الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابٌ فِي فَضْلِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَالسَّعْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1042
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 422، وابن ماجه: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11028»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اس باب سے متعلقہ الفاظ یہ ہیں: ((وانکم لن تزالوا فی صلاۃ منذ انتظرتموھا)) … اور تم جب سے اس نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز میں ہی رہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 422
حدیث نمبر: 1043
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهَّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ) )
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی باوضو ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کر کے اسی جائے نماز میں اگلی نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں یوں دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11007»
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 427
حدیث نمبر: 1044
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ (السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ) )
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی (ایک نماز ادا کرنے کے بعد اسی مجلس میں) دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 55، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23200»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 55
حدیث نمبر: 1045
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: ( (قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ، أَمَّا إِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو ایک لشکر تیار کیا، یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: تحقیق دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہیں اور تم اِس نمازِ عشا کا انتظار کر رہے ہو، خبردار! بیشک تم جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے ہو، نماز میں ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 1936، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15012»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 1936
حدیث نمبر: 1046
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ( (النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَقَامُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا) ) قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ
حُمَید کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی پہنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو نمازِ عشا کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا چکے تو ہم صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: (دوسری مسجدوں والے) لوگ یہ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک اس نماز کے انتظار میں رہے، نماز میں ہی رہے۔ سیدنا انس ؓ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 572، 661،و مسلم: 640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12911»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 572
حدیث نمبر: 1047
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ أَوْ كَاتِبُهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوها إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ) )
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ وضو کرکے مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے تو لکھنے والے دونوں یا ایک مسجد کی طرف اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا ہے،اور جو آدمی بیٹھ کر انتظار کر رہا ہوتا ہے، وہ نماز میں قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اس آدمی کو گھر سے نکلنے سے لے کر گھر کی طرف لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1492، وابن حبان: 2038، والحاكم: 1 /211، والبيھقي: 3/ 63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17577»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 1492
حدیث نمبر: 1048
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ وَهُوَ مُتَطَهَّرٌ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْحَاجِّ الْمُحْرِمِ وَمَنْ مَشَى إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى كَانَ لَهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ، وَصَلَاةٌ عَلَى أَثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عِلِّيِّينَ) ) وَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: الْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلَى هَٰذِهِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی باوضو ہو کر فرض نماز کی طرف چلا، اس کے لیے اس حاجی کا اجر ہو گا، جس نے احرام پہن رکھا ہو، اور جو چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہے، اس کے لیے عمرہ کرنے والے کا اجر ہو گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز، جبکہ ان کے درمیان کوئی لغو کام بھی نہ ہو، یہ ایسا عمل ہے جس کو عِلِّیِّیْن میں لکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو امامہ ؓ نے کہا: ان مسجدوں کی طرف صبح کو جانا اور شام کو جانا جہاد فی سبیل اللہ میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 558، 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22660»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 558
حدیث نمبر: 1049
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ وَبِحَقِّ مَمْشَايَ فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، خَرَجْتُ اتِّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ أَسْأَلُكَ أَنْ تُنْقِذَنِي مِنَ النَّارِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ، وَأَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو آدمی نماز کی طرف نکلتے ہوئے یہ کلمات کہتا ہے: اے اللہ! میں تجھ سے تجھ پر سوالیوں کے حق اور اپنے چلنے کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ میں فخر، سرکشی، ریاکاری اور شہرت کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے اور تیری رضامندی کو تلاش کرنے کے لیے نکلا ہوں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تو مجھے آگ سے بچا اور میرے گناہ بخش دے، بیشک گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا مگر تو ہی، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس ڈیوٹی پر لگاتا ہے کہ وہ اس آدمی کے لیے بخشش طلب کریں اور اللہ تعالیٰ خود اپنے چہرے کے ساتھ ایسے آدمی پر متوجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، وقد رُوِي موقوفا وھو اشبه۔ أخرجه ابن ماجه: 778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11173»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي
5. بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا وَأَنَّهَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1050
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الصَّلَاةُ) ) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ) ) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ( (الصَّلَاةُ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَلَمَّا غَلَبَ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ) ) قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (آمُرُكَ بِالْوَالِدَيْنِ خَيْرًا) ) قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أُجَاهِدَنَّ وَلَا أَتْرُكَنَّهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنْتَ أَعْلَمُ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے سب سے افضل عمل کا سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز۔ اس نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز۔ ایسے تین دفعہ ہوا، پھر جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زیادہ سوالات کیے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس آدمی نے کہا: میرے والدین بھی زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میں ضرور ضرور جہاد کروں گا اور ضرور ضرور ان کو چھوڑ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو خود زیادہ جانتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حيي بن عبد الله المعافري ضعيف۔ أخرجه ابن حبان: 1722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6602»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ جب والدین دونوں یا ان میں سے کوئی ایک اپنی اولاد کو جہاد سے روک دے تو جہاد حرام ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا فرضِ عین ہے اور جہاد فرض کفایہ ہے، لیکن جہاد فرضِ عین کے طور پر متعین ہو جائے تو والدین کی اجازت کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ (فتح الباری: ۶/ ۱۴۰)
جہاد کرنے کے لیے والدین کی اجازت کے بارے سب سے زیادہ صریح روایت حافظ ابن حجر نے بیان کی ہے جو ابو داؤد (۳۵۳۰) میں موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ((ارجع فاستاُذنہما فان اذنالک فجاہدو الا فبرہما۔)) جا اور اپنے والدین سے اجازت لے اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ورنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ اس کی سند میں ابو السمع دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب ص: ۹۸ میں لکھا ہے کہ دراج اگر ابو الہیثم سے بیان کرے تو ضعیف ہوتا ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کے علاوہ اقوال و استدلالات تو ہیں۔ صریح صحیح حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بہرحال جہاد کرنے کے لیے والدین کی اجازت کے شرط ہونے کے لیے کوئی واضح نص ہونی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
جہاد کرنے کے لیے والدین کی اجازت کے بارے سب سے زیادہ صریح روایت حافظ ابن حجر نے بیان کی ہے جو ابو داؤد (۳۵۳۰) میں موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ((ارجع فاستاُذنہما فان اذنالک فجاہدو الا فبرہما۔)) جا اور اپنے والدین سے اجازت لے اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ورنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ اس کی سند میں ابو السمع دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب ص: ۹۸ میں لکھا ہے کہ دراج اگر ابو الہیثم سے بیان کرے تو ضعیف ہوتا ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کے علاوہ اقوال و استدلالات تو ہیں۔ صریح صحیح حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بہرحال جہاد کرنے کے لیے والدین کی اجازت کے شرط ہونے کے لیے کوئی واضح نص ہونی چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1051
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا (وَفِي رِوَايَةٍ: اسْتَقِيمُوا تُفْلِحُوا) وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ) )
مولائے رسول سیدنا ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور تم ہر گز احاطہ نہیں کر سکو گے، ایک روایت میں ہے: تم راہِ صواب پر چلتے رہو، کامیاب ہو جاؤ گے، اور جان لو کہ نماز تمہارا سب سے بہترعمل ہے اور ہر گز وضو کی حفاظت نہیں کرتا مگر مؤمن۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22800»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 277