الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ فِي افْتِرَاضِهَا وَمَتَى كَانَ
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1002
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ( (افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا) ) قَالَ: هَلْ عَلَيَّ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ؟ قَالَ: ( (افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا) ) قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَا أَزِيدُ فِيهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ) )
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو نمازیں فرض کی ہیں، مجھے ان کے بارے میں بتلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر اِن سے پہلے یا اِن کے بعد بھی کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ تین دفعہ ارشاد فرمایا، پھر اس بندے نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نہ میں ان میں کسی چیز کی زیادتی کروں گا اور نہ کمی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13851»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1003
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: فُرِضَ عَلَى نَبِيِّكُمْ خَمْسُونَ صَلَاةً، فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا خَمْسًا
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تمہارے نبی پر پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں، پھر انھوں نے اپنے ربّ سے سوال کیا، پس اس نے ان کو پانچ کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1400، وأخرج نحوه ابوداود: 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2891»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1004
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أُمِرَ نَبِيُّكُمْ بِخَمْسِينَ صَلَاةً، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) تمہارے نبی کو پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2892»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1005
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ سَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْإِسْرَاءِ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَرَضَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: مَا ذَا فَرَضَ رَبُّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، فَقَالَ لَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَاجِعْ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ) )
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے (یہ ایک طویل حدیث ہے، سیدنا ابی بن کعب ؓ سے مروی ہے، یہ پوری حدیث اسراء میں آئے گی، اس مقام پر یہ حصہ جو آگے آ رہا ہے، مطلوب ہے:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، پس میں یہ چیزیں لے کر لوٹ پڑا، جب میں موسیؑ کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا: تیرے ربّ نے تیری امت پر کیا کچھ فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: جی اُن پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، یہ سن کر موسیؑ نے کہا: اپنے ربّ سے بات کرو، تیری امت اس عمل کی طاقت نہیں رکھے گی، پس میں نے اپنے ربّ سے بات کی تو اللہ تعالیٰ نے آدھی نمازیں معاف کر دیں، پھر میں موسیؑ کی طرف لوٹا اور ان کو بتایا، لیکن انھوں نے پھر کہا: اپنے ربّ سے پھر بات کرو کیونکہ تمہاری امت اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی، پس میں نے اپنے ربّ سے پھر بات کی تو اللہ تعالیٰ نے کہا: یہ پانچ ہیں اور یہ پچاس ہیں، میرے ہاں قول تبدیل نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 349، ومسلم: 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21612»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1006
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ فَزَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَتَرَكَ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي نَحْوِهَا
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا اور سفری نماز کو اسی طرح رہنے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 349، ومسلم: 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26494»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع پر سیدہ عائشہ ؓسے مروی حدیث یہ ہے، وہ کہتی ہیں: فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فِیْ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَاُقِرَّتِ صَلَاۃُ السَّفَرِ وَزِیْدَ فِیْ الْحَضَرِ۔ … حضر و سفر کی نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، پھر اس (مقدار) کو سفر ی نماز قرار دیا گیا اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 1007
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان کے مطابق مقیم پر نماز کی چار، مسافر پر دو اور ڈرنے والے پر ایک رکعت فرض کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2124»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالْغَسْلُ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مَرَّةً وَالْغَسْلُ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نمازیں پچاس تھیں، غسلِ جنابت بھی سات دفعہ تھا اور پیشاب کو دھونا بھی سات بار تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ پانچ نمازیں، ایک بار غسل جنابت اور ایک بار پیشاب کے دھونے کو مشروع قرار دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ايوب بن جابر اليمامي وعبدُ الله بنُ عصمة مختلف فيه۔ أخرجه ابوداود: 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5884»
وضاحت: فوائد: … ابو داؤد میں یہ الفاظ ہیں: ((غَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ۔)) یعنی پیشاب والے کپڑے کو دھونا۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: ضعیف
2. بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَأَنَّهَا مُكَفِّرَةٌ لِلذُّنُوبِ
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
حدیث نمبر: 1009
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمْضَانُ إِلَى رَمْضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ، مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں، جب تک بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9186»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ نیکی کے کام اس شرط کے ساتھ گناہوں کا کفارہ ہیں کہ کبائر سے دور رہا جائے۔ گویا اگر کوئی بڑے گناہوں سے نہیں بچتا تو اس کے لیے صغائر معاف کیے جانے کا کوئی وعدہ نہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ مذکورہ نیکیوں سے صغائر ہی معاف ہوں گے، کبائر نہیں۔ کبائر کی معافی کے لیے توبہ کرنی ہوگی۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1010
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ، وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ الَّذِي قَبْلَهُ كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ) ) قَالَ: فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ، ( (إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةِ) ) قَالَ: ( (أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ فَأَنْ تُعْطِيَ رَجُلًا بَيْعَتَكَ ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ) )
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز پچھلی نماز تک کفارہ ہے، جمعہ پچھلے جمعہ تک کفارہ ہے اور ماہِ رمضان پچھلے مہینے تک کفارہ ہے، مگر تین گناہوں سے۔ ہم نے پہچان لیا کہ کوئی نئی صورتِ حال واقع ہوئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، معاہدے کو توڑنا اور سنت کو ترک کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاہدے کو توڑنا یہ ہے کہ تو کسی آدمی سے عہد و پیمان کرے، لیکن پھر تو تلوار کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنا شروع کر دے، اور سنت کو ترک کرنے سے مراد جماعت سے خارج ہونا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: الا من ثلاث۔ واسناده ضعيف لجھالة الرجل الانصاري الرواي عن ابي ھريرة۔ أخرجه الحاكم: 1/119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10584»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 1011
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ! أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: هَٰكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ! أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: ( (إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَّ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَٰذَا الْوَرَقُ، وَقَالَ: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ}) )
ابو عثمان کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی ؓ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، انھوں نے اس کی خشک ٹہنی کو پکڑا اور اس کو ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے، پھر کہا: اے ابو عثمان! کیا تم مجھ سے یہ سوال نہیں کرتے کہ میں نے ایسے کیوں کیاہے؟ میں نے کہا: جی آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایسے کیا تھا، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک شاخ کو پکڑ کر ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گرگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: سلمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: جی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مسلمان جب وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں، جیسے یہ پتے گر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴) [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه بتمامه ومختصرا الطيالسي: 652، وابن ابي شيبة: 1/ 7، والدارمي: 719، والطبراني في الكبير: 6151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24108»
الحكم على الحديث: صحیح