🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهَيْئَاتِهِمَا وَآدَابِهِمَا وَالْجُلُوسِ بَيْنَهُمَا
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2795
عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا) )
ابووائل کہتے ہیں: سیّدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، وہ بہت بلیغ اور مختصر تھا، پس جب وہ منبر سے اتر ے تو ہم نے کہا: اے ابوالیقظان! یقینا آپ نے بہت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے، تھوڑا سا لمبا کردیتے، انہوں نے جواباً کہا: دراصل میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا چھوٹا ہونا اس کے سمجھدار ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے تم لوگ نماز کو لمبا اور خطبہ کو مختصر کیا کرو، بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2795]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18507»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2796
عَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَتَجَوَّزَ فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لَقَدْ قُلْتَ قَوْلًا شِفَاءً فَلَوْ أَنَّكَ أَطَلْتَ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نُطِيلَ الْخُطْبَةَ
ابوراشد کہتے ہیں: سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مختصرسا خطبہ دیا۔ ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: آپ نے (دلوں کو متأثر کرنے والی) بہت اچھی باتیں کی ہیں، لیکن اگر اس خطاب کو کچھ لمبا کر دیتے (تو بہتر تھا)۔ انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ کو لمبا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث: «يه سند ضعيف هے، اس كي سند ميں ابو راشد راوي مجهول هے، ليكن گزشته احاديث كا مفهوم يهي هے كه طويل خطبه سے اجتناب كيا جائے۔ أخرجه أبوداود: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19095»

الحكم على الحديث: يه سند ضعيف هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2797
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكُلَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَيْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَٰكَ دُونٌ، قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ قَالَ عَلَى عَصًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا) )
سیّدنا حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ، جن کو صحابیت کا شرف حاصل تھا، نے ہمیں بیان کرتے ہوئے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ میں (اپنے وفد کا) ساتواں یا نواں فرد تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اجازت دی، پس ہم داخل ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے خیر کی دعا کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے خیر کی دعا کی اور ہمارے بارے میں حکم دیا کہ ہمیں ایک مقام پر اتارا جائے اور کھجوروں کے ساتھ ہماری ضیافت کی جائے، جبکہ لوگوں کے حالات بھی تنگ تھے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ دن کے لیے ٹھہرے رہے، اس دورانیے میں ہم نے جمعہ بھی ادا کیا،(ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کما ن یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، بس یہ چند بابرکت اور پاکیزہ کلمات تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم (تمام احکام پر) ہر گز عمل نہیں کر سکو گے، اس لیے راہِ مستقیم پر چلتے رہو اور (لوگوں کو) خوشخبریاں سناتے رہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2797]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي أخرجه أبويعلي: 6826، والبيھقي في ’’دلائل النبوة‘‘: 5/ 354، وابن عساكر في ’’تاريخ دمشق‘‘: 8/ ورقة 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17856)۔ أخرجه أحمد: 3/394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18011»

الحكم على الحديث: اسناده قوي أخرجه أبويعلي: 6826
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2798
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ (بْنِ عَازِبٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمان یالاٹھی پر ٹیک لگا کر خطبہ دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2798]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضيعف من أجل أبي جناب أخرجه أبوداود: 1145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18490، 18712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18919»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِشْرٌ يَخْطُبُنَا فَلَمَّا دَعَا رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ عُمَارَةُ: يَعْنِي قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ أَوِ الْيَدَيَّتَيْنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ إِذَا دَعَا يَقُولُ هَٰكَذَا، وَرَفَعَ السَّبَّابَةَ وَحْدَهَا
حصین بن عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: میں سیّدنا عمارہ بن رؤیبہ سلمی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا، جبکہ بشر خطبۂ جمعہ دے رہا تھا، جب وہ دعا کرتا تو دونوں ہاتھ اٹھاتا تھا، یہ دیکھ کر سیّدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان حقیر سے ہاتھوں کو برباد کرے، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرتے تو اس طرح کرتے تھے، پھر انھوں نے انگشت ِ شہادت بلند کر کے وضاحت کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17219، 17224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17356»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 874
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2800
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ تُنُّورُنَا وَتُنُّورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ وَمَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ بِهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ
سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: دو سال یا اس سے کچھ کم مدت تک کے لیے ہمارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تنور ایک رہا، میں نے سورۂ ق حاصل نہیں کی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان ِ مبارک سے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تو اس کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2800]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 873، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28003»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 873
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ الْمَنْعِ مِنَ الْكَلَامِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ وَالرُّخْصَةِ فِي تَكَلُّمِهِ وَتَكْلِيمِهِ لِمَصْلَحَةٍ وَجَوَازِ قَطْعِ الْخُطْبَةِ لِأَمْرٍ يَحْدُثُ
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا¤امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2801
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا وَالَّذِي يَقُولُ لَهُ أَنْصِتْ لَيْسَ لَهُ جُمُعَةٌ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2801]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مجالد بن سعيد الھمداني ضعّفه يحيي القطان، وعبد الرحمن بن مھدي و أحمد وغيرھم، ولبعضه شواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2033»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2802
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَيْتَ) ) ، قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا تو تحقیق تو لغو کام کرے گا۔ ابوزناد نے کہا: لَغَوْتَ کو لَغَیْتَ پڑھنا سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2802]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 934، ومسلم: 851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7332، 7686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7328»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ) )
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن یہ کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا اور امام خطبہ دے رہا ہو، پس تحقیق تو نے لغو کام کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9136»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9136
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ) )
(تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو لوگوں سے کہے کہ خاموش ہوجاؤ، تو تحقیق تو نے اپنی جان پر لغو کام کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8218»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں