَسْجِدَ مِنَى فَعَرَفْتُهُ بِالنَّعْتِ فَإِذَا شَيْخٌ مَعْرُوقٌ آدَمُ عَلَيْهِ حُلَّةٌ قِطْرِيَّةٌ فَذَهَبْتُ حَتَّى قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً أَتَمَّهَا وَأَحْسَنَهَا وَأَطْوَلَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَدَّ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ؟ قَالَ: إِنَّ أَهْلِي لَيَزْعُمُونَ ذَلِكَ، قَالَ: كُنْتُ كَافِرًا فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ وَأَهَمَّنِي دِينِي وَكُنْتُ أَعْزَبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَبِثْتُ أَيَّامًا أَتَيَمَّمُ) فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَشْكَلَ عَلَيَّ) قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ أَيُّوبُ: أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ مِنْ إِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَكُنْتُ أَكُونُ فِيهَا فَكُنْتُ أَعْزَبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي قَدْ هَلَكْتُ فَقَعَدْتُ عَلَى بَعِيرٍ مِنْهَا، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِصْفَ النَّهَارِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَنَزَلْتُ عَنِ الْبَعِيرِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: ( (سُبْحَانَ اللَّهِ! أَبُو ذَرٍّ؟) ) فَقُلْتُ: نَعَمْ وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكْتُ، قَالَ: ( (وَمَا أَهْلَكَكَ؟) ) فَحَدَّثْتُهُ فَضَحِكَ فَدَعَا إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِهِ فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ مَا هُوَ بِمَلْءَ إِنَّهُ لَيَتَخَضَّخَضُ فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِيرِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَسَتَرَنِي، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: ( (إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَّجٍ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّ بَشَرَتَكَ) ) وَفِي رِوَايَةٍ: ( (فَأَمْسِسْهُ بَشَرَتَكَ) )
بنو عامر کا ایک آدمی (عمرو بن بجدان) کہتا ہے: میں کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی، میں پانی سے دور تھا، جبکہ میری بیوی میرے ساتھ تھی، پس مجھے جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرتا تھا، لیکن میرے دل میں شبہ سا پیدا ہوا اور سیدنا ابو ذر ؓ کے بارے میں بتلایا گیا، پس میں نے حج کیا اور مسجد ِ مِنٰی میں داخل ہوا اور اُن کو اُن کی صفات کی روشنی میں پہنچان لیا، وہ دبلے پتلے اور گندمی رنگ کے بزرگ تھے اور قطری حلہ زیب ِ تن کیا ہوا تھا، پس میں چلا، یہاں تک کہ میں ان کے پہلو کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور ان کو سلام کہا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، اس لیے انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، انھوں نے مکمل، خوبصورت اور طویل نماز پڑھی، جب وہ فارغ ہوئے تو میرے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا: آپ ابو ذر ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میرے اہل کا یہی خیال ہے (کہ میں ابو ذر ہوں)۔ میں نے کہا: میں کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی ہے، لیکن میرے دین نے مجھے بے چین کیا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ میں پانی سے دور ہوں اور میرے ساتھ میری بیوی بھی ہے، اس لیے مجھے جنابت لاحق ہو جاتی ہے اور کئی دنوں تک تیمم کرتا رہتا ہوں، اس سے میرے دل میں کھٹکا سا پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: کیا تم ابو ذر کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: مدینہ منورہ کی آب و فضا مجھے موافق نہ آئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم دیا، پس میں ان میں ہوتا تھا اور پانی سے دور ہوتا تھا، جبکہ میرے ساتھ میری بیوی بھی ہوتی تھی، اس وجہ سے جنابت بھی لاحق ہو جاتی تھی، پس اس وجہ سے میرے دل میں کھٹکا سا پیدا ہوا، سو میں اونٹ پر بیٹھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، یہ نصف النہار کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک گروہ میں مسجد کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، پس میں اونٹ سے اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: سبحان اللہ! ابو ذر؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور اپنے گھر والوں میں سے ایک انسان کو بلایا، تو کالے رنگ کی ایک لونڈی پانی کا بڑا پیالہ لے کر آئی، وہ بھراہوا نہیں تھا اور اس میں پانی چھلک رہا تھا، پس میں نے اونٹ کے ساتھ پردہ کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قوم میں سے ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے میرے سامنے پردہ کیا، پس میں نے غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک پاک مٹی اس وقت تک پاک کرنے والی ہے، جب تک تجھے پانی نہ ملے، اگرچہ دس سال نہ ملے، پھر جب تو پانی پا لے تو اس کو اپنے چمڑے پر لگا۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 999]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه بنحوه ابوداود: 333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21629»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1000
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی دور چلا جاتا ہے اور پانی کو حاصل کرنے پر قدرت نہیں رکھتا، کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب التيمم/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه البيھقي: 1/ 218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7097»
الحكم على الحديث: صحیح