الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ هَلْ يَأْخُذُ الْقَوْمُ مَصَافَّهُمْ قَبْلَ الْإِمَامِ أَمْ لَا
کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
حدیث نمبر: 2666
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ أَوْ كَادَ يَنْعُسُ بَعْضُ الْقَوْمِ
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی سے سرگوشی کرتے رہے، (اور نماز کے لیے نہ آئے) حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے یا قریب تھا کہ وہ اونگھنے لگ جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12152»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12152
حدیث نمبر: 2667
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قِيَامًا (وَفِي رِوَايَةٍ: قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے سے پہلے صفیں برابر ہو گئیں،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ واپس لوٹ گئے۔ جب غسل کر کے تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2667]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 275، ومسلم: 605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10730»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 275
43. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّفِّ بَيْنَ السَّوَارِي لِلْمَأْمُومِ
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2668
عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا أَوْ تَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نَتَّقِي هَٰذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد الحمید بن محمودکہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ والے دن نماز پڑھی، پس ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا، لیکن ہم پیچھے کو ہو گئے تھے یا آگے کو، پھر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ستونوں سے بچ کر کھڑے ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 673، والترمذي: 229، والنسائي: 2/ 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12364»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 673
44. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کا نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2669
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: أَرَانِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ شَيْخًا بِالْجَزِيرَةِ يُقَالُ لَهُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: فَأَقَامَنِي عَلَيْهِ وَقَالَ هَٰذَا حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا صَلَّى فِي الصَّفِّ وَحْدَهُ فَأَمَرَهُ فَأَعَادَ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَقُولُ بِهَٰذَا الْحَدِيثِ
ہلال بن یساف کہتے ہیں: ایک جزیرے میں زیاد بن ابی الجعد نے مجھے ایک بوڑھا آدمی دکھایا، اس کو وابصۃ بن معبد کہتے تھے، انہوں نے مجھے اس بزرگ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: اس شخص نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صف میں اکیلا نماز پڑھتے دیکھا اور اس کو نمازلوٹانے کا حکم دیا، پس اس نے نماز دوبارہ پڑھی۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد بن حنبل) بھی اسی حدیث (میں مذکورمسئلہ) کے قائل تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 231، وابوداود: 682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18000، 18007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18170»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 231
حدیث نمبر: 2670
عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ صَلَّى خَلْفَ الصُّفُوفِ وَحْدَهُ، فَقَالَ: ( (يُعِيدُ الصَّلَاةَ) )
سیّدنا وابصۃ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو صفوں کے پیچھے اکیلا نماز پڑھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز کو لوٹائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18167»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق: 1486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18167
حدیث نمبر: 2671
عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ فَوَقَفَ حَتَّى انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ، فَلَا صَلَاةَ لِرَجُلٍ فَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ) )
سیّدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر گئے، حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہوگیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز دوبارہ پڑھ، کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24293»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1003
45. بَابُ مَنْ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَيْهِ
اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
حدیث نمبر: 2672
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ هَٰذَا الَّذِي رَكَعَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ؟) ) فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ) )
جب سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے صف کے پیچھے سے ہی (نماز شروع کر کے) رکوع کر لیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون آدمی تھا، جس نے پہلے رکوع شروع کیا اور پھرچل کر صف میں شامل ہوا؟ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20457، 20458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20731»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 783
حدیث نمبر: 2673
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ نَعْلِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ يَحْضُرُ يُرِيدُ أَنْ يُدْرِكَ الرَّكْعَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنِ السَّاعِي؟) ) قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا، قَالَ: ( (زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ) )
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20707»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20707
46. باب
جماعت کے احکامات کے متعلق بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: Q2674]
47. بَابُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2674
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ’’وَفِي لَفْظٍ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ‘‘) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اقامت کے بعد فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: مگر وہ نماز جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجماعة/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8361»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 710