🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهَيْئَاتِهِمَا وَآدَابِهِمَا وَالْجُلُوسِ بَيْنَهُمَا
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2785
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ) ) ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: ( (أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ) ) ، وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے:تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا۔قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گی اور شام کو آ جائے گی، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثاء) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے۔ ضَیَاع سے مراد مسکین اولاد ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14386»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 867
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2786
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ، قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ) )
سیّدنا عدی بن حاتم طائی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خطاب کیا اور کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، تحقیق وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی، تحقیق وہ گمراہ ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: توبرا خطیب ہے، یہ کہہ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18436»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 870
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2787
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2787]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11283»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2788
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2788]
تخریج الحدیث: «حسن، ومدلسا ھذا السند توبعا أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 113، وأبويعلي: 2490، والطبراني: 12091، والبزار: 640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2322»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2789
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَرَّتَيْنِ بَيْنَهُمَا جَلْسَةٌ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن دو مرتبہ خطبہ ارشاد فرماتے اور ان کے درمیان ایک مرتبہ بیٹھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2789]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 920، 928، ومسلم: 861، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4919»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 920
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2790
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ) ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَي صَلَاةٍ
(دوسری سند)بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2790]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21131»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21131
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2791
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: نَبَّأَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ يَجْلِسُ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ) ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: فَمَنْ نَبَّأَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَي صَلَاةٍ
سماک بن حرب کہتے ہیں: سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر بیٹھ گئے اور اس بیٹھک میں کوئی کلام نہ کی، پھر کھڑے ہوئے (دوسرا) خطبہ دیا۔ پھر سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: جس نے تجھے یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، تو یقینا اس نے جھوٹ بولا ہے، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2791]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21131»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 862
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2792
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ فَقَدْ كَذَبَ) قَالَ: وَلَٰكِنَّهُ رُبَّمَا خَرَجَ وَرَأَى النَّاسَ فِي قِلَّةٍ فَجَلَسَ ثُمَّ يَثُوبُونَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا
(دوسری سند) اس میں اس نے یقینا جھوٹ بولا کے بعد یہ الفاظ ہیں: لیکن بسا اوقات ایسے ہوتا کہ آپ تشریف لاتے اور دیکھتے کہ لوگ کم ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ جاتے، حتی کہ لوگ مسجد میں آتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2792]
تخریج الحدیث: «اس سند كے ساتھ مروي زائد الفاظ ضعيف هے، كيونكه سليمان بن قرم ضعيف هے۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21112»

الحكم على الحديث: اس سند كے ساتھ مروي زائد الفاظ ضعيف هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2793
(وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:) مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطُّ يَخْطُبُ فِي الْجُمُعَةِ إِلَّا قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ جَلَسَ فَكَذِّبْهُ فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ، كَانَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا فِي الْجُمُعَةِ
سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دیتے ہوں، مگر کھڑے ہو کر، اس لیے جو شخص تجھے یہ بیان کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو تو اسے جھٹلا دے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ میں دو خطبے ارشاد فرماتے اور اِ ن دو کے درمیان بیٹھتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2793]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وانظر: 1590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21155»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2794
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا وَبِهَٰذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز بھی درمیانی ہوتی تھی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا۔ اسی سند کے ساتھ وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو خطبے دیا کرتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2794]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وانظر: 1590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21170»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں