🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَقْتِهَا وَجَوَازِ فِعْلِهَا جَمَاعَةً
صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2257
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى حِينَ كَانَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ مَكَانِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب سورج مشرق کی جانب اتنا بلند تھا جتنا وہ عصر کے وقت مغرب کی جانب اونچا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1252»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2258
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقَالَ: ( (صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَى) )
سیّدنازید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قباء والے لوگوں کے پاس آئے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں چاشت کے وقت گرمی سے جلنے لگیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19478»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى مَسْجِدِ قُبَاءٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءٍ بَعْدَ مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا هُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: ( (إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ كَانُوا يُصَلُّونَهَا إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ) )
(دوسری سند)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه أبو عوانة: 2/ 271، وابن خزيمة: 1227، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 5111، وانظر الحديث بالطريق الأول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19562»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2260
عَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ ذَلِكَ وَنَهَانِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلُّوا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ) )
سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه أبو عوانة: 2/ 271، وابن خزيمة: 1227، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 5111، وانظر الحديث بالطريق الأول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22234»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2261
عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ سُبْحَةَ الضُّحَى فَقَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ
سیّدناعتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور یہ نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث: «اسناده علي شرط مسلم، أخرجه أبو عوانة: 2/ 271، وابن خزيمة: 1227، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 5111، وانظر الحديث بالطريق الأول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24180»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2262
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 598، والنسائي: 2/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 682»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2263
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا
سیّدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز (اتنے تسلسل سے) پڑھا کرتے تھے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یوں چھوڑ دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية العوفي، أخرجه الترمذي: 477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11172»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2264
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ إِلَّا مَرَّةً
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 407، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 477، والبزار: 696، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9757»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: رَأَى أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِ
سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عام صحابہ نے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الدارمي: 1456، والبزار: 3635، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20734»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2266
عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَتُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاهَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا أَخَالُهُ
مورق عجلی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2266]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4758»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں