🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بُرْدٌ مُتَوَشِّحٌ بِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری نماز اس حال میں پڑھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دھاری دار چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے توشیح کر رکھی تھی اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الضياء في ’’المختارة‘‘: 1966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13293»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الضياء في ’’المختارة‘‘: 1966
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2422
عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ الْمَرِيضِ، فَقَالَ: يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ قَاعِدًا فِي الْمَكْتُوبَةِ
مختار بن فلفل نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مریض کی نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: (مریض آدمی) فرض نماز میں بیٹھ کر رکوع و سجود کرے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12301»

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12301
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ) ) ، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ) ) ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوبکربڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابوعوانة: 2/ 136، وھو حديث طويل وأخرجه ابوداود: 624 دون اللفظة المذكورة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12276)(2423) أخرجه البخاري: 3384، ومسلم: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24061، 25258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25772»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه ابوعوانة: 2/ 136
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2424
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ) ) ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ
سیّدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بے شک میرے ابو جان تو بڑے نرم دل آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، تم بھی یوسف کی صاحبات ہو۔“ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو امامت کروائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے۔“ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن عن ابن بريدة عن ابيه خطأ من الامام احمد او من دونه والصحيح ما في رواية ابي عوانةأخرجه ابوعوانة في ’’صحيحه‘‘: 1653 عن ابي بردة، وھو ابن ابي موسي الاشعري، عن ابيه ابي موسي الاشعري عبد الله بن قيس، وھو الصحيح،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23448»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ بِمَشَقَّةٍ فِي الْفَرْضِ أَوِ النَّفْلِ وَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَاتُهُ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2425
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ مَحَمَّةٌ فَحُمَّ النَّاسُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ قُعُودٌ يُصَلُّونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ) ) ، فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الصَّلَاةَ قِيَامًا
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے، جبکہ یہ بخار والی جگہ تھی، اس لیے لوگ بیمار ہوگئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اجر کے لحاظ سے) بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہونے والے کی نماز کی نصف ہے۔ پس لوگوں نے مشقت کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12395، 13236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12422»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1230
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2426
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاسٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ قُعُودًا مِنْ مَرَضٍ، فَقَالَ: ( (إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ) )
اور انہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13269»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13269
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2427
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا ذَا أَسْقَامٍ كَثِيرَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتِي قَاعِدًا، قَالَ: ( (صَلَاتُكَ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِكَ قَائِمًا، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مُضْطَجِعًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا) )
سیّدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کافی ساری بیماریوں والا آدمی تھا، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز کھڑے ہوکر پڑھی ہوئی نماز سے نصف ہے اور اسی طرح آدمی کی لیٹ کر پڑھی ہوئی نماز اس کی بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز سے آدھی ہے۔ یعنی اجر و ثواب کے لحاظ سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2427]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1115، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19887 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20128»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1115
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2428
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ أَوْ خَشَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں فارس میں بیمار ہوگیا تھا، اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھا کرتا تھا، جب میں نے اس کے متعلق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لمبی رات تک کھڑے ہو کر اور لمبی رات تک بیٹھ کر نمازپڑھتے تھے، جب آپ کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر ہی کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2428]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25195»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2429
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ السَّائِبَ سَأَلَ عَائِشَةَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ إِلَّا جَالِسًا، فَكَيْفَ تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا مِثْلُ نِصْفِ صَلَاتِهِ قَائِمًا) )
سائب نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکہ میں بیٹھ کر ہی نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں اب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آدمی کی بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز کھڑے ہوکر پڑھی ہوئی نماز سے آدھی ہوتی ہے۔ یعنی اجر وثواب کے لحاظ سے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2429]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، ابراهيم بن مهاجر فيه ضعف خفيف، وقد اختلف عليه فيه أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 52، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 1366، وابو يعلي: 4941، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26428»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ جَوَازِ التَّطَوُّعِ مِنْ جُلُوسٍ لِغَيْرِ عُذْرٍ وَتَنْصِيفِ أَجْرِهِ لِغَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَليهِ وسَلمَ
بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے جواز کا بیان¤اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کے لیے نماز کے اجر کا آدھا ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2430
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا، قُلْتُ لَهُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ تَقُولُ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ؟ قَالَ: ( (إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْ) )
سیّدناعبد اللہ بن عمرو کہتے ہیں: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے تو بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایاہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کی بہ نسبت آدھی ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح کا نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2430]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 735، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6512»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 735
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں