🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَا يَقْطَعُ الصَّلاةَ
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1893
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ يَعْنِي رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کردیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں نماز پرھتے ہوئے دیکھا کہ میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تومیری ٹانگ دباتے تھے، پس میں اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 519، ومسلم: 744، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24670»
وضاحت: فوائد: … بلا شک و شبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ روایت ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو کاٹ دیتے ہیں، صرف اس باب کے مطابق چار صحابہ نے اس کو بیان کیا ہے، لیکنیہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم میں نہیں تھی، اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے چارپائی سے کھسک جانے اور ٹانگ کو پیچھے کھینچ لینے سے عورت کا سامنے سے گزر جانے کا استدلال کیا، حالانکہ اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، اگر یہ گزرنا ہوتا تو قطعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اجازت نہ دیتے، جیسا کہ دوسری قولی اور فعلی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 519
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1894
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتا،اور حائضہ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 703، وابن ماجه: 949، والنسائي: 2/ 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3241»

الحكم على الحديث:
اسناده علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 703
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1895
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/ 499، وابونعيم: 9/ 223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7970»
وضاحت: فوائد: … یہ اس موضوع سے متعلقہ مختلف احادیث ِ مبارکہ ہیں،درج ذیل حدیث بھی ذہن نشین کر لیں: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو پالان کی پچھلی لکڑی جتنی اونچی چیز اس کے لیے سترہ بن سکتی ہے، اگر اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کی (اونچائی) جتنی کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، عورت اور کالا کتا اس کی نماز کو کاٹ دیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۱۰) اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر مثالوں کی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انکار والی روایت کو ان کی لا علمی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے اور کئی صحابہ کرام یہ حدیث بیان کرنے والے موجود ہیں کہ گدھا، کتا اور عورت نماز کاٹ دیتے ہیں۔ بہرحال ان احادیث کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، غور فرمائیں، پہلے اقوال نقل کرتے ہیں: امام نووی نے الخلاصۃ میں کہا: جمہور نے مختلف احادیث میں جمع وتطبیق کی صورت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نماز کو کاٹنے سے مراد اس کے خشوع کو ختم کرنا ہے۔ سیدنا علی، سیدنا عثمان اور سیدنا ابن عمر کا خیال ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزر جانے والی کوئی چیز اس کی نماز کو نہیں کاٹ سکتی۔ امام مالک، امام شافعی اور اصحاب الرائے کا بھییہی مسلک ہے۔ جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری اس طرف گئے ہیں کہ عورت، گدھا اور کتا واقعی نماز کو کاٹ دیتے ہیں، حسن بصری نے بطور دلیلیہ حدیث پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَقْطَعُ صَلَاۃَ الرَّجُلِ اِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَیَدَیْہِ قِیْدُ آخِرَۃِ الرَّحْلِ، اَلْحِمَارُ وَالْکَلْبُ الْاَسْوَدُ وَالْمَرْأَۃُ)) یعنی: اگر نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، کالا کتا اور عورت اس کی نماز کو کاٹ دیتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ قول مروی ہے کہ حائضہ عورت اور کالا کتا نماز کو قطع کردیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور امام احمد اور امام اسحاق کا خیالیہ ہے صرف کالے کتے سے نماز متأثر ہوتی ہے۔ یہ مختلف اقوال ہیں، اس ضمن میں درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ، وَادْرَؤُوْا مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَاِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو نہیں کاٹ سکتی اور جتنی طاقت رکھتے ہو، (گزرنے والے کو) ہٹاؤ، کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ (ابوداود: ۷۱۹) اس کی سند میں مجالد بن سعیدسيء الحفظ ہے، لیکن درج ذیل روایات سے اس کو قوت ملتی ہے:
(۱) سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَيْئٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو نہیں کاٹتی۔ (طبرانی: ۷۶۸۸، دارقطنی:۱/ ۳۶۸) اس کی سند میں عُفَیر بن معدان ضعیف ہے۔
(۲) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَقْطَعُ صَلَاۃَ الْمَرْئِ امْرَأَۃٌ، وَلَا کَلْبٌ، وَلَا حِمَارٌ۔)) یعنی: آدمی کی نماز کو نہ عورت کاٹتی ہے، نہ کتا اور نہ گدھا۔ (دارقطنی: ۱/ ۳۶۸)
(۳) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو قطع نہیں کرتی۔ (دارقطنی: ۱/۳۶۷) ان روایات میں بھی ضعف موجود ہے۔
(۴) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز نمازی کے سامنے سے گزرتی ہے، وہ اس کی نماز نہیں کاٹتی۔ (مؤطا امام مالک: ۱/ ۱۵۶، سندہ صحیح علی شرط الشیخین)
(۵) سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے کہا: کوئی چیز نماز کو قطع نہیں کرتی، البتہ حسب ِ استطاعت (گزرنے والی چیزوں) کو پیچھے ہٹاؤ۔ (ابن ابی شیبہ: ۱/ ۲۸۰، سندہ صحیح) (انظر: ۳۲۴۱، ۷۹۸۳) معلوم ایسے ہوتا ہے کہ حائضہ عورت، کتے اورگدھے کے نماز کاٹ دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے خشوع اور اجرو ثواب میں کمی آجاتی ہے، اس تاویل کی وجہ درج بالا احادیث کے ساتھ ساتھ درج ذیل حدیث بھی ہے۔
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُ کُمْ إِلٰی سُتْرَۃٍ فَلْیَدْنُ مِنْھَا لَا یَقْطَعُ الشَّیْطَانُ عَلَیْہِ صَلَاتَہُ۔)) (ابوداود: ۶۹۵،والنسائی: ۲/ ۶۲، مسند احمد ۱۶۰۹۰) یعنی: جب تم میںسے کوئی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہوجائے تاکہ شیطان اس پر اس کی نماز قطع نہ کرے۔ اس حدیث میں بھی قطع کرنے سے مراد خشوع وخضوع اور اجر وثواب میں کمی ہے، تو جب خود شیطان کے گزرنے سے نماز قطع نہیں ہوتی تو جن چیزوں کو شیطان کے مشابہ قرار دیا گیا ہے، ان کی وجہ سے بھی نماز منقطع نہیں ہونی چاہیے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نمازی کو سترہ کا اہتمام کرنا چاہیے، ہم باب نمازی کے آگے سترہ رکھنے اور اس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم میں اس کی مکمل وضاحت کر چکے ہیں، لیکن اگر نمازی کے سامنے سے حائضہ عورت، گدھا یا کتا گزر جاتا ہے تو اس کے خشوع اور ثواب میں کمی آجاتی ہے۔
مولفِ فوائدn نے خود ذکر کیا ہے کہ چار صحابہ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزر جانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نماز نہ ٹوٹنے کے حوالہ سے فہم اور استدلال کی مولف نے تردید کی ہے۔ نماز نہ ٹوٹنے کے متعلق جو روایات پیش کی گئی ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔
ابن عمر، عثمان اور علی کے اقوال آخر میں ذکر کیے گئے ہیں، وہ اگر سنداً ثابت بھی ہوں تو وہ ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔ پھر یہ اقوال صحیح احادیث کے مخالف ہیں۔ آخر میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ جب شیطان کے آگے سے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی تو شیطان کے مشابہ چیز کے گزرنے سے نماز کیسے ٹوٹے گی۔ حالانکہ اس حدیث مین یہ بیان ہوا ہے کہ نمازی ستر کے قریب ہو کر نماز پڑھے تاکہ وہ آدمی کی نماز توڑ نہ دے۔ (ترجمہ بھی اسی طرح کیا گیا ہے) اس حدیث میں سترہ کے قریب نہ ہونے کی نماز کے قطع ہونے کا اشارہ مل رہا ہے، نہ کہ نماز کے قطع نہ ہونے کی بات۔ بہرحال صحیح صریح مرفوع روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز قطع ہو جاتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/ 499
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1896
عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّمَا مَثَلُ هَٰذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ) )
کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2767»
وضاحت: فوائد: … مرفوع حدیث کا معنییہ ہے کہ جس طرح ہاتھ سجدہ کرتے ہیں، اسی طرح بال بھی سجدہ کرتے ہیں، جس طرح ہاتھوں کا بندھا ہوا ہونا مناسب نہیں، اسی طرح بالوں کا بندھا ہوا ہونا بھی نامناسب ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1897
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ
مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23856، 27184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27726»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: قدیم عربوں کییہ طبعی عادت تھی کہ جن کے لمبے بال ہوتے تھے، وہ ان کو اکٹھا کر کے باندھ لیتے تھے، اب بھی بعض علاقوں میں کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی حالت میں اس طرح کرنے سے منع کر دیا اور بالوں کو کھولنے کا حکم دیا تاکہ سجدہ کی ادائیگی بدرجۂ اتم ہو سکے۔ (صحیحہ: ۲۳۸۶)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1042
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1898
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَاوِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَلَبْتُ الْحَصَى، فَقَالَ: لَا تَقْلِبِ الْحَصَى فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَٰكِنْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، كَانَ يُحَرِّكُهُ هَٰكَذَا، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي مَسْحَةً
علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4575»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرورت ہوتی تو ایک دفعہ ہاتھ مار کر ان کو درست یا صاف کر لیتے تھے۔ آنے والے تیسری روایت میں اسی مسئلہ کا بیان ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه مسلم: 580
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1899
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى (وَفِي رِوَايَةٍ) فَلَا يُحَرِّكِ الْحَصَى، أَوْ لَا يَمَسَّ الْحَصَى) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو صاف نہ کرے یا ان کو حرکت نہ دے یا ان کو نہ چھوئے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 945، وابن ماجه: 1027، والترمذي: 379، والنسائي: 3/ 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21656»

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 945
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1900
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ: ( (وَاحِدَةً، وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي ليكنيه حديث شاهد كي بنا پر صحيح هے، ملاحظه هو سلسله احاديث صحيحه: 3062 أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 411، وابن خزيمة: 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14253»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو۔ عاجزیو انکساری اور خشوع و خضوع کا تعلق نمازی کے دل و دماغ اور ظاہری جسم دونوں سے ہے، نماز میں جسم پر بھی خوف و خشیت کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں اور فضول حرکات و سکنات سے پرہیز کرنا چاہئے۔ بعض نمازی طبعی طور پر سر میں خارش کرنے، داڑھی کے بالوں کو چھیڑنے، ناک میں انگلی ڈالنے اورکپڑوں اور بالوں کو سنوارنے کے عادی ہوتے ہیں۔یہ حدیث ِ مبارکہ اس امر میں واضح دلیل ہے کہ نمازی کو فضول حرکات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر واقعی کوئی ضرورت محسوس ہو توکوئی مضائقہ نہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي ليكنيه حديث شاهد كي بنا پر صحيح هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1901
عَنْ مُعَيْقِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحُ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَى فَقَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً) )
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سجدہ گاہ میں کنکریوں کو چھونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرضروری کرنا ہی ہو تو ایک دفعہ کر لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24009»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 546
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1902
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً) )
۔ (دوسری سند) جو آدمی سجدے والی جگہ سے مٹی صاف کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگر تو نے کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کر لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24011»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں