الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2675
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10709»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10709
حدیث نمبر: 2676
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ: ( (بِأَيِّ صَلَاتِكَ احْتَسَبْتَ بِصَلَاتِكَ وَحْدَكَ أَوْ صَلَاتِكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا) )
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبح کی نماز کھڑی کر دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) اس سے پوچھا: تو نے کون سی نماز کو فرض نماز سمجھا ہے، اکیلی نماز کو یا اس نماز کو جو ہمارے ساتھ پڑھی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21058»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 712
حدیث نمبر: 2677
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلِ وَقَدْ أُقِيمَ فِي الصَّلَاةِ ’’وَفِي رِوَايَةٍ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ‘‘ وَهُوَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: ( (يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ أَرْبَعًا) )
عبد اللہ بن مالک (ابن بحینہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ اقامت کہہ دی گئی تھی، اور وہ فجر کی دو سنتیں پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کچھ فرمایا، لیکن ہم نہ سمجھ سکے۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے اس آدمی کو گھیر لیا اور اسے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کیا فرمایاتھا؟ اس نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایاتھا کہ قریب ہے کہ تم میں سے کوئی ایک فجر کی نماز کی چار رکعت پڑھنی شروع کردے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 663، ومسلم: 711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23314»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 663
حدیث نمبر: 2678
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي يُطَوِّلُ صَلَاتَهُ أَوْ نَحْوَ هَٰذَا بَيْنَ يَدَيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَجْعَلُوا هَٰذِهِ مِثْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، اجْعَلُوا بَيْنَهُمَا فَصْلًا) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ نماز فجر سے پہلے طویل نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اس نماز کو ظہر کی طرح نہ بنا دو، بلکہ اِن دو کے درمیان فاصلہ رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح ان كان محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سمعه من ابن بحينة، ففي القلب من سماعه شيء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23315»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ان كان محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سمعه من ابن بحينة
حدیث نمبر: 2679
عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (يَعْنِي الصَّلَاةَ) لَاثَ بِهِ النَّاسُ فَقَالَ: ( (الصُّبْحَ أَرْبَعًا) )
مالک بن بحینہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی، لیکن اس نے فجر کی دو سنتیں پڑھنا شروع کر دیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے تو لوگوں نے اسے گھیر لیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو نے نماز فجر کی چار رکعتیں پڑھی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 663، ومسلم: 711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22921، 22928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23316»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 663
حدیث نمبر: 2680
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ وَابْنُ الْقِشْبِ يُصَلِّي، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَهُ وَقَالَ: ( (يَا ابْنَ الْقِشْبِ! أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا أَوْ مَرَّتَيْنِ؟) ) ابْنُ جُرَيْجٍ يَشُكُّ
سیّدنا عبد اللہ بن مالک (ابن بحینہ) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے اور سیّدنا ابن قِشب نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابن قِشب! کیا تو صبح کی نماز چار رکعت یا دو دفعہ پڑھ رہا ہے؟ یہ شک ابن جریج کو ہوا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2680]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 915، والبيھقي: 2/ 482، وأخرجه مرسلا ابن ابي شيبة: 2/ 252، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23322»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 915
حدیث نمبر: 2681
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ فَقَالَ: ( (أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا؟) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:صبح کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، ایک آدمی کھڑا ہوا اوردو سنتیں پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کے کپڑے کے ذریعے کھینچا اورفرمایا: کیا تو صبح کی نماز کی چار رکعت پڑھ رہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/253، والطيالسي: 2736، وابن حبان: 2469، والطبراني: 11227، والحاكم: 1/ 307، والبيھقي: 2/ 482، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2130»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/253
48. بَابُ مَنْ صَلَّى ثُمَّ أَدْرَكَ جَمَاعَةً فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُمْ نَافِلَةً
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
حدیث نمبر: 2682
عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا أَوِ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: ( (ائْتُونِي بِهَٰذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ) ) ، فَأُتِيَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: ( (مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟) ) قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ: ( (فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةً) ) ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، قَالَ: وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُهُ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ
سیّدنا یزید بن اسود کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور جب لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے تو دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو آدمی بیٹھے ہیں، انھوں نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ ان دونوں آدمیوں کو لایا گیا، جبکہ ان کے شانوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا تھا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آئندہ ایسے نہ کرنا اور جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں نماز پڑھ لے اور پھر وہ امام کے ساتھ نماز کوپالے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیا کرے، یہ اس کے لیے نفل بن جائے گی۔ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے استغفار کیا۔ پھر لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھے اورمیں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں بہترین جوان اور قوی تھا، اس لیے میں لوگوں کو ہٹاتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے عمدہ اور ٹھنڈی ہو، اس دن آپ (منی میں) مسجد خیف میں تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2682]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي عاصم في ’’الآحادي والمثاني‘‘: 1463، وأخرج الشطر الأول الطبراني: 22/ 613، والشطر الثاني: 22/ 619، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17615»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي عاصم في ’’الآحادي والمثاني‘‘: 1463
حدیث نمبر: 2683
عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَلَسْتُ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لِي: ( (أَلَسْتَ بِمُسْلِمٍ؟) ) قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ( (فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، قَالَ: ( (فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَلَوْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فِي أَهْلِكَ) ) )
سیّدنا محجن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن میں بیٹھا رہا (اور نماز نہ پڑھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو مسلمان نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکے رکھا؟ میں نے کہا: جی، میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے ساتھ نماز پڑھا کر۔ اور ایک روایت میں ہے: جب تو آئے تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ لیا کر، اگرچہ تو اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2683]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف، بسر بن محجن غير معروف أخرجه النسائي: 2/ 112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16393، 16395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16506»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 2684
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ مِحْجَنًا كَانَ فِي مَجْلِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟) ) وَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
(دوسری سند)سیّدنا محجن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں تھا، جب نماز کے لیے اذان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو دیکھا کہ محجن اسی جگہ میں بیٹھا ہوا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ہے،کیا تو مسلمان نہیں ہے۔ … …۔ (سابقہ حدیث کی طرح) [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2684]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأولي۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16509»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأولي۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16509