🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1903
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 399، وأخرج النسائي بنحوه: 2/ 204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14561»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ دوپہر کی سخت گرمی اور تپتی زمین کی وجہ سے ان کی نمازیں متاثر نہیں ہوتی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لیے اس قسم کا کام کر سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 399
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1904
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ: ابْنَ أَخِي! لَا تَنْفُخْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ وَنَفَخَ: ( (تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ) )
ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعيد بن عثمان لم نقف له علي ترجمة۔ أخرجه الترمذي: 381 وفي سنده ابو حمزه ميمون الاعور ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26572، 26744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27107»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ ضرورت کے علاوہ نماز میں کوئی زائد حرکت اور فعل نہیں کرنا چاہیے۔ ان احادیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ عینک والے حضرات کو نماز شروع کرنے سے پہلے عینک اتار کر رکھ لینی چاہیے، نہ کہ سجدے کیطرف جھکتے ہوئے، اسی طرح موبائل وغیرہ نماز شروع کرنے سے پہلے بند کرنا چاہیے، تاکہ دوران نماز زائد حرکات سے بچا جا سکے۔ علی ہذا القیاس۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (ابْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ … … وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَجَعَلَ يَقُولُ: ( (رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ) ) فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الْحَدِيثُ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1194، والنسائي: 3/ 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6483»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اس طرح پھونک مارنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔ نیز اس دعا سے پتہ چلا کہ سجدے میں دعا اور تسبیح کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1194
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. 4- بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّحِكِ وَالِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ وَتَفْقِيعِ الْأَصَابِعِ وَتَشْبِيكِهَا
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1906
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ، أَوْصَانِي بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، قَالَ: وَنَهَانِي عَنِ الْإِلْتِفَاتِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ كَنَقْرِ الدِّيكِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع فرمایا، مجھے (حکم دیتے ہوئے) یہ وصیت فرمائی کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، ہر ماہ میں تین روزے رکھوں اور چاشت کی دو رکعت پڑھا کروں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (نماز میں) اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے منع کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1906]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد الھاشمي۔ أخرجه الطيالسي: 2593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7585»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد الھاشمي۔ أخرجه الطيالسي: 2593
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1907
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اور آپ نے مجھے مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے،کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑ کی طرح جھانکنے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي ويزيد بن ابي زياد الھاشمي، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8091»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ احکام دوسری احادیث میں ثابت ہیں۔ ٹھونگے مارنے سے مراد سجدہ کرتے وقت کی جلد بازی ہے، اور کتے یا لومڑ کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ممنوع صورت ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي ويزيد بن ابي زياد الھاشمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ( (الضَّاحِكُ فِي الصَّلَاةِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَقِّعُ أَصَابِعَهُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ) )
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز میں ہنسنے والا،جھانکنے والا اور اپنی انگلیوں کے پٹاخے نکالنے والا ایک درجہ کے لوگ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، وابن لھيعة ضعيف ايضا۔ أخرجه والطبراني في الكبير: 20/ 419، والدار قطني: 1/ 175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15706»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن دیگر عام اور مطلق دلائل سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ مکروہ اور ناپسندیدہ امور ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1909
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی نماز کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جب تک وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، پس جب وہ چہرہ پھیرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1909]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 909، والنسائي: 3/8، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21840»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 909
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1910
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَفُّتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: ( (اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں جھانکنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تواچکنا ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 751، 3291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24412، 24746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24916»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 751
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1911
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِيَّاكُمْ وَالْإِلْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرَائِضِ) )
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے لوگو! التفات سے بچو، کیونکہ التفات کرنے والے کی کوئی نماز نہیں ہے، اگر تم نفل نماز میں مغلوب ہوجاؤ (تو دیکھ لیا کرو) بہرحال فرائض میں ہرگز مغلوب نہ ہونا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1911]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ميمون ابو محمد المرائي التميمي ذكره الذھبي في الميزان فقال: ميمون ابو محمد شيخ، حدث عنه محمد بن بكر البرساني، لايعرف۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28045»
وضاحت: فوائد: … قیام کے دوران نمازی کا سر جھکا ہوا ہو اور اس کی نگاہ سجدہ گاہ پر ہو، جیسا سنن بیہقی اور مستدرک حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ ہونا، ان احادیث سے اس چیز کے حکم کا اندازہ ہو جاتا ہے، جب تک بندہ قبلہ رخ رہتا ہے، اس وقت تک ادھر ادھر دیکھنا مکروہ ہے اور نماز کے اجرو ثواب میں کمی آ جاتی ہے، لیکن اگر کوئی نمازی اتنا پھر جاتا ہے کہ وہ قبلہ رخ ہی نہیں رہتا، جبکہ اس کا عذر بھی کوئی نہیں ہوتا، تو اس کی نماز باطل ہو جائے اور وہ دوبارہ نماز شروع کرے گا۔ ذہن نشیں رہے کہ ضرورت کے وقت نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائزہے، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں گھاٹی کی طرف متوجہ ہو کر دیکھتے تھے، سنن ابی داود کی روایت کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھاٹی کی طرف رات کے پہرے کے لیے ایک گھوڑ سوار بھیجا ہوا تھا۔ اسی طرح صحیح بخاری کی سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے تالیاں بجانے کی وجہ سے نماز میں پیچھے دیکھا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1912
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ لِي: ( (يَا كَعْبُ! إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلَاةَ) )
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر مسجد میں داخل ہوئے جبکہ میں نے اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کعب! جب تو مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کر، کیونکہ جب تک تو نماز کی انتظار میں رہے گا، نماز میں ہی ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1912]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 562، وابن ماجه: 967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18103، 18115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18310»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 562
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں