🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. الْفَضْلُ الثانِي فِي اسْتِحْبَاتٍ صَلَاةِ الوِتْرِ وَالتَّهَجُدِ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ
فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2412
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهِيَ تَمَامٌ وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں دو رکعت نماز مقرر کی ہے اور یہ پوری نماز ہے اور سفر میں وتر پڑھنا سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي أخرجه ابن ماجه: 1194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2156»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي أخرجه ابن ماجه: 1194
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2413
عَنْ جَابِرٍ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي السَّفَرِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: كَانَا يُوْتِرَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں صرف دو رکعت نماز پڑھتے تھے، البتہ رات کو تہجد پڑھتے تھے۔ جابر نے سالم سے پوچھا: کیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ) سفر میں وتر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي أخرجه ابن ماجه: 1193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5590»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2414
عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّيْنَا الْفَرِيضَةَ فَرَأَى بَعْضَ وَلَدِهِ يَتَطَوَّعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِي السَّفَرِ فَلَمْ يُصَلُّوا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلَوْ تَطَوَّعْتُ لَأَتْمَمْتُ
حفص بن عاصم کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے اور (ایک مقام پر) فرض نماز ادا کی، پھر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے بعض لڑکے سنتیں ادا کر رہے تھے تو کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں، انھوں نے تو پہلے والی اور بعد والی سنتیں ادا نہیں کیں۔ پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے یہ نفلی نماز پڑھنی ہی ہوتی تو (فرض نماز کو بھی) پورا پڑھ لیتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2414]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 689، وأخرجه البخاري: 1101، ومسلم: 689 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4761»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 689
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2415
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ، فَرَأَى نَاسًا يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ظہر و عصر کی دو دو رکعتیں ادا کیں، پھر وہ اپنی ایک چٹائی کے لیے کھڑے ہوئے اور یہ دیکھ کر کہ لوگ اس کے بعد نفلی نماز پڑھ رہے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ میں نے کہا: نوافل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں نے فرض نمازوں سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز پڑھنی ہوتی تو فرائض کو ہی پورا پڑھ لیتا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک ان کی صحبت میں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات تک ان کے ساتھ بھی رہا، وہ بھی دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہا بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البخاري: 1102، والنسائي: 3/ 123، وابن خزيمة: 1257، ورواية البخاري مختصرة، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5185»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه البخاري: 1102
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. (أبواب صلاة المريض وصلاة القاعد)
مریض کی نماز اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: Q2416]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2416
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ: اُكْتُبُوا لِعَبْدِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وَثَاقِي) )
سیّدناعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے جس کو بھی کوئی جسمانی تکلیف لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے کہتا ہے: میرا بندہ دن اور رات میں خیر و بھلائی کے جو کام کرتا تھا، تم وہ لکھتے جاؤ، جب تک یہ میری بندھن میں رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 230، والدارمي: 2/ 316، والبخاري في ’’الادب المفرد‘‘: 500، والحاكم: 1/ 348، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 9929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6482»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 230
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2417
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ( (صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ) )
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے ناسور کی بیماری تھی، اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کر۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1117، وابوداود: 952، وابن ماجه: 1223، والترمذي: 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20057»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1117
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً، فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی (آپ کی اقتداء میں) نماز بیٹھ کر پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز پوری کی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو،جب وہ رکوع کرے، تب تم رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تب تم سجدہ کرو، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے، تو تم رَبَّنَا وَلکَ الْحَمْدُ کہو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2418]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 805، 1114، ومسلم: 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12098»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 805
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2419
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهِمْ) )
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کا جوڑ اتر گیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمارداری کرنے کے لیے آپ کے پاس گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بیٹھ کر) نماز پڑھ رہے تھے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گئے، جبکہ ہم کھڑے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے اگر وہ کھڑا ہو کر نمازپڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، جب وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہوا کرو، جیسے فارسی لوگ اپنے بڑوں (کی تعظیم کرتے ہوئے ان) کے ساتھ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم أخرجه مسلم: 413، ابوداود: 602، 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14205، 14590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14254»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي علي شرط مسلم أخرجه مسلم: 413
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2420
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ( (إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے دوران لوگ آپ عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تب تم رکوع کرو، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم رکوع سے سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5658، ومسلم: 412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24754»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5658
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں