الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بابُ جَامِعِ الْأَذْكَارِ وَتَعَوذَاتٍ وَأَدْعِيَةٍ وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُوَرٍ عَقْبَ الصَّلَوَاتِ
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
حدیث نمبر: 1874
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) (الْحَدِيث) وَفِي آخِرِهِ قَالَ وَرَّادٌ: ثُمَّ وَفَدْتُّ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ وَيُعَلِّمُهُمُوهُ
۔ (تیسری سند)عبدۃ بن ابی لبابہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام وَرَّادنے انہیں بتایا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، وراد نے خود یہ خط لکھا تھا، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ جب آپ سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … …۔ مکمل حدیث بیان کی، اس روایت کے آخرمیں ہے: وراد نے کہا: اس کے بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے سنا کہ وہ منبر پر لوگوں کو اس دعا کا حکم دے رہے تھے اور ان کو اس کی تعلیم دے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6615، ومسلم: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18319»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6615
حدیث نمبر: 1875
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) )
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ اَلسَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ تو ہی سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے، تو بابرکت ہے، اے شان اور عزت والے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26022»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 592
حدیث نمبر: 1876
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَلَى هَٰذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوْ الصَّلَوَاتِ يَقُولُ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ) )
ابو زبیر کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرتے تو کہتے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ، أَھْلَ النِّعْمَۃِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، برائی سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ، ہم نہیں عبادت کرتے مگر اسی کی، اے نعمت و فضل اور اچھی ثنا والے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر اللہ، ہم اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔) [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16221»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 594
حدیث نمبر: 1877
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ (الْحَدِيث) قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
۔ (دوسری سند)ہشام بن عروہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرتے تو ہر نماز کے بعدکہتے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … …۔ اسی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کے بعدیہ الفاظ ہیں: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ۔ وہ کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ کی توحید کا اعلان کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1877]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 594، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16204»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 594
حدیث نمبر: 1878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَتْ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَلَمْ يَحِلِّ لِذَنْبٍ يُدْرِكُهُ إِلَّا الشِّرْكُ، فَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ) )
سیدنا عبد الرحمن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مغرب اور صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد (اپنی جائے نماز سے) پھرنے اور ٹانگ موڑنے سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُیُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ساری بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔)تو ایسے شخص کے لیے ہر دفعہ یہ کہنے کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی اوراس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ اور مردود شیطان سے بچاؤ ہوں گے اور شرک کے علاوہ کسی گناہ کے لیے حلال نہیں ہوگا کہ وہ ایسے آدمی کو ہلاک کر سکے اور ایسا آدمی عمل کے لحاظ سے سب لوگوں میں افضل ترین ہوگا، سوائے اس آدمی کے، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، یعنی اس سے زیادہ یہ ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1878]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لارساله، ولضعف شھر بن حوشب، وقد اضطرب في سنده و متنه۔ أخرجه ابن حجر في نتائج الافكار: 2/305، وعبد الرزاق: 3192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18153»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَيَّ مِنَ الرَّحَى أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا آتِيكِ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكِ مِائَةٌ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ، وَإِذَا صَلَّيْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقُولِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تُكْتَبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُسِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهَا غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهَا عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ) )
سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کام کا شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! چکی کی وجہ سے میرے ہاتھ پر چھالے پڑ گئے ہیں، کبھی آٹا پیستی ہوں اور کبھی گوندھتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ تیرے لیے کوئی چیز عطا کرے گا تو وہ تیرے پاس پہنچ جائے گی اور میں اس سے بہتر چیز پر تیری رہنمائی کر دیتا ہوں، جب تو اپنے بستر پر جائے تو تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ اور چونتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ، یہ ایک سو ہو گئے، یہ تیرے لئے خادم سے بہتر ہیں اور جب تو صبح کی نمازادا کرلے تو دس دفعہ یہ دعا پڑھ: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئِ قَدِیْرٌ۔ مغرب کی نماز کے بعد بھی دس دفعہ پڑھ۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس برائیاں معاف ہو جاتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور کسی گناہ کے لئے، جس کا اس دن ارتکاب کیا گیا، حلال نہیں کہ ایسے شخص کو ہلاک کرسکے، الا یہ کہ وہ شرک ہو اور یہ ذکر صبح کے وقت کہنے سے شام کے وقت کہنے تک ہر شیطان اور ہر بری چیز سے تیرا محافظ ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1879]
تخریج الحدیث: «اس حديث ميں سيده فاطمه رضي الله عنها كا خادم طلب كرنا اور آپ صلي الله عليه وآله وسلم كا سوتے وقت كے ذكر كي تعليم دينا صحيح لغيره هے، يه سند شھر بن حوشب كے اضطراب كي وجه سے ضعيف هے۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27086»
الحكم على الحديث:
اس حديث ميں سيده فاطمه رضي الله عنها كا خادم طلب كرنا اور آپ صلي الله عليه وآله وسلم كا سوتے وقت كے ذكر كي تعليم دينا صحيح لغيره هے
حدیث نمبر: 1880
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رِقَابٍ وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نمازِ فجر ادا کرکے یہ دعا دس دفعہ پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ تویہ چار غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس کے بدلے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گئیں، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی،اس کے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور یہ کلمات شام تک اس کے لئے شیطان سے حفاظت کرنے والے ہوں گے اور جب وہ مغرب کے بعد پڑھے گا تو اسی طرح ہوگا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1880]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن يعيش جھّله الحسيني وابن حجر۔ أخرجه ابن حبان: 2023، والطبراني في الكبير: 4092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23915»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1881
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہرنماز کے بعد معوَّذات سورتیں پڑھوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1881]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1523، والنسائي: 3/ 68، والترمذي: 2903، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17417، 17792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17945»
وضاحت: فوائد: … معوّذات سے مراد سورۃ الاخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1523
4. باب رفع الصوت بالذكر عقب الانصراف من الصلاة
نماز سے فارغ ہونے کے بعد بآواز بلند ذکر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1882
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام ابو معبد کو بتلایا کہ عہد ِ نبوی میں جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہوتے تو ذکر کے ساتھ آواز کو بلند کرتے تھے۔ مزید انھوں نے کہا: بلکہ جب میں (اس ذکر کی) آواز سنتا تھا تو پہچان جاتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 841، ومسلم: 583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3478»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 841
حدیث نمبر: 1883
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لَهُ حَدَّثْتَنِي؟ قَالَ لَا، مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا ختم ہونا تکبیر کے ساتھ ہی پہچانتا تھا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے (ابو معبد) سے کہا: تو نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے تجھے یہ بیان نہیں کی۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 841، ومسلم: 583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1933»
وضاحت: فوائد: … یہ دونوں احادیث، ایک حدیث ہی ہیں،یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث کے عموم کو دوسری حدیث کے خصوص کی روشنی میں سمجھا جائے، یعنی مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ صرف اللہ اکبر کے ساتھ آواز بلند ہونی چاہیے۔ بعض جن احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کچھ دوسری دعاؤں کو جہری آواز کے ساتھ پڑھنا بھی ثابت ہے، ان سے مراد لوگوں کو تعلیم دینا ہے۔
عمرو کی اپنے استاد ابومعبد سے بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابو معبد نے عمرو سے حدیث تو بیان کی ہے لیکن وہ حدیث بیان کر کے بھول گئے۔ اس لیے انہوں نے اپنے شاگرد عمرو کے پوچھنے پر اس کا انکار کیا۔ استاد حدیث بیان کر کے اگر بھول جائے تو صحیح ترین رائے کے مطابق اگر شاگرد ثقہ ہو تو اس کی روایت قابل حجت ہو گی۔ اس کی تفصیلات کے لیے اصول حدیث میں مَنْ حَدَّثَ وَ نَسِیَ والی بحث دیکھیں۔ (مزید: مسند امام احمد محقق: ۳/۴۰۷) (عبداللہ رفیق)
عمرو کی اپنے استاد ابومعبد سے بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابو معبد نے عمرو سے حدیث تو بیان کی ہے لیکن وہ حدیث بیان کر کے بھول گئے۔ اس لیے انہوں نے اپنے شاگرد عمرو کے پوچھنے پر اس کا انکار کیا۔ استاد حدیث بیان کر کے اگر بھول جائے تو صحیح ترین رائے کے مطابق اگر شاگرد ثقہ ہو تو اس کی روایت قابل حجت ہو گی۔ اس کی تفصیلات کے لیے اصول حدیث میں مَنْ حَدَّثَ وَ نَسِیَ والی بحث دیکھیں۔ (مزید: مسند امام احمد محقق: ۳/۴۰۷) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 841