الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2393
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ: الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا إِذَا جَدَّبَهُ السَّيْرُ، وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا جَدَّبَهُ السِّيْرُ إِلَى رُبُعِ اللَّيْلِ أَخَّرَهُمَا جَمِيعًا
امام نافع کہتے ہیں: جب سرخی غائب ہو جاتی تو سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کرتے اور کہتے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چلنے میں جلدی ہوتی تو ان دونمازوں کو جمع کر لیتے تھے۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے چوتھائی حصے تک چلنے میں جلدی ہوتی تو ان دو نمازوں کو مؤخر کر لیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2393]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1805، 3000، ومسلم: 703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4472، 4542، 5120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4472»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1805
حدیث نمبر: 2394
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبِ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
اسماعیل بن عبد الرحمن کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چراگاہ کی طرف نکلے، سورج غروب ہوگیا، لیکن ہم ان کی ہیبت کی وجہ سے نماز کا نہ کہہ سکے، حتی کہ افق کی سفیدی بھی غائب ہو گئی اور رات کا ابتدائی اندھیر ا بھی ختم ہو گیا، پھر وہ (بالآخر) اترے اور ہمیں تین اور دو رکعتیں (یعنی مغرب و عشاء کی نمازیں) پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الشافعي في ’’الأم‘‘: 1/ 77، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 161، والبيھقي: 3/ 161، وانظر الحديث السابق: 1245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4598»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الشافعي في ’’الأم‘‘: 1/ 77
حدیث نمبر: 2395
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَرَّةً وَاحِدَةً، جَاءَهُ خَبَرٌ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا وَجِعَةٌ، فَارْتَحَلَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعَصْرَ وَتَرَكَ الْأَثْقَالَ، ثُمَّ أَسْرَعَ السَّيْرَ فَسَارَ حَتَّى حَانَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ فَكَلَّمَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: الصَّلَاةَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا، ثُمَّ كَلَّمَهُ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَعْجَلَ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ
امام نافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا، (تفصیل یہ ہے کہ) ان کو (اپنی بیوی) صفیہ بنت ابی عبیدکے متعلق یہ خبر موصول ہوئی کہ وہ بیمار ہے، پس وہ نماز عصر ادا کر کے روانہ ہوئے اور سامان وغیرہ وہیں چھوڑ دیا، انھوں نے تیزی کے ساتھ چلنا شروع کیا، سفر جاری رکھا،یہاں تک کہ مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا،ایک ساتھی نے کہا: نماز پڑھو۔ لیکن سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو کوئی جواب نہ دیا، پھر دوسرے بندے نے یہی بات کی، لیکن اس کو بھی کوئی جواب نہ دیا، جب تیسرے بندے نے یہی بات کی تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلدی چلنا ہوتا تو اس نماز کو مؤخر کردیتے، یہاں تک کہ دونوں نمازوں کو جمع کر کے ادا کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1207، وانظر الحديث: 1245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6375»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1207
حدیث نمبر: 2396
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ سَارَ حَتَّى أَمْسَى، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَسِيرُوا، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
(دوسری سند) جناب نافع کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو(ان کی بیوی) صفیہ کی مدد کے بارے میں خبر دی گئی، تو وہ اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت کے برابر چلے، چلتے رہے، حتیٰ کہ شام ہوگئی، میں نے کہا: نماز پڑھ لیں، لیکن وہ چلتے رہے اور میری طرف کوئی توجہ نہ کی،حتیٰ کہ اندھیرا ہوگیا، پھر ان کو جناب سالم یا کسی اور آدمی نے کہا:نماز پڑھ لیں، آپ نے تو شام کر دی ہے۔ (اب کی بار) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب جلدی چلنا ہوتا توآپ ان دونوں نمازوں کو جمع کرلیا کرتے تھے، اور میں بھی ان کو جمع کر کے ادا کرنا چاہتا ہوں، اس لیے تم چلتے رہو، پھر انھوں نے سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی، پھر اترے اور (مغرب و عشا)کو جمع کر کے ادا کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5120»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 2397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَاةَ الْفَجْرِ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا (وَفِي لَفْظٍ) قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْعِشَاءَيْنِ، أَيْ بَدَلَ قَوْلِهِ صَلَاتَيْنِ‘‘ فَإِنَّهُ صَلَّاهُمَا بِجَمْعٍ جَمِيعًا
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے تو یہی دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز اس کے وقت پر ادا کی، سوائے دو نمازوں کے، مغرب و عشاء کو مزدلفہ کے مقام پر جمع کیا اور اس دن نماز فجر کو اس کے وقت سے پہلے ادا کیا۔ ابن نمیر کی روایت میں صَلَاتَیْن کے بجائے الْعِشَائَیْنِ کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو نمازوں کو مزدلفہ میں جمع کر کے ادا کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2397]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1289، وابوداود: 1934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3638، 4046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4046»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1289
19. بَابُ جَمْعِ الْمُقِيمِ لِمَطَرٍ أَوْ غَيْرِهِ
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2398
عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَمَا أَرَادَ لِغَيْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مدینہ میں جمع کر کے ادا کیا، جبکہ نہ کوئی خوف تھا اور نہ بارش۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ (بارش اور خوف کے بغیر) ایسا کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا تھا؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ امت کو تنگی میں نہ ڈالیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 705، وابوداود: 1211، والترمذي: 187، والنسائي: 1/ 290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1953»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 705
حدیث نمبر: 2399
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ مُقِيمًا غَيْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِيًا
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مغرب و عشاء کو جمع کر کے ان کی) سات اور (ظہر و عصر کو جمع کر کے ان کی) آٹھ رکعتیں ادا کیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں مقیم تھے اور مسافر نہ تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2399]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 543، 1174، ومسلم: 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1918، 1929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1929»
الحكم على الحديث:
ھذا حديث صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 543
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ! أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت جمع کرکے اور سات رکعت جمع کرکے پڑھیں۔عمرو کہتے ہیں: میں نے جابر بن زید سے کہا: اے ابو شعثاء! میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کو مؤخر کرکے اور عصر کو جلدی کر کے اور مغرب کو مؤخر کرکے اور عشاء کو جلدی کر کے پڑھا ہوگا۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2400]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1918»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1250
حدیث نمبر: 2401
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ: حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ، وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَٰذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةَ الْفَجْرِ هَٰذِهِ السَّاعَةَ) )
عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں تھا، انھوں نے دو نمازیں پڑھیں، ہر نماز اکیلی اذان اور اقامت کے ساتھ ادا کی اور ان کے درمیان کھانا بھی کھایا، فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر طلوع ہوچکی تھی، یا یہ کہا کہ یہ نماز اس وقت پڑھی، جب کوئی کہتا کہ فجر طلوع ہو گئی اور کوئی کہتا کہ طلوع نہیں ہوئی، پھر کہا:کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس مقام پر ان دو نمازوں کو ان کے اوقات سے پھیر دیا جاتا ہے، کیونکہ لوگ مزدلفہ میں اس وقت پہنچتے ہیں جب (غروبِ شفق کے بعد والا) اندھیرا ہو چکا ہوتا ہے اور فجر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2401]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1683، وسلف مختصرا: 1248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3969»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1683
حدیث نمبر: 2402
عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
حکم کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے ہمیں مزدلفہ میں مغرب کی تین رکعات ایک اقامت کے ساتھ پڑھائیں، اس سے سلام پھیرنے کے بعد نماز عشاء کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر انھوں نے ذکر کیا کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل کیا تھا اور انھوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2402]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشخين أخرجه النسائي: 1/ 239۔ وھذا الحديث من مسند عبد الله بن عمر أخرجه مسلم: 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2534، 5241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2534»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشخين أخرجه النسائي: 1/ 239۔ وھذا الحديث من مسند عبد الله بن عمر أخرجه مسلم: 1288