🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ مَنْ صَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُمْ نَافِلَةً
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2685
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فِي بَيْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرِ لِي لِأُصْدِرَهَا إِلَى الرَّاعِي، فَمَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَمَضَيْتُ فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِي وَرَجَعْتُ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: ( (مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ! أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا حِينَ مَرَرْتَ بِنَا؟) ) قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي، قَالَ: ( (وَإِنْ) )
حنظلہ بن علی اسلمی،بنو الدیل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے گھر میں نماز ظہر ادا کی، پھر میں اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ ان کو چرواہے کی طرف لے جاؤں، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے، میں تو وہاں سے گزرگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز نہ پڑھی، جب میں اونٹوں کو آگے بڑھا کر واپس لوٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلا دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے فلاں! جب تو ہمارے پاس سے گزرا تھا تو کس چیز نے تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے گھر میں نمازپڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ (تو گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، لیکن جب امام کے ساتھ نماز مل جائے تو دوبارہ پڑھ لیا کر)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، وانظر الحديث السابق: 1497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18049»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2686
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ عَلَى فَخِذِكَ وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ: ( (صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ وَلَا أُصَلِّي) )
ابوالعالیہ براء کہتے ہیں: ایک دن ابن زیاد نے نماز کو مؤخر کیا، میرے پاس عبد اللہ بن صامت آئے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھی اور وہ اس پر بیٹھ گئے، پھرمیں نے ان سے ابن زیاد کی یہ تاخیر ذکر کی، انہوں نے جواباً اپنے ہونٹ پر کاٹا اور میری ران پر ہاتھ مارا اور کہا: جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا اور انہوں نے بھی میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا، جیسے میں نے تیری ران پر ہاتھ مارا ہے اور کہا تھا: بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تیرے سوال کی طرح سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ران پر مارا تھا جیسے میں نے تیری ران پر مارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا، لیکن اگر تو ان (حکمرانوں) کے ساتھ بھی نماز کو پا لے تو پھر نماز پڑھ لینا اور یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، اس لیے میں نہیں پڑھتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21753»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 648
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2687
عَنْ أَبِي أُبَيِّ بْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يُؤَخِّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا مَعَهُمْ أُصَلِّي؟ قَالَ: ( (إِنْ شِئْتَ) ) )
سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران ہوں گے، جن کو دوسرے امور نمازوں سے مشغول کردیں گے یہاں تک کہ وہ اِن کو ان کے اوقات سے مؤخر کر دیں گے، (ایسی صورت میں) تم لوگ نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اورپھر ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفل قرار دینا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر اگر میں ان کے ساتھ نماز پالوں تو (دوبارہ) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے (تو پڑھ لینا)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ((ان شئت))، وھذا اسناد ضعيف، ابو المثني مجھول أخرجه ابوداود: 433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23169»

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ((ان شئت))
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثُمَّ نُصَلِّي مَعَهُمْ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ: وَهَٰذَا هُوَ الصَّوَابُ
(دوسری سند) اسی طرح کی مروی حدیث میں ہے: ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پھر ہم ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد علیہ السلام) نے کہا: اور یہ ہی بات درست ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، ابو المثني مجھول أخرجه عبد الرزاق: 3782، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23066»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ الْجَمْعِ فِي مَسْجِدٍ مَرَّتَيْنِ وَحَدِيثُ لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ
مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2689
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ يَتَّجِرُ عَلَى هَٰذَا أَوْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَٰذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ؟) ) قَالَ: فَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی،اس کے بعد جب ایک آدمی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اس سے تجارت کرے یا صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے؟ پھر ایک آدمی نے اس کے ساتھ نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 220، وابوداود: 574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11019، 11613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11032»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 220
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2690
عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ بِالْبَلَاطِ وَالْقَوْمُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ، قُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ أَوِ الْقَوْمِ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ) )
سلیمان کہتے ہیں: میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ بلاط نامی جگہ پر تھے اور لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ کو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ایک نماز کو دن میں دو مرتبہ نہ پڑھا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 579، والنسائي: 2/ 114، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4689»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 579
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمَسْبُوقُ
جس سے کچھ نماز رہ گئی ہو، وہ کیا کرے؟ اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2691
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِهِ سَأَلَهُمْ فَأَوْمَأُوا إِلَيْهِ بِالَّذِي سُبِقَ بِهِ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَبْدَأُ فَيَقْضِي مَا سُبِقَ ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ، فَجَاءَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلِ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ فِي صَلَاتِهِمْ فَقَعَدَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا كَانَ سُبِقَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اصْنَعُوا كَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ) )
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جب کسی آدمی سے کچھ نماز رہ جاتی تو وہ آکر (پہلے والے نمازیوں)سے سوال کر لیتا (کہ کتنی رکعتیں پڑھی جا چکی ہیں)، وہ اس کو اشارے سے بتا دیتے، پھر وہ شروع ہوتا اور پہلے اُتنی رکعتیں پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتا۔ ایک دن یوں ہوا کہ میں (معاذ) آیا اور لوگ نماز (کے تشہد) میں بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی بیٹھ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا جو (رکعتیں) رہ گئی تھیں، وہ پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس طرح معاذ نے کیا ہے تم بھی (آئندہ) ایسے ہی کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، غير أن ابن ابي ليلي لم يسمع من معاذ أخرجه مطولا ابوداود: 506، وأخرجه الترمذي بلفظ: قال رسول الله V: اذا اتي احدكم الصلاة والامام علي حال فليصنع كما يصنع الامام۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22033، 22124) ابوداود كي طويل حديث كو امام الباني k نے صحيح كها۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22383»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَمَعِي الْإِدَاوَةُ قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ يَعْقُوبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَغْسِلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجَهُمَا مِنْ كُمِّ جُبَّتِهِ، فَضَاقَ عَنْهُ كُمُّهَا فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَمَسَحَ بِخُفَّيْهِ وَلَمْ يَنْزَعْهُمَا، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى النَّاسِ فَوَجَدَهُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَى بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: ( (أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ) ) يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر میری طرف لوٹے، میرے پاس ایک چھوٹا سا برتن تھا، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی بہایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی ڈال کر ناک صاف کیا، یعقوب راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلی کی، اس کے بعد چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبّہ کی آستینوں سے ہاتھ نکالے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بازوؤں کو دھونا چاہا، لیکن آستینیں تنگ تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھوں کو جبہ (کے اندر) سے نکال کر پہلے تین دفعہ دایاں اور پھر تین دفعہ بایاں ہاتھ دھویا، پھر موزوں کا مسح کیا اور ان کو نہ اتارا، پھر وہ دونوں لوگوں کی طرف آئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر دیا تھا، وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پا لی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے اور کثرت سے تسبیح بیان کی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو ان پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا ہے اور درست کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام سے رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اول وقت میں ادا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه أحمد في ’’مسنده‘‘ مطولا ومختصرا في عدّة أماكن، ولم نحط تخريجه ھنا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18134) أخرجه البخاري بذكر الوضوئ: 388، 2918، 5798، وأخرجه مختصرا من رواية احمد مسلم: 274، وأخرجه ابوداود: 149، وأخرجه بعضه ابن ماجه: 1236، والنسائي: 1/76، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18172، 18175، 18190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18359»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه أحمد في ’’مسنده‘‘ مطولا ومختصرا في عدّة أماكن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2693
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ:) ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً فَذَهَبْتُ لِأُؤْذِنَهُ فَنَهَانِي (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا (وَفِي لَفْظٍ) فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا
(دوسری سند، سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:)پھر ہم لوگوں کو جا ملے اور دیکھا کہ نماز کھڑی کردی گئی تھی اور سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی امامت کرا رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، میں ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتانے کے لیے جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کردیا، پس ہم نے جتنی نماز پالی اس کو پڑھا اور جو رہ گئی تھی، اس کو بعد میں ادا کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: جس رکعت کو ہم نے پالیا اس کو پڑھ لیا اور جو رکعت رہ گئی تھی، اس کو (بعد میں) پورا کرلیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18347»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2694
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ أَيْضًا وَفِيهِ قَالَ الْمُغِيرَةُ) فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ وَقَالَ: ( (قَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ) )
(تیسری سند، اسی طرح حدیث مروی ہے، اس کے مطابق سیّدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:)پس جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کو ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ نماز کو پورا کریں اور (بعد میں) فرمایا: تونے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18356»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18356
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں